؞   حکومت اپنی کمیوں کو چھپانے کے لئے تبلیغی جماعت و مسلمانوں کو بلی کا بکرا بنارہی ہے: عامر رشادی
۳۱ مارچ/۲۰۲۰ کو پوسٹ کیا گیا

لکھنؤ (پریس ریلیز/حوصلہ نیوز): جماعت تبلیغی کے مرکز نظام الدین میں مقیم جماعتیوں پر کرونا وائرس کی خبر کو لے کر میڈیا میں جماعت کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔ مولانا عامر رشادی نے پریس ریلیز جاری کرکے یہ کہا کہ مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا پھیلانے کی ہوڑ مچی ہوئی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ نیوز چینلز کو جس مدعہ کا بے صبری سے انتظار تھا وہ ان کے ہاتھ لگ گیا ہے اور ہفتوں کے لئے مرچ مسالہ مل کافی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر کے وقت بھی الیکٹرانک میڈیا کا ایک بڑا حصہ اور سوشل میڈیا آئ ٹی Cell اپنے اصل کام پر لگ گئی ہے اور کورونا وائرس کو بھی ہندو مسلم کا اینگل دینے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے ۔ جو کہ نہایت ہی خطرناک ہے۔ مذکورہ باتیں راشٹریہ علماء کونسل کے قومی صدر مولانا عامر رشادی مدنی نے مرکزی دفتر سے جاری پریس ریلیز میں کہیں۔ مولانا نے کہا کہ جماعت کے مرکز میں پھنسے ہوئے لوگوں کو سرکار و میڈیا ایسے دکھا رہے ہیں کہ گویا وہ مرکز میں جان بوجھ کر چھپے ہوئے تھے، مرکز میں موجود لوگوں کو یہ میڈیا جہاں چھپا ہوا بتا رہی ہے وہیں وشنو دیوی مندر میں موجود لوگوں کو پھنسا ہوا، میڈیا ہی لفظ کی باریک ہیر پھیر سے ملک میں نفرت پھیلا رہی ہے۔ اس کے علاوہ بھی طرح طرح کے الزامات لگائے جا رہے ہیں جب کہ مرکز نے 25 تاریخ کو ہی مقامی تھانہ، SDM اور ACP کو خط لکھ کر وہاں پھنسے ہوئے لوگوں کے اطلاع دی اور ان کو گھر بھیجنے کے لیے ٹرانسپورٹ کی پرمیشن بھی مانگی تھی مگر کوئی مدد نہیں دی گئ، پھر آخر 5 دن بعد سب کچھ درکنار کر یہ کاروائ کہیں نا کہیں لوگوں کا ذہن ڈائیورٹ کر کے سرکار کی کورونا پر تساہلی کو چھپانے کا ہتھکنڈا ہے۔ خفیہ ایجنسیوں سے لیکر حکومت تک سب کو معلوم ہے کہ مرکز پر دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں ایسے میں مرکز کے لئے کوئ ہدایت سرکار نے کیوں نہیں جاری کیا اور اچانک سے لاک ڈاون پر ملک کے جماعتی جاتے کہاں ؟ یہ صرف دلی سرکار کی صاف طور پر کمی ہے۔ دلی سرکار کو بہت پہلے ہی مرکز پر جانچ کروانی چاہیے تھی، لوگوں کا ہیلتھ چک اپ کروانا چاہیے تھا اور جو بھی احتیاط کئے جاسکتے تھے کرانا چاہیے تھے مگر افسوس اروند کیجریول کی حکومت اس میں ناکام رہی اور اسی کھسیاہٹ کو چھپانے کے لئے اروند کیجریول نے دلی پولیس سے مرکز پر مقدمہ کرنے کو کہہ رہے ہیں تاکہ کوئی ان کی حکومت کی ناکامی پر سوال نہ اٹھا سکے ۔ اگر جماعت کے ذمہ داروں پر کاروائ ہو سکتی ہے تو ہزاروں بھوکے پیاسے مزدوروں کو دلی و یوپی کی سڑکوں آنے اور کئ سو کلو میٹر کا پیدل سفر کرنے پر جنہوں نے مجبور کیا اس پر کاروائ کب ہوگی؟ شیوراج سنگھ کی تاجپوشی پر جو لاک ڈاون کا دھجیاں اڑائ گئیں ان پر مرکزی حکومت کاروائ کب کر رہی ہے؟ اور اچانک کے لاک ڈاون جیسے اعلان سے لاکھوں لوگ جو پریشان، بھوکے اور بے سہارا ادھر ادھر بھٹک رہے ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے اور کب کاروائ ہوگی؟ مولانا نے سبھی ہندوستانیوں سے یہ اپیل کیا ہے کہ اس عالمی وباء کے وقت ہم سب متحد ہوکر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں، خاص طور پر مسلمانوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ اس وقت مسلک اور فرقہ کی بنا پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش نہ کریں بلکہ مسلک ذات برادری سے اوپر اٹھ کر متحد ہوکر ہم سب کو اسوقت ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔


6 لائك

1 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

0 افسوس

1 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2020.