؞   خدادادپورفساد: آخر ہم نے کیاسبق سیکھا؟
۹ جون/۲۰۱۶ کو پوسٹ کیا گیا
تحریر: عبد العلی، خدادادپور☆
گزشتہ مہینہ سنجرپور کے پاس خدادادپور میں معمولی جھگڑے نے دیکھتے ہی دیکھتے خطرناک فرقہ وارانہ فساد کی صورت حال اختیار کرلی تھی۔ افواہوں کا بازار کچھ اس طرح گرم ہوا کہ آس پاس دوسرے گاؤوں میں بھی کشیدگی دیکھنے کو ملی ۔اور یہ سلسلہ کئی دن تک جاری رہا۔ اب جب کہ اس حادثہ کو ہوئے دو ہفتے سے زیادہ دن گذر چکے ہیں ۔ پولیس کی دھڑ پکڑ کے علاوہ علاقے میں عموما امن و امان ہے لیکن اہم سوال یہ ہے کہ ہم نے اس حادثے سے کیا سیکھا۔ فرقہ پرست طاقتوں کے حوصلے آج کل ہر جگہ بلند ہیں ، خدانہ خواستہ مستقبل میں اس طرح کی واقع پھر پیش آیا تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہئے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ کبھی بھی انتظا میہ سے مقابلہ آرائی کی کوشش نہ کی جائے لیکن بغیر کسی خوف اور ڈرکے جذبات کو قابو میں رکھ کر اپنی بات انتظامیہ کے سامنے مضبوطی سے رکھنا ضروری ہے۔کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ زیادہ جذباتی ہونے کہ صورت میں نوبت گالی گلوج تک پہنچ جاتی ہے اورایک ہنگامہ کھڑا ہو جاتا ہے ۔خدادادپو میں ایسا ہی ہوا۔ کچھ لوگ اپنی ناسمجھی میں انتظامیہ سے معاملہ کرنے میں زیادہ جذباتی ہوگئے جس کی وجہ سے ایک ہنگامہ برپا ہوگیا اجس میں نہ صرف تقریبا ایک درجن لوگ زخمی ہوگئے بلک 22 لوگوں پر سخت دفعات مین ایف آئی آربھی درج ہوگئی۔
دوسرےیہ کہ ایسے حالات میں افواہوں پر بالکل بھی کان نہ دھرا جائے۔بلا تحقیق کئے کسی بات کو ایک دوسرے سے نہ کہیں نہ ہی سوشل میڈیا ر شیئر کریں۔خدادادپور میں حالات بد تر سے بد تر بنانے میں افواہ ایک خاص وجہ تھی۔اس نے جلتی پر تیل کا کام کیااور ایک گھنٹے کے اندر فساد کو 10 کلومیٹر تک بڑھا دیا۔مسلم علاقوں میں یہ بات پھیلی کہ پولیس بلوائیوں کے ساتھ مل کر خدادادپور کو لوٹ رہی ہے۔اس سےمسلم طبقہ بے چین ہو اٹھا اور جگہ جگہ روڈ جام کر دیا۔اور ہندو گاؤوں میں یہ بات پہنچی کہ مسلم ہندووں کو مار رہے ہیں اوروہ بھی روڈ پر آگئے۔اور مسلم راہگیروں کو نشانہ بنانے لگے۔خان پور کے ایک یادو سے ہم نے پوچھا کہ آپ لوگ کیوں روڈ پر آگئے تھے تو انھون نے کہا کہ ہمارے یہان فون پر فون آرہے تھےکہ مسلم ہندووں کو دورا دوڑا کر مار رہے ہیں اور پھریہا اور شیرواں میں 3۔4۔یادو لوگوں کو جان سے مار دیا ہے۔جب کہ پورے جھگڑے میں ایک بھی ہندو پر ہاتھ نہیں اٹھایا گیا۔وہیں دوسری طرف 10 ۔15 مسلم راہگیروں کو بری طرح مارا گیا۔
اس فساد نے ثابت کر دیاکہ اہک مسلمان کسی بے گناہ پر ہاتھ اٹھانے سے جھجھکتاہے لیکن غیر ان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔
دوسرے اس بات کا احساس بھی بہت اچھی طرح ہوا کہ ایک کلمہ گو کیلئے دوسرے کلمہ گوبھائی کے دل میں کتنی محبت ہے۔ ہمارے لیے لوگوں کی تڑپ دیکھ کر دل احساس تشکر سے بھر گیا۔اطراف کے سارے گاؤوں کے مسلمانوں نے ہماری مدد کے لیے ہمارے یہاں آنے کی جی توڑ کوشش کی۔اور جو تھوڑے دور تھے ان کا فون پر فون آتا رہا۔کہ کوئی بھی انہونی ہو تو فورا اس نمبر پر کال کریں ہم لوگ فوراحاضر ہو جائیں گے۔اور بغل کے ایک گاوں کے زیادہ تر نوجوان 3 دن 3 رات مستقل ہمارے ساتھ رہے
تیسرا سبق یہ ملا کہ ہمیں اپنی حفاظت کے لیے خود پر انحصار کرنا چاہیے ۔کسی سیاسی رہنما سے مدد کی توقع فضول ہے۔جھگڑے والے دن رات 10 بجے کے بعدروڈ پر جب پولیس والے ایک مسلمان کے گھر کے دروازے کو توڑ رہے تھےاورآواز گاؤں تک آرہی تھی۔فائرنگ اور لاٹھی چارج سے لوگ ڈرے ہوئے تھے۔اور تب تک روڈ پورا پولیس چھاونی میں تبدیل ہو چکا تھا۔آواز سنتے ہی لوگوں مین ایک بے چینی سی دوڑ گئی لیکن کسی کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ ان کی مدد کے لئے روڈپر جائیں۔لوگ نیتاؤں کے یہان فون کرنے لگے۔ہر پارٹی کے نیتا کے یہاں کال کی گئی لیکن کوئی آنے کو تیار نہیں ہوا۔صرف دلاسہ دیا کہ ڈی ایم سے بات ہو رہی ہے۔کسی نے کہا کہ ہم وزیر اعلی ٰسے رابطے میں ہیں۔مایوس ہو کر مسجد مین اعلان کروایا گیا کہ سب لوگ روڈ پر پہنچے ۔30۔40 نوجوان تیار ہوے اور شور مچاتےہوے اپنی جان پر کھیل کرروڈ کی طرف دوڑے پولیس والے گھبرا کر بھاگ کھڑے ہوے۔جب مذکورہ گھر میں داخل ہوے تو بہت ہی دردناک منظر سامنے تھا۔گھرکا دروازہ، وہاں کھری ہوئ ایک 4 پہیہ گاڑی ٹوٹے پڑے تھے۔ گھر کے اندر سارے الیکٹرانک سامان ٹوٹے اور بکھرے پڑے تھے۔اور گھر کی عورتیںاور بچے ڈر اور خوف کی حالت میں ایک کونے میں کھڑے کانپ رہے تھے۔پولیس کی غنڈی گردی کی ایک اعلٰی مثال سامنے تھی۔پولیس گھر والوں کے سامنے 2 نوجوان کو بری بے دردی سے مارتے ہوئے لے جا چکی تھی۔خیر ان لوگون نے عورتوں اور بچوں کو ساتھ لےکر گاؤں کےاندر آگئے۔
اس تجربے نے بارہا اس بات کا بھی احساس دلایا کہ ہر گاؤں میں وہاں کے لوگوں کی ایک تنظیم ہونی ضروری ہے۔جو کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو۔قانونی معاملات دیکھے اور جو لوگ قانونی شکنجے مین پھنسے ہیں ان کے گھر کی دیکھ ریکھ کرے۔
مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔☆

2 لائك

0 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
Commented on : 2016-06-03 22:24:16
Haji mohiuddin khan : یہی اسلامی اصول بھی ہے کہ " واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا "

مگر افسوس کہ علاقے میں مسلمان مختلف سیاسی پارٹیوں میں منقسم ہوکر اپنی اپنی سیاسی روٹیاں سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ صرف ذاتی مفاد کے لئے -

میں نے منگرواں / اعظم گڈھ کے سابق اتر پردیش کے صوبائی کابینی وزیر و سابق ممبر آف پارلیمنٹ مرحوم مولوی مسعود صاحب " رحمة الله عليه " کو خود دیکھا ہے جو خود منجھے ہوئے سیاست دان تھے مگر ایسے مواقع پر وہ سیاست سے ہٹ کر قوم و ملت کے لئے پہل کردیتے تھے انہیں اس بات کی پرواہ نہیں رہتی تھی کہ انکی پارٹی کی ہائی کمان کہیں پارٹی سے نکال نہ دے -

لہذا ایسے نازک مواقع پر کئی اضلاع کے مسلمان میں بہت ہی مقبول و محبوب تھے اور علاقے کے تمام مسلم جو مختلف جماعت سے منسلک رہتے ہوئے بھی ان کو اجتماعی طور پر قائد مان کر ساتھ دیتے رہے مگر افسوس کہ آج قیادت کا فقدان ہے سبھی لوگ اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر اس میں مگن ہیں اور سانحہ خداداد پور اسی کا نتیجہ ہے -

تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2017.