؞   تحریک آزادی ہند میں مئو کا ناقابل فراموش کردار
۵ ستمبر/۲۰۱۵ کو پوسٹ کیا گیا
تحریر: ظہیر حسن ظہیر ریسرچ اسکالر ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی( حوصلہ نیوز )
ہندوستان کے دوسرے شہروں کی طرح مئو ناتھ بھنجن کا بھی جنگ آزادی میں نمایاں کردار رہا ہے۔ اور اس شہر کے لوگوں نے بھی ہندوستان کے دوسرے باشندوں کی طرح اپنی حب الوطنی کا ثبوت فراہم کیا ہے۔
جب گاندھی جی نے 1942 میں بھارت چھوڑو آندولن کے نام سے تحریک شروع کی اور کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوئے ۔ چنانچہ اس کا اثر مئو ناتھ بھنجن پر بھی ہوا۔ اس زمانے میں عوام کے ساتھ ساتھ طالب علموں نے بھی اپنی بہادری کا مظاہرہ کیا۔
جن طلبہ نے اس پر آشوب ہنگامہ میں اپنی دلیری کا مظاہرہ کیا ان میں اردو کے معروف شاعر ابوبکر اثر انصاری کا نام کافی نمایاں رہا ہے۔ انہوں نے اپنی نظم ' نوجوانوں تمہیں دے رہا ہوں پیام بغاوت' سے نوجوانوں کے اندر جوش و جذبہ بھرا۔
اس کے علاوہ ماسٹر حبیب اللہ اعظمی ، ہری ہر سنگھ ، کامریڈ خیر البشر (سابق ایم ایل اے)، مارکنڈے سنگھ (سابق لیفٹیننٹ گورنر دہلی) ، مولانا عبد الطیف نعمانی جیسے لوگوں نے جنگ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
ایک اور شخص جس نے انگریزوں سے لوہا لیا اور اس راہ میں اپنی جان بھی لٹا دی، وہ قابل ذکر نام دکھنی رام بڑھئی کا ہے ۔ ان کی قبر مئو کی سندھی کالونی میں ہے جہاں ہر سال یوم آزادی کے موقعہ پر پرچم کشائی ہوتی ہے۔
اس طرح ان جانبازوں کی بدولت مئو ناتھ بھنجن جنگ آزادی کی تحریک میں شامل ہوگیا اور تمام مجاہدین آزادی کی قربانیاں رنگ لائیں اور ہمارا ملک 14 اگست 1947کو انگریزوں کے تسلط سے آزاد ہوگیا اور ہم جشن آزادی منا رہے ہیں۔

1 لائك

0 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2017.