؞   این پی آر کےحوالے سے مقامی سطح پر لائحہ عمل ضروری
۲۱ مارچ/۲۰۲۰ کو پوسٹ کیا گیا
تحریر: ابوظفر عادل اعظمی
گرچہ کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد ملک میں مسلسل بڑھ رہی ہے اور اسکول ، کالجز میں تعطیل کے ساتھ حکومت عوام سے اپیل کررہی ہے کہ وہ بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پر نہ جائیں لیکن یکم اپریل سے شروع ہونے والی مردم شماری اور این پی آر پر ابھی تک کوئی اعلان نہیں ہوا ہے۔
جب کہ اس عمل کے قانونی اور دستوری طور پر غلط ہونے کے ساتھ ساتھ اس سے لوگ کئی جگہ اکٹھا ہوں گے اور این پی آر کرنے والے عملہ کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی وائرس پھیلنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
کئی سرکردہ افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مردم شماری کی کاروائی کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا اعلان کرے لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے اس ضمن میں کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے۔
لہذا اس وقت ہندوستان کے انصاف پسند عوام بالخصوص مسلمان دوہری آزمائش کا شکار ہیں۔ ایک طرف کوروناوائرس کی دہشت ہے تو دوسری طرف این پی آر اور این آرسی کا دیو اپنا دہانہ کھولے مسلسل قریب آرہاہے۔ اس درمیان شاہین باغ کے طرز پر پورے ملک میں ہورہے احتجاجی مظاہرے بھی جاری ہے۔ گرچہ مظاہرین طبی نقطہ نظر سے ہر احتیاط برت رہے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے یہ احتجاج جاری رہے گا کیوں کہ ان کے بقول این پی آر اور این آرسی کے ممکنہ خطرات ان کے لئے اس وائرس سے کہیں زیادہ مہلک ثابت ہوں گے۔
واضح رہے کہ دسمبر میں پارلیمنٹ کے ذریعہ شہریت کے ترمیم شدہ قانون کے پاس ہونے کے بعد سے ہی پورا ملک اس قانون کی مخالفت میں کھڑا ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اترپردیش میں پولیس کی بربریت اورمشرقی دہلی میں مسلمانوں کے قتل عام کے بعد بھی لوگ اس کی مخالفت میں کمر بستہ ہیں۔ این پی آر کی مخالفت اور بائیکاٹ پر سارے انصاف پسند لوگ متفق ہیں لیکن اس کی عملی شکل کے حوالے سے کئی سوالات ابھی حل طلب ہیں۔
ظاہر ہے بائیکاٹ اپنے آپ میں ایک اجتماعی عمل ہے اور اس کے لئے اجتماعی طور پر ایک لائحہ عمل ضروری ہے۔ یہ با ت بھی صحیح ہے کہ سیاسی اور سماجی لحاظ سے ملک کے مختلف مقامات پر لائحہ عمل اور بائیکاٹ کی تیاری مختلف ہوسکتی ہے۔ یعنی جو طریقہ کار ملک کے ایک حصہ میں بہتر تصور کیا جائے ضروری نہیں ہے کہ دوسرے علاقہ میں بھی وہی فائدہ مند ہو۔ لہذا اس سلسلے میں مرکزی طور پر کوئی تفصیلی ہدات کے بہت زیادہ قابل عمل ہونے کے امکانات کم ہیں۔ البتہ عمومی ہدایات جاری کی جاسکتی ہیں۔ لہذا بائیکاٹ کی عملی شکل اور اس سے متعلق مسائل کو مقامی اور علاقی طور پر ہی حل کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن اس کے لئے علاقائی اور مقامی لیڈرشپ کو نہ صرف سرگرم ہونا پڑے گا بلکہ مرکزی سطح کی لیڈر شپ اور مقامی عوام کے درمیان گہرے رابطہ کے ساتھ ایک پُل کی حیثیت سے کام کرنا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ یہ باتیں نئی نہیں ہیں اور اکثر یہی ہوتا ہے لیکن معاملے کی سنگینی اور اس سے ممکنہ خطرات کے پیش نظر اس پر فوری توجہ انتہائی ضروری ہے۔
واضح رہے کہ ان سطور پر لیڈر شپ سے مراد ہروہ فرد ہے جو ملی اور سماجی امور میں سرگرم رہتا ہے اور عوام کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتاہے ، ضروری ہے نہیں ہے کہ وہ کسی جماعت کا ممبر، مدرسہ کا مہتمم، کالج کا پرنسپل یا پھر سیاسی پارٹی سے وابستہ ہو۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ برسوں میں پہلی بار ملت میں کسی مسئلہ پر اتنی بیداری دیکھنے کو مل رہی ہے۔ مجموعی طور پر عوام این پی آر، این آرسی اور سی اے اے کو حوالے سے بنیادی معلومات رکھتے ہیں۔ شاید یہ بیداری ان قربانیوں کا اثر ہے جو ملک کے مختلف مقامات پر ہمارے بھائیوں اور بہنوں نے قید و بند کی تکلیف برداشت کرکے، پولیس کی لاٹھیاں کھاکر، سخت سردی میں رات دن مظاہرہ کرکے اور تواور اپنی جانوں کانذرانہ پیش کرکے کیا ہے۔اللہ تعالیٰ یقینا ان قربانیوں کو ضائع نہیں کرے گا۔
لیکن اگر عام آدمی سے سوال کریں کہ بائیکاٹ کیسے کرنا ہے؟ کوئی گھر پر آگیا تو اس سے خود بات کرنی ہے یا پردھان کو بلانا ہے یا کسی اور کو فون کرنا ہے؟ یا پھر این پی آر کے عملہ کو گاؤں میں کسی گھر سے تفصیل نہیں لینے دینا ہے۔ گاؤں میں اکثر دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں تو کیا اس سلسلے میں ان سے کوئی بات ہوئی ہے؟ ان تمام سوالات پر اپنے علاقہ میں اکثر جگہ حکمت عملی کا فقدان نظرآتا ہے۔
اوپر کی سطروں میں مقامی قیادت کی ذمہ داریوں کے حوالے سے کچھ باتیں کہی گئی ہیں لیکن عوام کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ اس پر سنجیدگی سے غور کریں اور اپنے سے قریب قائدین کے ساتھ مل بیٹھ کر طریقہ کار پر فیصلہ کریں۔
آپ اس سلسلے میں درج ذیل کا م کرسکتے ہیں۔
اپنے گاؤں کے امام، مفتی صاحب، قریب کے مدرسہ کے ذمہ داران، پردھان، کالج کے پرنسپل ، وکیل ، سماجی اور سیاسی لیڈران سے وفد یا انفرادی طور پر مل کر یہ مسائل ان کے سامنے رکھیں۔ وہ یقینا اس حوالے سے کچھ سوچ رہیں ہوں گے اور عین ممکن ہے ان کے پاس اس کا عملی خاکہ بھی ہو۔
ضرورت ہو تو ان میں سے کچھ کو اپنے گاؤں میں بلائیں اور سرگرم افراد کے ساتھ نشست کریں۔
کسی بھی طریقہ کار اورمنصوبہ کے حوالے سے قانونی پہلو پر بھی دھیان رہے۔ اس سلسلے میں وکیل حضرات کی خدمات لی جاسکتی ہیں۔
اس پورے معاملے کو ایک آزمائش تصور کرتے ہوئے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور ہمیشہ اللہ سے مدد طلب کرتے رہیں ۔ لوگوں کو حوصلہ دیں اور دعاؤں کا اہتمام کریں۔

2 لائك

6 پسندیدہ

1 مزہ آگیا

1 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2020.