؞   ڈاکٹر مظفر احسن اصلاحیؒ: ایک ناقابل فراموش واقعہ
۱۸ ستمبر/۲۰۱۹ کو پوسٹ کیا گیا
تحریر: اختر سلطان اصلاحی
یہ غالبا 1990 یا 91 کی بات ہے میں مدرسۃ الاصلاح سراے میر اعظم گڑھ میں عربی سوم کا طالب-علم تھا۔
بزم خطابت عشاء کے بعد منعقد ہوتی تھی. اس دن میں نے بھی ایک طویل تقریر" طاقت کا اصل منبع،، کے عنوان سے تیار کی تھی. یہ سید مودودی علیہ الرحمۃ کا ایک طویل مقالہ ہے۔
عشاء کے بعد بھی تقریر پورے طور سے یاد نہ ہوسکی تھی، میں جلدی جلدی اسے دہرا رہا تھا، اتنے میں استاذ محترم مولانا عبیداللہ صاحب کی پاٹ دار آواز سنائی دی۔
" ابھی تک کون لوگ اپنے کمروں میں ہیں، پروگرام شروع ہوگیا ہے جلدی مسجد جائیے.،،
استاذ محترم کی آواز سنتے ہی میں جلدی جلدی لنگی سے پاجامے میں منتقل ہوا اور تقریباً دوڑتے ہوے مسجد پہنچا۔
یہ ایک تقریری مقابلہ تھا، نگراں کی حیثیت سے ڈاکٹر مظفر احسن صاحب پورے وقار کے ساتھ کسی شیر کی طرح اسٹیج پر جلوہ افروز تھے. طلبہ ایک سے ایک تقریر کر رہے تھے. مگر ہماری حالت نہ پوچھیے جو یاد تھا وہ بھی بھولتا جاتا تھا. گھبراہٹ کی وجہ سے ہم پسینہ پسینہ ہوے جا رہے تھے.
اتنے میں معتمد خطابت نے ہمارا نام پکارا. ایک لمحے کے لیے جیسے ہم نے اپنی کیفیت پر قابو پایا اور اسٹیج کی طرف روانہ ہوے۔
مگر ابھی ہم اسٹیج تک بھی نہ پہنچے تھے کہ بہت سے ساتھیوں کے کھلکھلانے اور ہنسنے کی آواز آنے لگی. اسٹیج پر پہنچنے کے بعد ہی ہم اصل صورتحال سمجھ سکے۔
جلد بازی میں ہم نے پاجامہ الٹا پہن لیا تھا.لاہی ڈیہہ غنی مرحوم کے سلے ہوے پاجامے میں کپڑا (چیپھا) بہ افراط ہوتا تھا جو دور سے ہی نظر آتا تھا۔
اسٹیج پر یہ عجیب وغریب غلطی سب کے لیے تفنن طبع اور تفریح کا سامان بن گئی.تمام طلبہ ہنس رہے تھے، ڈاکٹر صاحب بھی ایک لمحہ مسکراے مگر فورا کیفیت پر قابو پا لیا۔
تقریر تو پہلے ہی تیار نہ تھی اس ناشدنی نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی. ہم نے دو تین جگہ اسٹاپ لے لے کر لڑکھڑاتے ہوے چلنے کی کوشش کی مگر بات نہ بنی تو وآخر دعوانا کہہ کر واپس آگئے۔
ڈاکٹر صاحب کی اختتامی گفتگو سننے سے تعلق رکھتی تھی. اس دن بھی ڈاکٹر صاحب نے اپنے بحر زخار سے نہ جانے کتنے گوہر آبدار لٹاے. ایک علم ودانش سے بھری گفتگو کی. تقریر کے بہت سے اسرار و رموز بتاے اور پھر کہنے لگے:
"ارے بھائی وہ طالب علم کہاں ہے جو جلد بازی میں کپڑے دوسرے انداز سے پہن کر آگیا تھا. گرچہ وہ تقریر بھول گیا مگر میں اس کی جرات وہمت کی داد دیتا ہوں کہ اس طرح کے نا موافق حالات میں بھی اس نے اپنی بات پیش کرنے کی پوری کوشش کی. اچھے مقرر کی ایک صفت یہ بھی ہوتی ہے، ان شاء اللہ وہ طالب علم بھی ایک اچھا مقرر بنے گا،،۔
ڈاکٹر صاحب کی اس حوصلہ افزا گفتگو نے میری ساری ذہنی کوفت دور کر دی۔
چار پانچ سال پہلے ایک ملاقات میں جب میں نے ان سے اس واقعے کا ذکر کیا تو وہ خوب ہنسے۔
کہنے لگے مجھے تو یاد نہیں مگر تم کو تو پوری زندگی یاد رہے گا۔
آج دن بھر سولا پور میں مختلف سرگرمیوں میں مشغول رہا مگر ذہن میں ہر وقت ڈاکٹر مظفر احسن اصلاحی صاحب کا سراپا، ان کی باغ و بہار شخصیت، وضع داری، علمی وقار ودبدبہ چھایا رہا۔
جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں
کہیں سے آب بقاے دوام لا ساقی
دبستان شبلی و فراہی اپنے ناموروں سے خالی ہوتی جاتی ہے اور ہر خلا اتنا بڑا ہوتا ہے کہ اس کی جگہ لینے والا دوسرا موجود نہیں۔
اللہ غریق رحمت کرے.جنت کو ان کا مسکن بناے. آمین
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

3 لائك

6 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

1 افسوس

0 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2019.