؞   ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
۶ اپریل/۲۰۲۰ کو پوسٹ کیا گیا

تحریر:عبداللہ زکریا، ممبئی
 بالآخر ڈھائی تین مہینے کی علالت کے بعد چچا اپنے رب سے جا ملے اور دیس سونا کر گئے، اس کے ساتھ ہی گاؤں سے رابطے کی وہ آخری کڑی ٹوٹ گئی جس نے ہم پردیسیوں کو اپنی مٹی سے جوڑ رکھا تھا۔ ہم سب نے پردیس میں بستیاں بسالی ہیں اور گاؤں کی خوشبو اور سوندھی مٹی کی مہک اب ایک قصہ پارینہ بن گئی ہے، جب کوئی منظر یاد بن جائے تو اس کی جگہ نظر نہیں بلکہ دل کی شریانیں بن جاتی ہیں۔
 خیر اس کا تذکرہ پھر صحیح، چچا (ڈاکٹر عمران احمد) مرحوم نہ تو اعظم گڑھ کے سب سے بڑے ڈاکٹر تھے اور نہ ہی ان نابغہ روزگار ہستیوں میں سے تھے جن کے بارے میں سہیل اقبال نے کہا 
 جو ذرہ یہاں سے اٹھتا ہے وہ نیراعظم ہوتا ہے
  چچا نے چار عشرے سے زائد جس مسیحائی فریضہ کو انجام دے رہے تھے اس کا تقاضا ہیکہ ان کی زندگی دنیا کے سامنے لائی جائے، کہ ان کو یاد کرنے کا اس سے بہتر اور کوئی طریقہ نہی، اور خلق خدا سے ان کی محبت کا یہ خراج تحسین بھی ہے اور زبان خلق سے ان کی نیکی اور عظمت کردار کا نقارہ بھی۔ 
 زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو
  چچا کا قد لانمبا، رنگ گورا اور بال گھنگرالے تھے، بدن گو کہ دبلا پتلا لیکن ہر لباس بدن پر جچتا تھا، اس معنی میں جامہ زیب کہے جا سکتے تھے، حالانکہ پہننے اور اوڑھنے کا کوئ خاص شوق نہیں تھا، طبیعت میں حد درجہ کی سادگی تھی، جوانی میں پینٹ شرٹ اور  موقع بہ موقع سوٹ بھی پہنا کرتے تھے۔ ہاں آخری عمر میں صرف کرتا پاجامہ زیب تن کرنے لگے تھے جو ان پر بہت بھپتا تھا۔ سادگی کا یہ عالم تھا کہ ایک زمانے تک پھوپھی کے ہاتھ کا سلا ہوا کپڑا پہنا اور درزی کو زحمت قطع برید نہیں دی، اس میں بخل یا خست کارفرما نہی تھی، بلکہ انکی طبیعت کا قلندرانہ پن تھا۔  
چچا دوسروں پر بے دریغ خرچ کرتے، بلریا گنج میں واقع  ان کا مکان ایک زمانہ تک مرجع خلائق بنا رہا، مہمانوں کا تانتا بندھا رہتا، علاءالدین پٹی سے آنے جانے والوں کے لیے وہ پہلا پڑاؤ تھا۔ روز روز کی مہمان نوازی کسی کو بھی جھنجھلاہٹ اور چڑچڑاہٹ میں مبتلا کر سکتی ہے لیکن میں نے کبھی بھی چچا یا چچی کی پیشانی پر کوئی شکن نہیں دیکھی۔
عرف عام میں جسے حق دستور کہا جاتا ہے، چچا کو اس کا بہت خیال رہتا، برسبیل تذکرہ اپنا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔ ١٩٩٣ کی بات ہے، بابری مسجد کی شہادت کے بعد ممبئی میں فسادات بھڑک اٹھے، میرے والد اپنی جان بچانے کی خاطر گاؤں بھاگ آۓ تھے، اس وقت میں جامعہ ملیہ میں زیر تعلیم تھا، اچانک ایک روز ایک خطیر رقم کا منی آرڈر آیا، والد صاحب سے پوچھے بغیر چچا نے صرف اس خدشے کے تحت میرے لیے اتنی بڑی رقم ارسال کردی تھی کہ میرے والد کے پاس پیسے ہوں نہ ہوں اور میں اطمینان سے اپنی پڑھائی جاری رکھ سکوں۔ اس واقعہ سے ان کی عظمت بیان کرنا مقصود نہیں ہے، یہ تو ان کی عظمت کردار کا ایک بہت چھوٹا سا نمونہ تھا۔
 ان کا گھر، جسے  عظمت کدہ کہا جاۓ تو مبالغہ نہی ہوگا، نہ جانے کتنے لوگوں نے وہاں رہ کر اپنی تعلیم مکمل کی، اس میں کچھ اپنے تھے اور کچھ غیر بھی، افسوس اس بات کا ہے کہ جب قرض چکانے کا وقت آیا تو ہم میں سے کوئی بھی موجود نہیں تھا، سب کے پیروں میں مجبوریوں کی بیڑیاں پڑی ہوئی تھی۔
  کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
   یوں  کوئی  بے وفا  نہیں  ہوتا  
 بہت زمانے تک چچا کے یہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی، جس کا اثر ان پر تو کبھی نظر نہی آتا،  البتہ گاؤں کی کچھ جاہل اور گنوار ذہنیت کی عورتوں نے چچی کو کئی بار آنسو بہانے پر مجبور کیا تھا۔ چچا بچپن میں بہت شریر تھے،  پیڑوں پر چڑھ کر گھونسلوں میں سے انڈے اتار لایا کرتے۔ دادی اکثر کہا کرتی تھیں کہ کسی چڑیا نے ان کو بددعا دے دی ہے ۔ لیکن  اللہ کا کرم ہوا اور چچا کا آنگن کھل اٹھا،  ایک چاند سی بیٹی پیدا ہوئی جو پورے گھر کے لیے کھلونا بن گئی اور دو سال بعد اللہ تعالٰی نے چچا کو  ایک اور پری سے نوازا،  گھر بچوں کی چہکار سے گونجنے لگا لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا، مشیت ایزدی میں کس کو دخل ہے چھوٹی بیٹی ٦ سال کی عمر میں سر میں چوٹ لگنے سے اللہ کو پیاری ہو گئی, یہ بیٹی چچا سے بہت لگی ہوئی تھی, چچا اور چچی نے اس سانحہ پر صبر و ضبط کا جو ‌نمونہ پیش کیا اس کی مثال آج بھی دی جاتی ہے۔ اگر چچا اس کے بعد زندگی بھر کوئی اور نیکی نہیں کرتے تو مجھے یقین ہے بیٹی کی وفات پر ان کا صبر جمیل، ان کے لئے توشہ آخرت بن جاتا کیونکہ ایسے لوگوں کے لیے اللہ نے جنت میں محل بنانے کا وعدہ کیا ہے اور اللہ کا وعدہ کبھی جھوٹا نہیں ہوتا۔ ایک بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ چچا جب بھی گاؤں میں رہتے تو فجر کی نماز کے بعد سیدھا قبرستان جاتے واپسی پر میں نے ان کو کبھی دل گرفتہ اور ناشاد نہیں پایا وہ اپنے اللہ کی مرضی پر راضی تھے۔
چچا علاقہ کے بڑے ڈاکٹر تو نہی تھے، اور نہ ہی ان کا مبلغ علم بہت زیادہ تھا بس اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں شفا دے رکھی تھی، عقیدت مند مریض دور دور سے جوق در جوق آتے اور شفا پاتے۔ سچی بات یہ ہے کہ مرض صرف دوا سے نہی جاتا ہے،  اس میں اللہ کی مرضی کے ساتھ مریض کا ڈاکٹر پر اعتماد اور ڈاکٹر کے تعلق سے مریض کے حسن ظن کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ چچا کے پاس مریض یہی اعتماد اور حسن ظن لےکر آتے اور شفا یاب ہوجاتے۔ بحالت مجبوری ہی مریض بڑے ڈاکٹروں سے رجوع کرتے۔ 
چچا نے دولت کمانے کے لئے طب کا پیشہ اختیار نہیں کیا تھا اور اللہ ان کی حسن نیت سے واقف تھا اسی لیے 40 سال سے زائد عرصے پر محیط ان کی پریکٹس بالکل بے داغ رہی۔ قرب و جوار کا کوئی آدمی یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے کبھی اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھایا ہو۔ کئی بار توچچا مفت میں علاج کر دیا کرتے، اپنے خاندان والوں سے انہوں نے کبھی بھی پیسے کا مطالبہ نہیں کیا کسی نے دیا تو لے لیا نہیں دیا تو پوچھا بھی نہیں۔
 طب کا پیشہ مکمل سپردگی طلب کرتا ہے اور گاؤں بستی کی پریکٹس تو اور بھی مشکل ہے یہاں وقت کا کوئی خیال نہیں ہوتا ہے، بارہا ایسا ہوا کہ کسی مریض نے رات کے وقت آواز لگائی یا دروازہ کھٹکھٹایا، چچا جز بجز تو ضرور ہوئے  لیکن کبھی بھی کسی کو واپس نہیں کیا اور نہ ہی دروازہ کھولنے سے منع کیا۔ ہاں جب بہت چڑھ جاتے تو کہتے کہ میں سب کو مشورہ دوں گا کہ کوئی ڈاکٹر نہ بنے۔ در اصل چچا نیند کے بہت پکے تھے اگر نیند کو اللہ کی نعمت سمجھا جائے تو ہمارے گھرانے پر اللہ کی یہ نعمت بہت وافر برستی ہے، میری پھوپھیاں اللہ ان کو بخشے بات کرتے کرتےخراٹے لگانے لگتی تھیں، ہم لوگ کبھی کبھار اگر محفل جماتے تو چچا  تھوڑی دیر آکر بیٹھ جاتے لیکن جیسے ہی نیند آنا شروع ہوتی،   چاہے جتنی لذیذ حکایت چل رہی ہو وہ فورا محفل چھوڑ کر اٹھ جاتے، نیند کے معاملے میں وہ کسی سمجھوتے کے قائل نہیں تھے، گرمیوں کی لمبی دوپہر میں  سونا انکے معمول کا حصہ تھا۔
 چچا نہ کم سخن تھے اور نہ زود گفتار، اگر کسی مجلس میں بیٹھنا پڑ جاۓ تو زیادہ تر خاموش رہتے لیکن اس خاموشی کے باوجود ان کی شخصیت ایسی تھی کہ محفل میں ہمیشہ موجود محسوس ہوتے، وہ مجلسی آدمی نہیں تھے لیکن ایک زمانے تک ان کا معمول رہا کہ مغرب کی نماز کے بعد گلواں کے رہنے والے منان بھائی مرحوم اور نصیر پور کے رہنے والے غفار بھائی مرحوم آجاتے، چائے کا دور چلتا اور دنیا جہان کی باتیں ہوتی یہ دونوں حضرات چچا کے عقیدت مندوں میں سے تھے افسوس کی دونوں بہت جلد راہی ملک عدم ہوگئے اور یاران باصفا  کی محفل سونی ہوگئی۔ 
چچا مطب کی باتیں گھر میں کم ہی کرتے، ہاں معاشرے کی ذہنیت کی عکاسی کرنے والا ایک مشاہدہ اکثر ہم لوگوں کو بتایا کرتے، وہ کہتے تھے کہ جب ایک عمر رسیدہ اور ایک جوان عورت ایک ساتھ مطب  آتی ہیں تو عمر رسیدہ عورت کے ایک جملہ سے میں سمجھ جاتا ہوں کہ جوان عورت اسکی بیٹی ہے یا بہو،  یہ جملے میں دیہاتی زبان میں ہی نقل کروں گا کہ شہری زبان میں وہ بلاغت کہاں،وہ کہتے تھے کہ جب عمر رسیدہ عورت کہتی ہے کہ "اے ڈاکٹر صاحب ہماری بہنی کے تنی دیکھ لہ  کا ہوگوا ہے، طبیعتیا بہت خراب ہے" تو میں سمجھ جاتا کہ یہ بیٹی ہے، اور جب عمر رسیدہ عورت منہ پھیر کر یہ کہتی ہے کہ " اے ڈاکٹر صاحب تنی ان کے دیکھ لہ جب سے آئی ہیں تب سے بیمار رہا تھن" تو میں سمجھ جاتا کہ یہ بہو ہے۔
 چچا کو اپنی بہنوں سے بہت محبت تھی اور وہ بھی ان پر جان چھڑکتی تھیں بلکہ میرا تجزیہ تو یہ ہے کہ میری پھوپھیاں سب سے زیادہ چچا سے ہی پیار کرتی تھیں۔ مریم (چچا کی بیٹی) کی شادی میں جب سب سے چھوٹی پھوپھی پاکستان سے آئیں تو چچا کی خوشی دیدنی تھی، ان کا بس چلتا تو آسمان سے تارے توڑ کر ان کے قدموں میں بچھا دیتے، وقت اور حالات نے دونوں ملکوں کے درمیان ایک ناقابلِ عبور لکیر کھینچ کر خون کے رشتوں کو جدا کر دیا ہے لیکن محبت کوئی سرحد نہیں مانتی ہے البتہ کبھی کبھی مصلحت اور دانشمندی کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ برسرعام اس کا اظہار نہ کیا جائے، مجھے پتا ہے کہ سرحد کے پار میری پھوپھی زاد بہنوں کو یہ شکایت ہے کہ ہم ان کی پرواہ نہیں کرتے ہیں، حالانکہ کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے۔ مصلحت اور دانشمندی کے تقاضے بدلتے وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور کبھی کبھی وقت کے ظالم ہاتھ  انسان کو کٹھ پتلی کی طرح نچاتے ہیں لیکن انسان اندر سے نہیں بدلتا ہے، یہ لگائی ہوئی محبت ‌نہی ہے کہ اس کے نقش مدھم ہو جائیں گے۔ 
چچا کی کوئی نرینہ اولاد نہیں، عموما دیکھا گیا ہے کہ ایسے لوگ اپنے مستقبل کے تئیں بہت ہراساں رہتے ہیں لیکن میں نے کبھی ان کو متفکر نہیں پایا، انھیں اپنے اللہ کی رضا اور کارسازی پر پورا بھروسہ تھا اور اللہ نے انکے گمان کو کیسا سچ کر دکھایا۔ چھوٹے چچا( انیس احمد ) نے جس تندہی، جانثاری اور بے لوث محبت سے ان کی تیمارداری کی شاید ان کا بیٹا ہوتا تو نہیں کر پاتا۔ دادا کے انتقال کے وقت چھوٹے چچا کی عمر دو ڈھائی سال تھی انہوں نے زندگی بھر اپنے پیارے بھیا کو باپ کی طرح جانا اور سمجھا، لوگ عشق میں فنا ہو جاتے ہیں اور چچا اپنے بھائی کی محبت میں فنا ہو گئے تھے، ان کی خود کی فیملی لکھنؤ میں تھی نئی نویلی بہو گھر آئی تھی لیکن انہیں کسی چیز کا بھی ہوش نہیں تھا۔ فکر تھی تو صرف اس بات کی کہ ان کے پیارے بھیا کسی طرح اچھے ہو جائیں۔ جب بھی بات ہوتی ان کے لہجے میں ایک عجیب سا یقین محسوس کرتا، حالانکہ دیکھنے والی آنکھ دیکھ رہی تھی کہ سارے دکھتے ہوئے ریشوں کی طنابیں کھل کھل کر قافلے شوق کی تیاری کا پتہ دے رہی ہیں لیکن وہ ہار ماننے کو تیار نہی تھے، چھوٹے چچا کی طرف سے عدیم المثال تیمارداری اور جانثاری کا یہ پہلا واقعہ نہیں تھا، تقریبا ١٠ سال پہلے جب میرے والد بیمار ہوئے تو چھوٹے چچا سارا کام دھام  چھوڑ کر ممبئی آگئے، اور ایک ماہ سے زائد اپنے شب و روز ممبئی کے ہیرا نندانی ہسپتال میں اپنے بڑے بھیا کی دیکھ بھال اور تیماداری میں گزار دیے۔ ڈاکٹروں کو بڑی حیرانی ہوتی کہ چچا اپنے بھائی کی خدمت کرنے کے لیے اپنا سارا کام چھوڑ کر گاؤں سے یہاں آگئے ہیں، ڈاکٹر تعجب سے بار بار کہتے کہ آج کے زمانے میں بھی ایسے لوگ پاۓ جاتے ہیں کیا۔ اس وقت چھوٹے چچا کے چاروں بچے زیر تعلیم تھے اور بعد میں معلوم ہوا کہ وہ کسی سے قرض لے کر آئے تھے۔
 پیدا کہاں اب ایسے پراگندہ طبع لوگ۔
  چچا نے اپنے پیچھے نہ بینک بیلینس چھوڑا ہے اور نہ کوئی گاڑی بنگلا، انہوں نے زندگی بھر صرف آدمی کماۓ تھے اس لئے کوئی تعجب نہیں  کہ اس لاک ڈاون میں بھی ان کے جنازے میں ایک کثیر تعداد نے شرکت کی اور نمناک آنکھوں سے انہیں سپرد خاک کیا۔
   دنیا کا دستور یہی ہے کہ لوگ چلے جاتے ہیں اور دل کی ریتیلی زمین پر ایک نقش چھوڑ جاتے ہیں۔
دل وہ تپتی ہوئی ریتیلی زمین ہے کہ جہاں
نقش رہ جاتے ہیں اور لوگ گزر جاتے ہیں۔
 چچا بھی اپنے پیچھے یادوں اور باتوں کا ایک سرمایہ چھوڑ گئے اللہ ان کو اپنی جوار رحمت میں رکھے اور ان کے درجات بلند کرے،آمین ۔ باقی رہے نام اللہ کا۔
 كل من عليها فان و يبقى وجه ربك ذو الجلال و الاكرام۔


5 لائك

0 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

2 افسوس

0 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2020.