؞   ذکر ایک محسن استاذ کا۔۔۔
۸ ستمبر/۲۰۱۹ کو پوسٹ کیا گیا
تحریر: اختر سلطان اصلاحی

بچپن میں جس چیز نے مجھے بہت آزمائش میں ڈالا وہ اساتذہ کی سختی اور مار پٹائی تھی. اساتذہ کی مار کے ڈر سے میں نے ١٩٨٥ میں مدرسۃ الاصلاح چھوڑا جہاں حفظ میں مولوی منہاج صاحب اور مکتب میں ماسٹر یونس کی مار آج تک یاد ہے۔1985میں میرا داخلہ جامعۃ الفلاح بلریا گنج کے مکتب چہارم میں ہوا، وہاں میں نے تین چار ماہ تعلیم حاصل کی. اتفاق سے مکتب چہارم میں جو کلاس ملی وہ ماسٹر ادریس صاحب مرحوم کی تھی. ماسٹر صاحب اپنی قابلیت، تدریسی مہارت اور سخت نظم و ضبط کے لیے مشہور تھے. ایک دو ماہ تک تو معاملہ ٹھیک رہا پھر انھیں میری تعلیمی کمزوریوں کا اندازہ ہوا، خاص طور سے ریاضی میں زیادہ کمزور تھا. ماسٹر صاحب اور ماسٹر جنید صاحب مرحوم کے درمیان بھی کچھ ان بن تھی۔ ماسٹر ادریس صاحب مارتے ہوے اکثر کہتے
"آتا جاتا کچھ نہیں بس جماعت اسلامی کی وجہ سے داخلہ ہوگیا ہے. اس کا داخلہ جنید نے کروایا ہے"
بہر حال ان کی روز روز کی پٹائی اور حجامت سے تنگ آکر ایک دن میں بلریا گنج سے بھاگ نکلا۔
والد مرحوم تعلیم کی اہمیت سے واقف تھے. فلاح سے واپس آنے کے بعد انھوں نے مجھے دوبارہ اصلاح پر بھیجنے کی بہت کوشش کی مگر میں کسی طور تیار نہ ہوا۔
بعد میں 1988 میں دوبارہ میں مدرسۃ الاصلاح گیا اور فضیلت کی تکمیل کی۔
والد صاحب نے اپنے ساتھ دوکان پر بیٹھانا شروع کیا۔وہ پوری دوکان کی صفائی مجھ سے کرواتے۔کھاد کی بوریاں ادھر سے ادھر کرواتے۔گاہکوں کی سائیکل پر کھاد لدواتے۔ وہ سوچتے تھے کہ اتنا کام لیا جاے کہ میں پریشان ہوکر پڑھائی کے لیے تیار ہو جاوں۔
مگر میں اپنی حالت پر مطمئن تھا۔ شوق سے سارے کام دوڑ دوڑ کر انجام دیتا۔ایک دن بینا پارہ مکتب کے استاذ حاجی طاہر صاحب عرف حاجی اچھو صاحب دوکان پر آے، وہ اکثر دوکان پر آیا کرتے تھے۔وہ کئی روز تک مجھ سے طرح طرح کی باتیں کرتے رہے اور تعلیم کی اہمیت بتاتے رہے۔ ایک دن انھوں نے بڑی عجیب پیشکش کی.
کہنے لگے بینا پارہ میں میرا ایک اسکول ہے، وہاں جماعت پنجم تک کی تعلیم ہوتی ہے۔ اگر تم وہاں پڑھنے کے لیے تیار ہوتو میں وعدہ کرتا ہوں کہ کوئی استاذ تمہاری پٹائی نہیں کرے گا۔ دوسرے یہ کہ روز میں ادھر سے سائیکل پر جاتا ہوں تم سائیکل پر میرے پیچھے بیٹھ جانا۔
اگلے دن میں حاجی صاحب کی سائیکل پر بیٹھ کر بینا پارہ گیا اور پڑھنا شروع کر دیا۔ حاجی طاہر صاحب نے غالبا دوسرے اساتذہ کو بھی مجھے سزا دینے سے منع کردیا تھا اس لیے دیگر اساتذہ بھی مجھے نہ مارتے تھے۔
حاجی صاحب اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ ان کا طلبہ پر بہت رعب تھا۔جب وہ مجھے سائیکل پر بیٹھاے اسکول میں داخل ہوتے تو میں ایک عجیب احساس برتری سے سرشار ہوتا۔
اللہ حاجی صاحب کی مغفرت فرمائے انھوں نے دوبارہ مجھے تعلیم سے جوڑ دیا۔
کوکن آنے کے بعد میں تقریباً ہر بار جب وطن جاتا حاجی صاحب سے ضرور ملاقات کرتا اور ان کی دعائیں لیتا۔یہ سلسلہ ان کی وفات تک جاری رہا۔
اب بھی جب اپنے اساتذہ کو یاد کرتا ہوں حاجی صاحب کی شخصیت بہت یاد آتی ہے. واقعتا وہ ایک مشفق اور محسن استاذ تھے. اللہ ان کی مغفرت کرے. آمین

2 لائك

2 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
Commented on : 2019-09-09 08:40:34
Rashid : Allah maghfirat farmae

تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2019.