؞   والی بال والے نرہو بھیا نہیں رہے
۵ جولائی/۲۰۲۰ کو پوسٹ کیا گیا

تحریر: مسیح الدین سنجری
سنجر پور کے رہنے والے والی بال کے قومی سطح کے کھلاڑی شمیم اختر عرف نرہو بھیا اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ اتوار کی صبح 7 بجے دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے ان کا انتقال ہوگیا۔ ابھی ایک ماہ پہلے ایک حادثے میں ان کا پاؤں زخمی ہوگیا تھا جس کا علاج چل ہی رہا تھا کہ آخری گھڑی آن پہنچی۔ ہماری عمر کے لوگوں نے ان کے کھیل کے عروج کا زمانہ تو نہیں دیکھا لیکن اپنی شاٹ سے بال کو پھاڑدینے کی کہانیاں بہت سنی ہیں لیکن جو کچھ دیکھا ہے وہ اپنے آپ میں کسی یادگار لمحے سے کم نہیں ہے۔ اعظم گڑھ کے کوٹیلا گاؤں میں آل انڈیا والی بال ٹورنامنٹ ہوا تھا۔ یوپی پولیس سے اعظم گڑھ کا مقابلہ تھا۔  یوپی پولیس میں عالمی پیمانے پر بھارت کی نمائندگی کرنے والے رنویر سنگھ بھی تھے۔  رنویر سنگھ نے پہلے ہی نرہو بھیا کا کھیل دیکھا تھا اس لیے وہ پہلے ہی بھیا کے مداح ہوگئے تھے۔  کھیل شروع ہوا شمیم اختر عرف نرہو بھیا کے سامنے دو بلاکر تھے۔  دو تین بال بلاک ہوگئی رنویر سنگھ نے اشارے سے ایک بلاکر کو پیچھے ہٹ جانے کو کہا۔  اپنے دوست اور کھیل کی تہہ تک پہنچ جانے والے اس عظیم کھلاڑی کے تجربات کو دیکھنا چاہتے تھے۔  سامنے سے انہوں نے نرہو بھیا کو کچھ اشارہ بھی کیا. انوں سنگل بلاک اور اشارے کو چیلنج کے طور پر قبول کیا۔  اگلی گیند رنویر سنگھ کے سامنے گری اور اچھلتی ہوئی ان کے سر کے اوپر سے چلی گئی. رنویر سنگھ نے تالی بجائی. نرہو بھیا نے مُسکراتے ہوئی انگلی اوپر اٹھائی اور شاید اشاروں میں یہ کہنے کی کوشش کی کہ شیر بوڑھا ضرور ہوگیا ہے لیکن موقع ملتے ہی شکار پر جھپٹنے میں کوتاہی نہیں کرتا۔  دو عظیم کھلاڑیوں کو اس طرح دیکھ کر تماشگین نے خوب داد دی۔ کھیل ختم ہونے کے بعد دونوں کافی دیر تک بیٹھ کر آپس میں باتیں کرتے رہے۔
کامریڈ ہرمیندر پانڈے جی والی بال کے رسیا تھے۔  ہر ٹورنامنٹ میں تماشگین کے طور پر موجود رہتے تھے۔  صبح میں ان کے بیٹے کامریڈ جتندر ہری پانڈے نے بتایا کہ رات میں والد صاحب سے ان کی لمبی گفتگو ہوئی تھی اور صبح میں اعظم گڑھ والی بال سنگھ کے صدر ان سے ملنے سنجر پور آنے والے تھے۔  جب ہرمیندر پانڈے جی کو ان کے انتقال کی اطلاع ملی تو وہ اپنے آنسو نہیں روک پائے۔ سنجر پور اور اعظم گڑھ کے ایک عظیم کھلاڑی کو آج الوداع کہہ دیا گیا۔  اللہ تعالیٰ ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
والی بال چھوڑنے کے بعد انہوں نے شاعری شروع کردی تھی. 2010 میں ان کی شعری کا مجموعہ لہو لہو شائع ہوچکا ہے. حالات پر گہری نظر رکھتے تھے۔ ایک بند ملاحظہ فرمائیں 
مرے وجود کو ذرے سے مت کرو تعبیر 
مرا  وجود  تمہیں  آسماں بنادے  گا


5 لائك

3 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

6 افسوس

0 غصہ


 
hausla.net@gmail.com : ؞ ہم سے رابطہ کریں

تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2021.