؞   ظفر زاہدی صاحب کی وفات سے اردو صحافت کا ناقابل تلافی نقصان
۲۱ جنوری/۲۰۱۶ کو پوسٹ کیا گیا
دہلی/پھریہا (ابوزید/حوصلہ نیوز) : ممتاز صحافی ظفر زاہدی کے انتقال سے جہاں ان کے آبائی وطن پھریہا اور اعظم گڑھ میں لوگ غم زدہ ہیں وہیں اہل صحافت بھی اسے اردو صحافت کے ایک بڑے خسارہ مان رہے ہیں اور ان کی وفات پر رنجیدہ ہیں۔
سینئر صحافی جلال الدین اسلم صاحب نےحوصلہ نیوز کو بتایا کہ ظفر صاحب کو شروع ہی سے لکھنے کا شوق تھا۔روزنامہ قائد کے ایڈیٹر محفوظ الرحمن صاحب کی قیاد ت میں انہوں صحافت کا ہنر سیکھا اور پھر سہ روزہ دعوت میں محمد مسلم صاحب اور محفوظ الرحمن کے زمانے میں باقائدہ طور پراپنےکیرئر کا آغاز کیا۔ پھر قومی آواز میں چیف سب ایڈیٹر کی حیثیت سے آپ کی تقرری ہوئی۔جب اخبار مشرق کلکتہ سے دہلی آیا تو آ پ اس سے وابستہ ہوگئے اور اس کے بعد فیصل جدید و دیگر اردو روزناموں سے منسلک رہے۔وفات سے قبل وہ اردو روزنامہ راشٹریہ سہاراسے وابستہ رہے۔ پہلے گورکھپور ایڈیشن کی ادارت کی ذمہ داری سنبھالی پھر کانپور ایڈیشن کی۔
ظفر زاہدی صاحب نے دوسرے اخبارات میں کام کرنے کے علاوہ اپنے اخبارات بھی نکالے جس میں روزنامہ بنیاد، لکھنؤ، روزنامہ انجام دہلی اور روزنامہ چٹان قابل ذکر ہیں۔
ظفر زاہدی صاحب کی ادارت میں کام کرنے والے مشہورصحافی اور روزنا مہ اردو ٹائمز ممبئی کے سابق اڈیٹر عالم نقوی نے حوصلہ نیوز کو بتایا کہ ظفر صاحب اردو اخبار کے ہر کام سے نہ صرف واقف تھے بلکہ ماہر بھی تھے۔وہ نہایت متحمل مزاج اور سنجیدہ قسم کے آدمی تھے۔
ارنولہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے شفیق احمد صاحب جوکہ قومی آواز میں کتابت اور گرافکس کے شعبے میں تھے ،نے حوصلہ نیوز سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ظفر صاحب جب قومی آواز کے نیوز اڈیٹر تھے وہ بھی اس وقت قومی آواز میں تھے۔ان کے مطابق اس وقت ظفر زاہدی جیسے تجربہ کار اور فعال صحافی دہلی میں کم ہی تھے۔ وہ نہایت بااخلاق، نیک طبیعت اور ملنسار آدمی تھے۔شفیق صاحب کے بقول ظفر زاہدی صاحب مزاج کے اتنے دھنی تھے کہ جو کام ٹھان لیتے تھے وہ کرکے ہی چھوڑتے تھے چاہے اس میں ان کا نقصان ہی کیوں نہ ہو۔
سنجرپورسے تعلق رکھنے والے حقو ق انسانی کارکن مسیح الدین سنجری نے زاہدی صاحب کے انتقال پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ظفر صاحب کا نام اعظم گڑھ میں اردو صحافت کے ایک معتبر نام کے طور پر جانا جاتا تھا۔وہ اعظم گڑھ میں زیادہ تو نہیں رہے لیکن اعظم گڑھ ان کی خدمات کو سراہتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ بڑے متحمل مزاج اورسلجھے قسم کے آدمی تھے۔چھوٹی موٹی باتوں کو بھی غور سے سنتے تھے اور کسی کی بات نظر انداز نہیں کرتے تھے۔
جناب ظفر زاہدی کا تعلق پھریہا سے تھا اور وہ لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبہ عربی کے سابق صدر ڈاکٹر عبید اللہ فراہی کے بھائی اورمفسر قران علامہ حمید الدین فراہی کے پوتے تھے۔ انہوں نے زندگی کا بیشتر حصہ صحافت کی خدمت میں لگایا۔ کئی روزناموں سے وابستہ رہے اور انتقال سے کچھ ماہ قبل راشٹریہ سہارا کانپور ایڈیشن کے ریزڈنٹ ایڈیٹرکی حیثیت سے سبکدوش ہوئے تھے۔
چند دن پہلےسے ان کو سینے میں درد کی شکایت تھی ۔دوشنبہ کواعظم گڑھ شہر میں علاج کے لئے ایک اسپتال میں داخل کیا گیا لیکن ڈاکٹروں نے بنارس لے جانے کا مشورہ دیا لیکن بنارس کے راستے ہی میں ان کا انتقال ہوگیا۔
آپ کی ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب میں ہوئی تھی اس کے بعد مدرسۃ الاصلاح اور ندوۃ العلماء لکھنؤ میں آپ نے تعلیم حاصل کی اور پھر لکھنؤ یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔

0 لائك

0 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

1 افسوس

0 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2017.