؞   ذکر عبدالعلی خان  چچا مرحوم کا
۷ اپریل/۲۰۲۰ کو پوسٹ کیا گیا

تحریر: اختر سلطان اصلاحی
رات ڈیڑھ بجے یونہی واٹس آپ آن کیا تو یہ افسوس ناک خبر پڑھی کہ جناب عبدالعلی خان صاحب اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں
کہیں سے آب بقاے دوام لا ساقی
والد مرحوم مولوی سلطان احمد صاحب لاہی ڈیہہ رکن جماعت تھے. 1980 کے بعد جب مجھے کچھ شعور ہوا اس زمانے میں ہمارے اطراف میں جماعت اسلامی ہند کافی موثر اور سرگرم تھی. علاقے کی بہت سی با اثر اور معزز شخصیات جماعت سے وابستہ تھیں. والد محترم اپنی معاشی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ جماعت میں بھی دیوانہ وار سرگرم رہا کرتے تھے. اس زمانے میں ارکان جماعت کا بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ تحریکی سفر بکثرت ہوتا تھا۔
بڈہریا علاقے میں جماعت اسلامی کا ایک مضبوط گاوں تھا، بچپن میں کئی دفعہ یہاں اجتماعات میں شرکت کا موقع ملا، یہاں کے خان صاحبان اپنی شجاعت،، علم دوستی، ذہانت، دینی حمیت اور جرات وبیباکی کے لیے معروف تھے۔
یاد نہیں کہ جناب عبدالعلی خان صاحب سے پہلی ملاقات کب ہوئی ہاں اتنا یاد ہے کہ بچپن میں ایک بار صبح سویرے ہمارے گھر ناشتے پر عبدالعلی چچا اور ماسٹر جمال الدین چچا مرحوم موجود تھے. گوشت بنا ہوا تھا، دو تین افراد اور تھے، بحث ہورہی تھی کہ گوشت رات میں ہی بنا لیا گیا تھا یا اتنی صبح سویرے؟ والد محترم نے بڑی مشکل سے سمجھایا کہ ارے بھائی صفدر کی اماں تین بجے سے ہی ناشتہ بنانے میں لگی ہیں۔
بزرگوں کی چھیڑ چھاڑ اور ہنسی مذاق بھی بہت دلچسپ ہوتی تھے۔
جماعت کے اجتماعات میں میری شرکت کم عمری سے ہی شروع ہوگئی تھی. عموماً بچے کم ہوتے تھے، ایسے میں مجھے ان بزرگوں کی صحبت، معیت اور خدمت کا خوب موقع ملتا تھا، واقعتا کیا دور تھا، ماہانہ ضلعی اجتماعات میں پورے علاقے کے نمائندہ چہرے موجود ہوتے تھے، وہ توجہ، لطف و مہربانی، ایک دوسرے کا خیال، تحریکی تڑپ، دین کا شعور، کچھ کر گزرنے کا جذبہ، اپنی تربیت اور تہذیب کی فکر، تحریک کو پروان چڑھانے اور انقلاب بپا کرنے  کا جنون، عظمت رفتہ کی بازیابی کی شدید خواہش.خود احتسابی۔
ایک جذبہ خودی جس نے ہر فرد کو انقلاب کے رنگ میں رنگ دیا تھا.فرزانوں سے زیادہ دیوانوں کا ازدہام رہتا تھا۔
ان بزرگوں کی اکثریت اب دنیا میں باقی نہیں جو دوچار ہیں وہ بھی  ایک ایک کرکے رخصت ہوتے جا رہے ہیں۔
چند روز قبل مولانا سراج الحسن صاحب،پھر عبدالقیوم انصاری صاحب، رات عبدالعلی چچا، اور صبح سویرے ڈاکٹر ابرار  صاحب خالص پور۔
وے صورتیں الہی کس ملک بستیاں ہیں
وہ جن کو دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں
عبدالعلی چچا کے تعلق سے ایک قصہ اور یاد آیا، چھاوں میں جماعت کا اجتماع رکھا گیا تھا. گاوں میں جماعت مخالف ماحول تھا. مغرب  میں جب خطاب عام کا اعلان ہوا تو ساتھ میں ہی ایک صاحب نے کھڑے ہوکر نماز کے بعد دین کی بات ہوگی کا بھی اعلان کر دیا
ایک جانب سے جماعت کے مقرر کا خطاب تھا دوسری جانب کونے میں کتاب پڑھی جا رہی تھی. خطاب والے حلقے میں کم لوگ تھے اور کتاب والے حلقے میں زیادہ لوگ. گاوں کے غالب دین پسند حلقے جماعت اور اس اجتماع کے خلاف تھے اور جماعت کی دینی سرگرمیوں کو دین کے حق میں مضر تصور کرتے تھے۔
یہ اجتماع دراصل کچھ با اثر لوگوں کی وجہ سے منعقد کیا جا سکا تھا. صبح زیرو چچا کے گھر چند لوگ ناشتے پر اکٹھا تھے. غالبا ان کا اور عبدالعلی چچا کا کچھ رشتہ تھا. اجتماع کے سلسلے میں گفتگو جاری تھی. زیرو چچا ابا کی طرف مخاطب ہوکر کہنے لگے:
"سب سے بدمعاش تو تورا بھنجوا ہے
 مورا بھانجہ رہتے تو وہیں کھڑے کھڑے چپتیاے دیہے ہوتوں، کتابیہ تو ووہے پڑھت رہا
بہر حال طے پایا کہ ہر ماہ چھاوں میں جماعت کا ایک پروگرام ہوگا، بڈہریا کے لوگ اور مولوی جواد صاحب وغیرہ شریک ہوں گے. مجھے یاد ہے کہ یہ سلسلہ کچھ دن چلتا رہا اور عبدالعلی چچا وہاں پابندی سے شریک ہوتے رہے۔
پچھلے سال برادر خلیق الزماں اصلاحی کے بھتیجے کے دعوت ولیمہ  میں شرکت کا دعوت نامہ  ملا تو بڈہریا کا سفر ہوا. خاص طور سے دو بزرگوں کی ملاقات کی شدید خواہش تھی ایک تو عبدالعلی چچا، دوسرے جنید خان چچا، دونوں سے لمبی ملاقاتیں ہوئیں. عبدالعلی چچا بہت دیر تک ابا مرحوم اور جماعت کے دوسرے بزرگوں کا ذکر خیر کرتے رہے. دوران گفتگو ایک رشتے کے سلسلے میں ان سے مشورہ مانگا تو کہنے لگے:
"ٹھیک ہی تو ہیں جیسے گاوں کے دوسرے مسلمان ہیں ویسے ہی وہ بھی ہیں. گاوں میں  کچھ لوگوں سے ان کے  لڑائی جھگڑے ہیں مگر بچیاں شائستہ اور اچھی ہیں، دو بچیوں کی شادی ہوچکی ہے دونوں اپنی گھر داری بہت اچھے انداز سے انجام دے رہی ہیں۔"
پھر کہنے لگے:
" اب گاوں میں کسی کے بارے میں کچھ  پتہ لگانا آسان نہیں ہے، لوگ اچھائی تو نہیں بیان کریں گے ہاں جوڑ جاڑ کر کچھ عیوب ضرور بیان کر دیں گے، اب محبت اور خیرخواہی کے بجاے لوگوں کے دل بغض، حسد اور بد خواہی سے بھرے ہیں۔"
پچھلے سال عبدالعلی چچا کے لیے جواں سال بیٹے ڈاکٹر شیبہ فلاحی کی موت ایک کمر توڑ دینے والا حادثہ تھا. میں خود کئی روز بعد انھیں تعزیت کا فون کرنے کی ہمت  کر سکا، گفتگو کے دوران ان کی آواز تھوڑی ٹوٹی ہوئی لگی مگر وہ صبر کی بھاری سل اپنے سینے پر رکھ چکے تھے اور راضی برضا تھے۔
اللہ غریق رحمت کرے، جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے اور متعلقین کو صبر جمیل بخشے آمین۔


3 لائك

0 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

2 افسوس

0 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
Commented on : 2020-04-07 20:35:06
معتصم باللہ : ماشاءاللہ، آپ کا انداز بیان بالکل اپنے ابا جیسا ہی ہے- اللہ کرے "ہو زور قلم اور زیادہ"

تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2020.