؞   اعظم گڑھ: آم ہوا بےدام
۷ جولائی/۲۰۲۰ کو پوسٹ کیا گیا

اعظم گڑھ (ابوزید/ حوصلہ نیوز): پھلوں کا بادشاہ کہا جانے والا پھل آم کا نام سنتے ہی ہر کسی کے منھ میں پانی آنے لگتا ہے۔ لوگوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ کاش آم کا دیدار ہوتا اور پکے، میٹھے اور رسیلے آم کو جی بھر کر کھانے کا موقع ملتا۔ آم تو آم لیکن جب آموں کے بادشاہ دسہری آم کی بات آتی ہے تو کوئی یہ نہیں کہتا کہ میں آم نہیں کھاتا ہوں۔ البتہ مرزا غالب کی زبان میں بات کریں  "گدھے آم نہیں کھاتے " اس کے علاوہ سب کھاتے ہیں۔ "آم تو آم گٹھلیوں کے دام" والا محاورہ بھی تو سنا ہی ہوگا، آم کو تو لوگ مزے لے لے کر کھاتے ہی ہیں اسی کے ساتھ ساتھ اس کی کٹھلیوں سے جہاں بہت ساری دوائیں بنتی ہیں وہیں اس سے اگنے والے امولے سے بچوں کی موسمی پیپہری بھی بنتی ہے جسے بجا بجا کر بچے محلے بھر کے لوگوں کے کان میں دم کئے رہتے ہیں۔ 
کرونا کے چلتے لاک ڈاؤن نے امسال جہاں بہتوں کی زبان سے آم کا ذائقہ چھین لیا ہے تو وہیں کافی لوگ اس سے خوب مزے بھی اڑا رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن نے جہاں لوگوں کی زبان کا ذائقہ بدل دیا ہے وہیں معیشت کی بھی کمر ٹوڑ کر رکھ دی ہے۔ ہر سال لوگ آم کے دنوں میں اچھا کاروبار کرتے تھے اور ایک موٹی رقم ہاتھ لگتی تھی۔ جس سے سال کے بیشتر حصہ کا گزارا ہوا کرتا تھا۔ امسال لاک ڈاؤن کے چلتے آم دوسرے علاقوں میں نہیں پہنچ سکا جس کی وجہ سے اپنے ہی علاقے میں آم ہی آم دیکھنے کو مل رہا ہے۔ 
سرائے میر اور دوسرے بازاروں میں آم فروش آم کے ٹھیلے اور ٹوکریاں لئے ہوئے صدائیں لگا رہے ہیں "آم سو روپہ میں 6 کلو"، "آم سو روپیہ میں 5 کلو"، سننے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آیا یہ آم ایک دم سے خراب قسم کے تو نہیں ہیں لیکن دیکھنے پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ نہیں واقعی یہ عمدہ قسم کے آم ہیں جو آج آلو سے بھی زیادہ سستے بازاروں میں دستیاب ہیں۔ 
پرسہاں گاؤں کے رہنے والے حبیب اللہ جن کی باغ میں 50 سے زیادہ آم کے درخت ہیں جو  ساتھ میں آم کے پودے بھی فروخت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ امسال آم کی بازار میں کوئی قیمت ہی نہیں ہے، آم بے دام ہوگیا ہے جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کے پاس پیسے نہیں کہ وہ آم خرید کر کھائیں۔ مزید کہتے ہیں کہ جو آم بازار میں کم سے کم 35 روپیہ میں فروخت ہونا چاہئے تھا وہ آج 20 روپیہ میں بھی مشکل سے فروخت ہورہا ہے اس کے باجود بھی خریدار نہیں ہیں۔


2 لائك

0 پسندیدہ

3 مزہ آگیا

1 كيا خوب

2 افسوس

0 غصہ


 
hausla.net@gmail.com : ؞ ہم سے رابطہ کریں

تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2020.