؞   ڈاکٹر محمد مشفق اصلاحی مرحوم کی کتاب کی رسم اجراء
۱۲ جون/۲۰۱۹ کو پوسٹ کیا گیا
(حوصلہ نیوز/پریس ریلیز ) ہندوستان کی جدید تاریخ میں انیسویں اور بیسویں صدی اس لحاظ سے نہایت اہم ہے کہ اسی دور میں ملک میں تہذیبی و سماجی کشمکش نیز معاشرتی و اخلاقی اختلاط کا ایک نیا منظر نامہ وجود میں آرہا تھا جسے اس دور کے ادباء و مصنفین نے اپنی تحریروں میں بخوبی پیش کیا اور آنے والی نسلوں کے لئے اس دور کی سماجی تبدیلیوں اور عوامی رجحانات کا ایک مبنی بر حقیقت تعارف محفوظ کردیا ہے۔ انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے اوئل میں شمالی ہندوستان کا مسلم معاشرہ بطور خاص جس طرح کی مذہبی و تہذیبی کساکش سے نبرد آزما تھا اور مغربی تہذیب کے تناظر میں ہونے والی مشرقی آداب و اقدار کی رسہ کشی و نئی یوروپی تہذیب کو اپنانے اور پرانی روایات کو بھی سینہ سے لگائے رکھنے کی کشمکش میں مبتلا تھا ، اسی زمانے میں ان سماجی تبدیلیوں ، ان کے مذہبی،اخلاقی اور اور تہذیبی اثرات نیز عوامی رجحانات کو آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ رکھنے کا کام اس دور کے ادیبوں نے ناولوں ، افسانوں اور اشعار کی شکل میں بخوبی انجام دیا ہے۔
مذکورہ بالا خیالات کا اظہار، ڈاکٹر محمد مشفق اصلاحی ( مرحوم ) کی کتاب “ اردو کے ابتدائی ناولوں میں تہذیبی کشمکش کی عکاسی” کی رسم اجرا کے موقع پر موجود شرکاء نے کیا۔ مجلس میں موجود اہل علم حضرات نے مذکورہ کتاب میں مصنف کی کاوش کا تجزیہ کرتے ہوئے اسے برطانوی دور حکومت میں ہندوستان کے مسلم معاشرے میں ہونے والی سماجی و تہذیبی تبدیلیوں کا آئینہ قرار دیا ۔ جب معاشرہ نئی یوروپی تہذیب اور پرانی مشرقی تہذیب کے ٹکراو کی دہلیز پر تھا اور نئی تہذیب کو اپنانے اور قدیم روایات کو بھی سینہ سے لگائے رکھنے کی کشمکش سے دوچار تھا اس دور میں خواتین کی سماجی بیداری ،تعلیم نسواں کی ترقی اور اسکی اہمیت و افادیت کے لئے مسلم خواتین کا کردار اور مردوں کی اجارہ داری والے معاشرہ میں عورتوں کے حقوق و کردار کے حوالے سے ادیبوں اور ناول نگاروں کی مختلف آراء کا تجزیہ ڈاکٹر محمد مشفق نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ بیشتر اہل علم حاضرین مجلس کا خیال تھا کہ کتاب کے مختلف ابواب میں اس دور کے اردو ناولوں کا تجزیہ کرتے ہوئے مصنف نے موضوع کا حق ادا کردیا ہے-
کتاب کے مصنف ڈاکٹر محمد مشفق اصلاحی مرحوم کا تعلق ضلع اعظم گڑھ کے مردم خیز قریہ نیاوج سے تھا۔ مکتب کی ابتدائی تعلیم کے بعد عالم اسلام کی مشہور درسگاہ مدرستہ الاصلاح سے فضیلت اور پھر شبلی کالج اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی ہوتے ہوئے دہلی یونیورسٹی سے 2016 میں اردو ادب میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور عین عالم شباب میں گزشتہ سال جولائی میں ایک ناگہانی بیماری سے نبرد آزما ہوتے ہوئے مالک حقیقی سے جا ملے۔
کتاب کے رسم اجرا کی یہ تقریب شاہین باغ، نئی دہلی میں حافظ اشرف اخلاق اصلاحی کے دولت کدہ پر منعقد ہوئی جس کی صدارت ڈاکٹر عبید اصلاحی نے کی۔ مجلس میں حافظ عبدالرازق ، ڈاکٹر نبیل احمدمرزا ، ڈاکٹر کلیم احمد ، ڈاکٹر اسجد ڈاکٹر شاہ عالم کے علاوہ دیار شبلی و سر سید کے متعدد اہل علم و دانش شریک تھے۔


5 لائك

3 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

1 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2019.