؞   دعوت دین میں ہی ہماری بقا کا راز پوشیدہ ہے
۱۱ مارچ/۲۰۲۰ کو پوسٹ کیا گیا
تحریر: حافظ دانش فلاحی*
اللہ کا شکر ہے کہ میں جس عظیم ادارے کا فارغ ہوں وہ ایک بلند، ہمہ جہت اور طویل دعوتی منصوبے کا حامل ہے۔
مگر مجھ جیسے کمزور و ناتواں کے لئے کچھ زیادہ ہی بلند ہیں کہ انہیں انجام دینے سے پہلے ہی پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔
لیکن موجودہ حالات مجھ سے اور ہم سب سے اس بات کا شدید تقاضہ کر رہے ہیں کہ اب کچھ کرنے کا وقت ہے ۔اس کے لئے سب سے زیادہ ضروری چیز یہ ہے کہ منصوبہ کم ہوں لیکن عمل آوری زیادہ ہو۔
کام چھوٹا سا ہی ہو لیکن ہو،ضروری نہیں ہے کہ سیمینار اور کانفرنس کے ذریعہ ہی شروعات کی جائے۔جتنی تیزی سے حالات بگڑ رہے ہیں دعوتی میدان میں اتنی ہی کمی آرہی ہے۔حالانکہ اس وقت تو مزید تندہی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔
ہم میں سے جس سے جو بن پڑے وہ جلدی سے اپنا کام کر ڈالے ۔وقت اور زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں،آزادی اور قید میں اب بس پل بھر کا فاصلہ ہے۔
کب! کس سے یہ آزادی اور آسانیاں چھن جائے کچھ کہ نہیں سکتے۔
اسلام دشمن طاقتوں کی تمام تر ریشہ دوانیوں کے باوجود سچائی یہ ہے کہ دعوت دین کے لئے ملک کی عمومی فضا اب بھی سازگار ہے۔یہ بات دیگر ممالک میں کم پائی جاتی ہے۔
اگر ہم نے کوتاہی کی تو ان لمحوں کی خطاوں سے ہمیں صدیوں کی سزائیں بھگتنی پڑ سکتی ہے۔
بھارت کے مسلمانوں کے اندر دعوت کا عمومی شعور پیدا کیا جائے،علماء اور مدارس کے فارغین خصوصا تحریکی ادارے سے جڑے ہوئے افراد اس کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کریں۔
دعوت دین تو نص سے ثابت ہے لیکن دعوت کا طریقہ منصوص نہیں ہے موجودہ حالات کو سامنے رکھ کر اس کو بدلا جاسکتا ہے۔
غیر مسلم بھائیوں سے ربط و ضبط، ان کی تقریبات میں شرکت،ان کے اندر اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے انسیت پیدا کرنا دعوت کا پہلا اہم ترین مرحلہ ہے۔اس وقت پورا ملک نظریاتی و تہذیبی ٹکراؤ کا شکار ہے،باطل نظریے کے علمبردار پوری طاقت کے ساتھ اپنے نظریے کی تبلیغ کے لئے تن من دھن لگائے ہوئے ہیں۔
میرے نزدیک نفرت کا یہ ماحول دعوتی کام کرنے والوں کے لئے سنہرا موقع ہے۔اللہ نے ہمیں ایک ایک فرد سے ملنے کا موقع اور اپنی بات رکھنے کے لئے مواد فراہم کردیا ہے۔
بس ضرورت ہے کہ میں اور آپ ایک داعی امت کا کردار ادا کرنے کو تیار ہوجائیں۔ہر اس موقع کو فائدہ اٹھائیں جس کے ذریعہ عام غیر مسلم بھائیوں تک اپنی بات پہونچ سکیں۔
خود کوئی جلسہ، سیمینار یا اجتماع کرنے کے بجائے ان کے میلوں،سمیلنوں،سماروہ اور یگوں میں شریک ہوں، کیونکہ ایسی جگہوں میں صرف پہونچ جانا بھی ایک طرح کی دعوت ہے۔اور پھر ایک بڑی تعداد تک موقع ملتے ہی آپ اپنی بات پہونچا سکتے ہیں۔
آئیے! قدم بہ قدم ، لمحہ بہ لمحہ اپنی ذمہ داری کو پوری کرنے کے لئے کمر کس لیں کیونکہ اسی میں ہماری بقا کا راز پوشیدہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*سکریٹری شانتی سندیش سینتر۔بلریاگنج۔اعظم گڑھ

1 لائك

0 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2020.