؞   سرائے میر کا یونس ٹی اسٹال، کچھ یادیں کچھ باتیں
۱۰ فروری/۲۰۲۰ کو پوسٹ کیا گیا
تحریر: محمد مرسلین اصلاحی
یونس ٹی اسٹال سرائے میر اعظم گڑھ کا ایک ایسا قدیم چائے خانہ ہے۔ جہاں شام ہوتے ہی زیادہ تر شعرا، ادبا، مولوی، ڈاکٹر اور سیاست دان کی مجلسیں گرم ہوتی ہیں اور چائے کی چسکیوں میں نوع بنوع کے موضوعات زیر بحث ہوتے ہیں۔ مصرعے ڈھلتے ہیں، قافیے بدلتے ہیں، شعر کی شیشہ گری ہوتی ہے اور الفاظ کی بخیہ گیری۔ نقد و انتقاد کے پیمانے میں اپنے اپنے عین شین کی تراش کی جاتی ہے۔ واہ واہی اور انجمن ستائش باہمی کی ہمہ ہمی میں داد سخن بھی لوٹی جاتی ہے۔ ما اجملک و ما احسنک کی آوازیں بھی بلند ہوتی ہیں۔ کباب، پاپڑ، چائے، پاؤ، ملائی ڈبل روٹی کے لئے یہ قہوہ خانہ مشہور ہے جہاں ۔۔۔ شیفتہ کا کوفتہ بنتا ہے۔ غالب کے گریباں کی دھجیاں اڑتی ہیں، میر کی فغان نیم شب کے آئینے میں آہ مضراب ساز ہوتی ہے۔ اقوال فروش اپنی زبان کے آبلے پھوڑتے ہیں۔ نئے شعراء غالب ہوتے ہیں اور پرانے غالب پر غالب! یہیں سے طرحی مشاعروں پر شب خوں مارنے کے منصوبے بھی طے ہوتے ہیں۔ بسا اوقات محفل شعر و سخن سے زیادہ بحثا بحثی اور گلپٹ پٹ ہوتی ہے پر ان بے ربط گفتگو میں بھی عجب مزاح کا پہلو ہوتا ہے۔ مولوی طبقہ مسائل دنیا سے زیادہ آخرت کی دھونس جماتا ہے اور چلتا بنتا ہے۔ سیاسی لوگ اپنے تجزیوں سے پل بھر میں حکومت کی ایسی کی تیسی کرتے نظر آتے ہیں۔ چائے کا کپ جوں ہی خالی ہوا سیاست کی بساط بھی لپیٹ دی گئی۔ ڈاکٹر امراض کی تشخیص، دواؤں کی افادیت پر اپنے تجربات بانٹے ہیں۔ تاجر مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ پر گفتگو کا طومار باندھے نفع و ضرر کی ساری آلائش یہیں پر پٹخ دیتے ہیں۔
کہتے ہیں بحث و مباحثہ کا یہ سلسلہ دیر رات تک رہتا ہے۔ جب کہ ٹی اسٹال کے ایک طرف سائن بورڈ لگا ہوا ہے کہ یہاں سیاسی اور مذہبی باتیں کرنا سخت منع ہے۔ دوسری طرف دفعہ 144کے نمبر کی تختی بھی جھول رہی ہے۔ مگر مجال کیا کہ اثر انداز ہو۔
یونس ٹی اسٹال بہت پرانا قہوہ خانہ ہے کم از کم میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے ابھی تک ہوبہو دیکھ رہا ہوں اور وہی چائے، کباب، وہی پاپڑ اور ملائی دبل روٹی! لاکھ بہار و خزاں کے تغیرات آئے لیکن اپنی قدامت سے ذرا بھی سر موئے انحراف نہ ہوا۔ جس بزرگ ہستی کے نام پر یہ آباد خانہ روشن ہے اس سے زندہ دلان کو ایسا جذباتی لگاؤ ہے کہ لال قلعہ اور تاج محل سے نہیں ہے۔ اس کے وارث نہیں رہے ، اس کے وارث ہیں۔ حاجی منظور صاحب اس وراثت کے امین ہیں۔ اپنی صحت کے اعتبار سے جیسے تب تھے ویسے آج بھی ہیں ۔سر پر جواہر لال نہرو چھاپ ٹوپی۔ قمیص، چوڑا پائجامہ، خاموش طبع، اپنے کام سے کام، لوگوں کے آرڈر پر فی الفور اشیا کی دستیابی! نہ خود بدلے نہ قہوہ خانے کو بدلنے دیا۔
قہوہ خانہ کے عقب میں جنوبی جانب اہل تشیع کا امام باڑہ ہے جو انجمن کے ما تحت ہے، پرانی عمارت! لیکن رنگ و روغن سے مزین ابھی موجود ہے۔ کہا جاتا ہے یہ امام باڑہ جو عزاخانہ ء ابوطالب کے نام سے موسوم ہے اہل تشیع حضرات کے دور عروج کی پرانی یادگار ہے۔ جب انہیں برٹشش دور میں زمیندارای کے محدودہ انتقال کے حوالہ سے اختیارات حاصل ہوئے تو سرائے میر کا پورا علاقہ انہیں کے زیر اثر تھا۔ محرم اور تعزیہ داری کے لئے یہ عزا خانہ بھی وقف کر دیا گیا تھا ۔ یکم سے دسویں محرم تک بڑی چہل پہل رہتی ہے۔ دور دراز علاقوں سے لوگ محرم دیکھنے کے لئے آتے ہیں اور کئی انجمنیں یہاں اکٹھی ہوتی ہیں اور اسی مناسبت سے اس قصبہ کا نام بھی سرائے میر پڑا۔


1 لائك

1 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

21 كيا خوب

1 افسوس

0 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2020.