؞   آہ! مولانا عبد المعید قاسمی
۱۶ فروری/۲۰۲۰ کو پوسٹ کیا گیا
تحریر:احمد سراج، مہتمم جامعہ فیض عام، بوئیسر(ویسٹ),ممبئی
مشرقی اترپردیش میں دارالعلوم دیوبندکےمنہج اورنصاب تعلیم کےمطابق قائم عربی درسگاہ جامعہ عربیہ احیاءالعلوم مبارک پوراعظم گڈھ کےسابق ناظم اعلیٰ مولاناعبدالمعیدقاسمی 13فروری2020کو انتقال ہوگیا
اناللہ واناالیہ راجعون۔
مولاناعبدالمعیدقاسمی نےابتدائ تعلیم احیاءالعلوم مبارک پورمیں حاصل کی,بعدازاں1971میں دارالعلوم دیوبندسےفضیلت حاصل کی.ان کےاساتذہ میں فخرالمحدثین مولانافخرالدین صاحب شیخ الحدیث تھےجن کودارالعلوم میں شیخ الاسلام حضرت مولاناحسین احمدمدنی کاعلمی جانشین ہونےکاشرف حاصل تھا۔
مولاناعبدالمعیدقاسمی مبارکپوری اعلیٰ تعلیم حاصل کرنےکی غرض سےسعودی عرب تشریف لےگئےاورجامعہ محمدبن سعودالاسلامیہ,ریاض میں تعلیم مکمل کرکےبحیثیت مبعوث ہندستان واپس لوٹےاورتعلیم وتدریس کےلئےان کاتقررجامعہ فیض عام مئو یوپی میں ہوا۔
مولاناعبدالمعیدقاسمی جامعہ فیض عام میں ایک کامیاب اورباصلاحیت استادحدیث کی حیثیت سےمشہورہوئے,باوجودیکہ وہ دارالعلوم دیوبندکےفاضل اورحنفی مسلک پرعامل تھےاورجامعہ فیض عام مسلک اہلحدیث کی ممتازدرسگاہ ہےلیکن مولاناکی شخصیت اس ماحول میں غیرمتنازعہ اورمحبوب رہی۔
.1997میں احیاءالعلوم کےاحوال دگرگوں ہوئےدرحقیقت اس درسگاہ کومولاناشکراللہ مبارکپوری اوران کےبھتیجےمولاناعبدالباری نےاپنےحسن انتظام سےایک مثالی درسگاہ کامقام عطاکیاتھا.لیکن ان کےبعدمقامی انتظامیہ (جن میں زیادہ ترغیرعلمی لوگ رہےہیں )اس درسگاہ کےارباب حل وعقدبن گئےاورعہدہءنظامت ایک کھلونابن کررہ گیا۔
مولاناجمیل نذیری اور مولاناقمرالدین سریانوی کادورنظامت اسی طرح کی صورت حال سےدوچاررہا.اسی اثناءمیں قصبہ کےلوگوں کےشدیداصرارپرمولاناعبدالمعیدقاسمی,مئوسےمبارکپورتشریف لائے,مدرسہ کی انتظامیہ نےمولاناکوعہدہءنظامت پرفائزکیا,انھوں نےاپنےدورمیں مولاناعبدالباری مبارکپوری کےادھورےخواب کی تکمیل کی مکمل کوشس کی۔
جامعہ عربیہ احیاءالعلوم مبارکپور کی درسگاہ نےعلم وعرفان کی بہت سی شمعیں روشن کی ہیں اوربہت سی علم وعمل کی ہستیاں اسی خاک سےاٹھی ہیں.مورخ اسلام مولاناعبدالحفیظ" قاضی اطہرمبارکپوری".مولانانجم الدین احیائ'مولانامحمدعثمان ساحرمبارکپوری,مولانا اعجاز احمد اعظمی ,مولاناعارف جمیل جیسی عظیم الشان شخصیات اسی مایہءنازدرسگاہ سےپیداہوئیں۔
مولاناعبدالمعیدقاسمی رحمہ اللہ قصبہ مبارکپورضلع اعظم گڈھ کےایک تاجرگھرانےمیں پیداہوئے.مبارکپورکوساڑیوں کی صنعت کااہم مرکزہونےکافخرحاصل ہے,پوری دنیامیں ہینڈلوم پرتیارکی جانےوالی بنارسی ساڑیوں کااصل مقام بنارس کےبعد"مبارکپور "ہی ہےجہاں یہ ساڑیاں نہایت عمدگی سےبنی جاتی ہیں اوربنارس کےآڑھت اس کو جگہ جگہ سپلائ کرتےہیں۔
مولاناعبدالمعیدقاسمی کےدوراہتمام میں جامعہ عربیہ احیاءالعلوم شہر کی گنجان آبادی سے نئ جگہ پرمنتقل ہوااورآج ایک وسیع وعریض آراضی پرخوشنماعمارتوں کاجاذب نگاہ کیمپس نظرآرہاہے.اس علاقےکو"جامعہ آباد"کےنام سےنگرپالیکامبارکپورنےمنظوری دی۔
مولاناقاسمی کو2014.میں جامعہ سےعلیحدہ ہونا پڑا، اس کااثران پرزیادہ ہوا۔
مولانامحمدعارف اعظمی جہاناگنجی کےانتقال کےبعدجمعیتہ علماءاعظم گڈھ کی جنرل باڈی نےمولاناعبدالمعیدقاسمی کواتفاق رائےسےضلع کاصدرمنتخب کرلیااس تنظیم کےپلیٹ فارم سےانھوں نے جو ملی,سماجی اورفاہی خدمات انجام دئیےوہ تاریخ کاایک سنہراحصہ ہے. مولاناعبدالمعیدقاسمی ایک عملی انسان اوراصولی شخص تھےان کےانتقال سےایک شاندارتدریسی اورتنظیمی عہدکاخاتمہ ہوگیا۔

3 لائك

0 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ


 
hausla.net@gmail.com : ؞ ہم سے رابطہ کریں

تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2021.