سنجرپور کی عوام نے لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 100 دن سے مسلسل راشن کٹ اور ماسک کی تقسیم کا کام جاری رکھا ہے اور آئندہ بھی اسے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے

والی بال چھوڑنے کے بعد انہوں نے شاعری شروع کردی تھی۔ 2010 میں ان کی شعری کا مجموعہ لہو لہو شائع ہوچکا ہے. حالات پر گہری نظر رکھتے تھے

مرحوم نے ٨٠، ٩٠کی دہائی میں والی بال میں پورے اعظم گڑھ کا نام روشن کیا تھا

سنجر پور ماسک سینٹر سے روزانہ تقریبا 1500 سے 2000 تک ماسک تیار کئے جاتے ہیں اور اب تک تقریبا 26 ہزار ماسک تیار کر کے ضرورت مندوں میں تقسیم کیا جاچکا ہے

لوگوں نے کہا کہ صبح سے ناشتہ تک نہیں ملا ہے جب کہ دوپہر کے ساڑھے بارہ بجنے والے ہیں

بلاک پر انجیکشن نہ ہونے کہ وجہ سے لوگ پریشان ہیں

یہ کام سنجر پور، داؤد پور، خداداد پور کے علاوہ مہذب پور میں تبریز احمد۔ پھریہا میں ابوبکر۔ باری خاص میں راشد پردھان اور ابو عامر نے لوگوں کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے ماسک بانٹنے کا کام شروع کردیا ہے

اس عمر میں بھی اپنی ضروریات از خود پوری کرتی تھیں اور گھر میں چلتی پھرتی تھیں

اتوار کی صبح گاؤں کےمدرسے میں یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کی گھر واپس آئے تو طبیعت خراب ہوئی اور اچانک انتقال ہوگیا

واضح رہے کہ محمد 13 سال کا ہے اور درجہ سات کا طالب علم ہے جب کہ اس کا دوست حلیم 12 سال کا ہے اوروہ پڑھائی چھوڑ چکا ہے۔

HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2021.