؞   حادثہ کو دعوت دے رہا ہے لال گنج کے طاہر پور کا یہ پل
۱۵ فروری/۲۰۲۰ کو پوسٹ کیا گیا
طاہر پور/بسہی اقبال پور (ابو زید/حوصلہ نیوز): بسہی اقبال پور کے قریبی گاؤں طاہر پور سے گزرنے والی شاردا نہر پر بنے پل کی دونوں جانب کی دیواریں ٹوٹی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے ہر وقت حادثہ کا خطرہ لگا رہتا ہے۔ اطلاع کے مطابق یہ پل تقریبا 2 سال سے ٹوٹا ہوا ہے اور پل کے سامنے ودھیا مندر اسکول ہے جس میں بارہویں درجہ تک کی تعلیم ہوتی ہے۔
دیوگاؤں بازار سے محض پانچ سو میٹر کی دوری پر بنا یہ پل جس کے قریب نیتا جی سبھاش چندر بوس ڈگری کالج، ٹیلی فون اسکچین، دوسری جانب پرائمری ہیلتھ سینٹراور اسی سے قریب دیوگاؤں بجلی پاور ہاؤس، بسہی-طاہر پور کے قریب رام رحیم انٹر کالج، مدرسہ سفینہ حق بسہی، سٹی پبلک اسکول کے علاوہ دن بھر میں تقریبا 15 سے 20 اسکول وکالجز کی بسوں کا آنا جانا اسی پل سے ہوتا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پورب جانب سے آنے والے اگر بے خیال ہوئے تو ودھیا مندر میں جا گھسیں گے یا تو پانی میں گریں گے اور بازار کی جانب سے آنے والے سیدھا پانی میں جائیں گے۔
اہرلی خزر پور، بسہی اقبال پور، سلہرا، بنار پور، پرسورا، سلیم پور جیسے تقریبا آدھا درجن گاؤں کے لوگوں کا روزانہ کا آنا جانا اسی اکلوتے راستے سے ہے۔ بسہی اقبال پور کے رہنے والے عبدر الرحیم نے بتایا کہ اس کے علاوہ جو دوسرا راستہ ہے وہ کافی دور ہے اور اس سے چار پہیہ کی سواریاں مشکل سے جاپاتی ہیں۔
ودھان سبھا لال گنج سے بہوجن سماج پارٹی سے ایم ایل اے آزاد اری مردن نے بتایا کہ یہ پل گاؤں سے باہر اور محکمہ آب پاشی کے تحت آتا ہے۔ ہم نے ان کو تقریبا 15 دن پہلے عرضی دی ہے۔ مزید بتا یا کہ اس پل کے بارے میں مجھے معلوم نہیں تھا جب مقامی لوگوں نے اطلاع دی تو اس کے بعد اس پر عرضی دی گئی ہے۔
مقامی نامہ نگار عبد الرحیم نے حوصلہ نیوز کو بتایا کہ پل اتنا خطرناک ہے کہ اگر کسی کے ساتھ حادثہ پیش آیا تو وہ یا تو سیدھا نہر میں جائے گا یا سامنے انٹر کالج کے اندر گھس جائے گا۔ مزید بتایا کہ اسی راستے سے علاقے کے ودھایک اور دوسرے بڑے سیاسی لیڈران کا آنا جانا ہوتا ہے لیکن اس کی بدحالی کی طرف کسی کی نظر نہیں جاتی ہے۔
بسہی اقبال پور سے پردھان اور علماء کونسل کے فعال کارکن محمد صالح نے بتایا کہ دو سال پہلے فور لین کا کام ہورہا تھا جس کی وجہ سے ڈمپر اسی راستے سے آتے جاتے تھے۔ ڈمپر کے آنے جانے کی وجہ سے پل کی دو نوں جانب کی دیواریں ٹوٹ گئیں ہیں۔ اعلیٰ عہدے داروں سے اس کی شکایت درج کرائی گئی لیکن ابھی تک پل نہیں بن سکا۔

1 لائك

0 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

13 افسوس

1 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
Commented on : 2020-02-18 09:50:01
Ghufran Rafiqui Islahi Bu : پل پر ریلنگ باؤنڈری بنوانے کا آسان طریقہ : چند ماہر تیراک بچے پل پر سے ایک پلاننگ کے تحت کچھ راہگیروں کے سامنے پانی میں کود جائیں۔ اور دو چار دن کے لیے غائب ہو جائیں اور ادھر وقتی رون پیٹنے اور پولیس میں خبر کرنے کے ساتھ مختلف وِبھاگ پر ایف آئی آر درج کرادی جاۓ دیکھیے دوسرے تیسرے دن ہی پل پر شاندار ریلنگٹن لگ جاۓ گی۔ مگر اس کے لیے ایک جاندار پلاننگ + اسٹوری تیار کرنی پڑے گی۔ یہ " بھارت " ہے یہاں بھارت کا " ر" نکالے بغیر" بھات " بھی نہیں بنتا۔

تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2020.