؞   پردیس میں کسب معاش اور موت کی ایک عبرتناک داستان
۲۶ جون/۲۰۲۰ کو پوسٹ کیا گیا

(تحریر: محمد یعقوب اعظمی،  ارنولہ  (مقیم حال ملیشیا 
پوٹریا گاؤں ضلع جونپور کے ایاز احمد نامی ایک پردیسی کا  سعودیہ عربیہ کے شہر ریاض میں انتقال ،  کسب معاش کے لئے 35 سالہ مسلسل جد وجہد اور قربانی کی ایک عظیم مثال ، ایک ایسی المناک داستان  جو ہر پردیسی کے لئے نشان عبرت ہے۔
پڑئے گر بیمار تو کوئ نہ ہو تیمار دار
 اور اگر مرجائیے تو نوحہ خواں کوئ نہ ہو
مرزا غالب نے نہ معلوم اس شعر سے کیا مراد لیا ہے اور کس طرح کی غربت وتنہائ کی خواہش کی ہے.؟  لیکن مجھے لگتا ہے یہ شعر ہر پردیسی کی زندگی کی مکمل ترجمانی ہے ، جب کوئ پردیسی گھر بار اہل وعیال اور وطن عزیز کی مٹی کو چھوڑ کر روزی روٹی کمانے کے لئے باہر نکلتا ہے تو اس کا حال بھی کچھ اسی طرح کا ہوتا ہے ، بیمار پڑتا ہے تو کوئ اپنا تیمار دار نہیں؛ جن کے دیکھنے یا پرشش حال سے ہی آدھا دکھ دور ہوجائے ، غریب بیچارہ ہر آن اپنے دکھ کو خود ہی سمیٹتا ہے اور خود ہی اپنے بوجھل وجود کو تسلی دیتا ہے ، گھر کی ضرورتوں اور گھروالوں کی خواہشات کو دیکھ کر پر عزم ہوتا ہے اپنی بیماری کو حوصلے سے شکست دیتا ہے راحت و آرام ترک کرکے "اچھے دن "  کے انتظار میں عمر عزیز کا اکثر حصہ باہر پردیس کی نذر کردیتا ہے ،  جب گھر واپسی کرتا ہے تو اچھے دن تو نہیں ملتے بلکہ حسرتیں اس کا ہر دن تعاقب کرتی ہیں کبھی ان عظیم قربانیوں کے باوجود گھر والوں کے جملے " آپ نے ہمارے لئے کیا کیا" تیر ونشتر کا کام کرتے ہیں تو کبھی تعلیم وتربیت سے اولاد کی محرومی خون کے آنسو رلاتی ہے. جس کی وجہ سے ڈپریشن  بلڈ پریشر  شوگر ہرٹ اٹیک اور اس جیسی جان لیوا مختلف بیماریوں کا شکار ہوتا ہے بالآخر اچھے دن کے لئے صحت سے لاپرواہی برتتے ہوئے راحت وآرام ترک کرکے جو پونجی جمع کرتا ہے اب اس جمع شدہ مال کو صحت واپس لانے میں لگا دیتا ہے. نتیجۃ نہ تو اچھے دن ملتے ہیں نہ ہی صحت واپس ہوتی ہے۔
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
دکھ کی یہ داستان اس وقت  اور زیادہ بھیانک ہوجاتی ہے جب غریب بیچارہ زندگی کی اس دوڑ دھوپ میں پردیس ہی میں موت کو گلے لگا لیتا ہے ، جسے دفن کے لئے وطن کی دو گز زمیں بھی نہیں ملتی ، اپنا کوئ نہیں ہوتا جو اس کی میت پر چند آنسو بہائے ، اس کو کاندھا دے ، اس کی آخری رسومات ادا کرے۔
عمر بھر مستقل کوششیں زندگی کیسے بہتر بنے
اتنے دکھ زندگی کے لئے اور اسی کا بھروسا نہیں
یقینا موت ہر ایک کو آنی ہے اور یہ بھی نہیں پتہ کہ کون   کب ؟ اور کہاں مرے گا؟ مگر جب کوئ گھر سے دور ہوکر آخرت کا راہی بنتا ہے تو اس کی تکلیف سوا ہوتی ہے۔
کل اسی طرح کا ایک حادثہ اپنے بڑے ماموں ایاز احمد عمر تقریبا 60 سال کے ساتھ ہوا. جو لاک ڈاؤن کے بعد سے مسلسل چند مہینے بیماری کے بعد وطن سے دور سعودیہ عربیہ میں انتقال کرگئے. (رحمه الله رحمة واسعة) انکی خوش قسمتی کہ انکے چھوٹے بھائ محمد وارث اور بھانجے احمد ، مستقیم اور شہنواز تیمار داری کے لئے موجود تھے ، تاہم بیماری کے دوران مکمل خدمت کا ثواب ان کے بھانجے برادرم ابراہیم سلمہ کو ملا جنہوں نے جی جان سے خدمت کی اور آخری وقت تک ان کے ساتھ رہے اللہ انہیں اس خدمت کا بہترین بدلہ دے۔
ماموں نے زندگی کے قیمتی 35 سال سے کچھ اوپر پردیس میں گزارا ، درمیان میں محدود چھٹی کے اوقات میں آنا جانا رہا لیکن تسلی بھر کبھی نہ رہے۔
سفر کا آغاز گھر کی غربت سے ہوا باہر نکلے گھر کی ضرورتوں اور تقاضوں کا بوجھ سہتے سہتے بہت گراں بار ہوئے بہنوں بیٹیوں کی شادی سے لیکر علاج ومعالجہ کی ساری ذمہ داریاں اپنے دوش ناتواں پر اٹھائیں بیچ میں دل کا دورہ بھی پڑا ، اسپرنگ بھی ڈالی گئ ، مگر عمر کے اس آخری پڑاؤ میں بھی گھر کی ضرورتوں تقاضوں اور خواہشوں سے مغلوب ہو کر مجبورا آخری بار سفر کے لئے نکل پڑے ، اور پھر واپس نہ آسکے۔
دل خون کے آنسو روتا ہے جب یہ سوچتا ہوں کہ آخر کیا وجہ تھی کہ ماموں اس بیماری کے باوجود سفر پر آمادہ ہوئے جبکہ ان کے دو ہی لڑکے تھے اور دونوں اس وقت گھر سے باہر کویت میں ہیں ، آخر کون سی ایسی ضرورت تھی جو سب کو گھر سے باہر کئے ہوئ تھی ، کیا اس ضرورت کو بیماری کے باوجود سمیٹا نہیں جاسکتا تھا. مگر افسوس صد افسوس۔
 نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ کہا " انسان کے پیٹ کو مٹی ہی بھر سکتی ہے"۔
ماموں بالکل گورے چٹے، دراز قامت، پر گوشت بدن، شیریں دہن، کشادہ پیشانی، گھنی داڑھی مضبوط اعصاب کے مالک تھے، سب بھائیوں سے الگ بڑے رکھ رکھاؤ والے تھے، زیادہ دن سعودیہ میں گزارنے کی وجہ سے چال ڈھال وضع قطع لباس میں عرب کے مشابہ تھے۔ اکثر جبہ زیب تن کرتے اور غطرہ ضرور لگاتے اس پوشاک کے ساتھ اگر عربوں کے درمیان انہیں چھوڑ دیا جائے تو علاوہ زبان کے کسی اور چیز سے امتیاز مشکل تھا کہ وہ ہندوستانی ہیں. عین ممکن ہے رب کو یہ ادا پسند آئ ہو کہ میرا یہ بندہ عربوں کے رنگ روپ میں رہتا ہے اس لئے اسے انہیں کے ساتھ رکھ چھوڑوں۔
 گاؤں والے بھی انہیں شاید اسی قد وقامت کی وجہ سے "لودھی " کہتے تھے۔
ماموں "ولڈنگ" پیشہ سے وابستہ تھے اپنے ہاتھوں محنت کرکے کماتے تھے اور سب کا پورا خیال کرتے تھے. قسمت کی محرومی کہئے کہ میرے دنیا میں وجود میں آنے سے پہلے ہی نانا نانی انتقال کر گئے تھے ، جن کے دم سے ہی نانیہال کی رونق ہوتی ہے وہ نہ ہوں تو نانیہال کا لطف نواسے کیا جانیں. میں نے جب سے ہوش سنبھالا مامو کو پردیس میں زیادہ پایا مگر اتنا تھا جب آتے سب بہنوں کو جمع کرتے ان پر خرچ کرتے ہم بھانجے بھی ان کی شفقتوں سے محروم نہ تھے لیکن وہ دن گنتی کے ہوتے پھر وہی بے رونقی پسر جاتی۔
ماموں کو ملاکر چار بھائ اور سات بہنیں تھیں جن میں سے دو بہنیں اور دوبھائ اللہ کے پیارے ہوگئے اللہ سب کی مغفرت فرمائے ان سب کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے سب کی قبروں کو نور سے بھردے۔
یقینا گھر والوں کے لئے حلال رزق کی تلاش میں سفر باعث اجر و ثواب ہوتا ہے ماموں نے بھی اپنی پوری زندگی لوگوں کی ضروریات پوری کرنے میں گذاردی اللہ انہیں اس کا بہترین صلہ دے گا۔
مثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو ترا
 نور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو ترا


1 لائك

0 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

7 افسوس

0 غصہ


 
hausla.net@gmail.com : ؞ ہم سے رابطہ کریں

تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2021.