آگ لگنے سے پیہلے کئی بار عوام نے بجلی محکمہ کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی کوشش کی تھی کیونکہ اس سے پیٓہلے کئی بار 250 کے بی کے اس ٹرانسفارمر سے دھواں نکلتا دکھائی دیا تھا۔ بلکہ لوگوں کا یہ تک کہنا ہے کہ دھواں نکلنا روز کا معمول بن چکا تھا۔

اس مارچ کا اہتمام اس لئے بھی کیا گیا تاکہ محرم اور درگا پوجا میں دونوں مذاہب کو لوگوں میں کوئی تصادم نہ ہو کیوںکہ اس سے پہلے اس طرح کے واقعات ہوچکے ہیں۔ اس موقع پرکھیتاسراۓ تھانیدار مع فورس کے موجود تھے۔

اطلاع کے مطابق مہوارہ خرد کے رہنے والے مہیندر کی 16 سالہ بیٹی پونم انٹر کی طالبہ تھی اور وہ ڈبری کی روشنی سے دیر رات تک پڑھائی کر رہی تھی۔ تبھی تیز ہوا اور بارش کی وجہ سے ڈبری پونم کے کپڑے پر آگ لگ گئی۔

اب سوال یہ ہیکہ جناب امین صاحب محمد ساجد کے اہلِ خانہ کی احساسِ محرومی کا صلہ کون دے گا۔؟حکومت یاپھر دہلی پولس۔

روز سرائے میر سے سینکڑوں نوجوانوں کا ہجوم ایگزیکٹیو انجینئر پھولپور کے پروگرام میں ان سے ملنے کے لئے پہنچے اور مسئلہ کو حل کرنے کی مانگ کی

۔اللہ تعاق لٰی سے رجوع کریں خشوع و خضوع کے ساتھ دعائیں کریں

حکومت ہر صفائی ملازم کو 21900 روپئے تنخواہ دیتی ہے اور ان کا کام یہ واضح طور پر ہے کہ وہ راستوں ، نالیوں اور عوامی جگہوں کی روزآنہ صفائی کریں۔ لیکن گاؤں پردھان ' اے ڈی او اور دوسرے افسران کی ملی بھگت سے صفائی کا کام مشکل سے کسی گاؤں میں روزآنہ انجام پاتا ہوگا۔

مدرسہ کے اساتذہ اور طلبہ کے علاوہ قرب جوار کے لوگوں نے بھی پورے حوصلہ اور جذبہ کے ساتھ کپڑا، غلہ اور نقد روپئے لا کر جمع کئے۔

سموسہ کھانے کا دل تھا، سالوں سے سعودی عرب کا کبشہ “کھپسا” کھا کر زبان زنگ آلود ہو چکی تھی وہاں انڈیا کی طرح کباب ، سموسے ، پکوڑے مشکل سے ہی ملتے ہیں اگر ملتے بھی ہیں تو سموسے میں اوم کار بھیا والا ذائقہ نہیں ہوتا سیدھے مویشی خانہ پر اومکار بھیا کی دوکان پر پہونچا تو سموسہ ختم تھا لیکن

اطلاع کے مطابق تدفین کا عمل کل دوبجے دوپہر میں مولانا ایوب صاحب کے آبائی گاؤں کنورہ گہنی میں انجام پاۓ گا۔

HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2017.