؞   گاؤں میں بدلتی روایات، بدلتے تعلقات
۱۲ اپریل/۲۰۱۹ کو پوسٹ کیا گیا
تحریر: أبو معاذ
بچپن کی بات ہے، گاؤں میں کسی کے گھر شادی ہوتی تھی، گاؤں میں جن لوگوں کے پاس دودھ دینے والے جانور ہوتے، سارے لوگ شام میں یا صبح میں دودھ کی بالٹی لیے ہوۓ جس کے گھر شادی ہوتی دودھ لیکر پہنچ جاتے ، دودھ کے پیسے لینا معیوب مانا جاتا تھا، جن کے گھر بچے ہوتے وہ بچوں کے لیے تھوڑا دودھ بچا لیتے، باقی سارا دودھ شادی والے گھر دے آتے، کچھ لوگوں کی محبت و سخاوت کا یہ عالم تھا کہ اگر ان کے گھر پر چھوٹے بچے ہوتے تب بھی سارا دودھ شادی والے گھر دے آتے اور بچے کی ماں سے کہتے فلاں کے یہاں عزت کی بات ہے ایک دن بچے کو کسی طرح سنبھال لیں۔ بیٹھکوں اور چوپالوں میں لوگ اس شخص کی سخاوت کی مثالیں بیان کرتے کہ فلاں شخص تو جانور سے دودھ نکال کر سیدھا شادی والے گھر جاتاہے، اپنے گھر جاتا ہی نہیں۔
شادی ہی کے موقع کی ایک روایت مہمانوں کے لیے گھر گھر سے چارپائی اکٹھا کرنا تھا، محلے کے نوجوان گھر گھر جاتے، قلم دوات سے چارپائیوں پر نام لکھتے اور گھر والے خوشی خوشی اپنی چارپائی دیتے، کچھ لوگ تو باقاعدہ ایک چارپائی اسی مقصد کے لیے بنا کر رکھتے۔
شادی کے موقع کی تیسری روایت جن کے یہاں شادی ہوتی تھی محلے پڑوس کے لوگ ان کے یہاں آکر پوچھتے تھے ہمارے لیے کوئی کام ہے تو بتائیں، اپنے گھروں کے بچوں کو تاکید کرتے، فلاں کے یہاں شادی ہے، وہیں رہنا اور جو کام ہو کروانا۔
چوتھی اور سب سے اچھی بات، جس کے گھر شادی ہوتی اس سے خاندان میں اگر کسی سے ناراضگی ہوتی اور امکان ہوتا کہ وہ شخص شادی میں شریک نہی ہوگا، خاندان و محلے کے دوسرے افراد شادی سے ایک دو دن پہلے ہی صلح مصالحت کی کوشش میں لگ جاتے اور دن و رات ایک کرکے کسی نہ کسی طرح صلح کراکر شادی میں شرکت کراہی دیتے، یہ نا ممکن تھا کہ ناراضگی کی وجہ سے کوئی شادی میں شریک نہ ہو۔
بھائی چارے، میل ملاپ، آپسی روابط کے فروغ میں ان روایات کا رول بہت اہم تھا۔ اس کے علاوہ گاؤں میں الفت و محبت و بھائی چارے کی بے شمار روایات تھیں جن کی وجہ سے گاؤں کی زندگی میل ملاپ، سادگی، سادہ لوحی کے لیے جانی جاتی تھی۔ اب یہ روایات بدل رہی ہیں، کچھ تو ناپید ہو چکی ہیں۔ اب کم لوگوں کے پاس جانور ہیں، جن کے پاس ہیں بھی وہ نہ مفت میں دودھ دے سکتا ہے اور نہ ہی اس سے مفت میں دودھ لیا جاسکتا ہے، مفت میں دودھ لینا اب شان کے خلاف تصور کیا جائے گا۔ چارپائیاں بازار سے کرایہ پر آنے لگی ہیں، مہمانوں کو کھلانے پلانے کے لیے ویٹرس بھی آنا شروع ہوگئے ہیں رفتہ رفتہ محلے پڑوس والوں کی ضرورت بھی ختم ہوجائے گی، رہی بات جس کے یہاں شادی ہے اگر اپنوں میں اس سے کسی سے ان بن ہے تو محلے پڑوس سے اب صلح کرانے کی جرأت شاید ہی کوئی کرے، ہر شخص کی انا کا مسئلہ ہے۔ اب سب کچھ ریڈیمیڈ یا کرایہ پر ملنے لگا ہے، بھائی چارے کے فروغ کی ساری روایات مصنوعی اشیاء کے ذریعہ ختم ہورہی ہیں۔
گاؤں میں رہنے والے باشعور افراد کو اس پر غور کرنا چاہیے، آج بھائی چارے کے فروغ کے لیے نئے ذرائع تلاش کرنے کی ضرورت ہے، اپنی شان و انا پس پشت ڈال کر کچھ روایتوں کو زندہ رکھنا ضروری ہے، ورنہ آہستہ آہستہ میل جول، الفت و محبت، بھائی چارہ سب مصنوعی ہوجائیں گے، جو ایک سماج خاص طور پر مسلم سماج کے لیے اچھی مثال نہی ہے۔

13 لائك

27 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2019.