؞   سرائے میر شعری نشست کا انعقاد
۴ نومبر/۲۰۱۸ کو پوسٹ کیا گیا
سرائے میر (حوصلہ نیوز): سنیچر کو اختر مسلمی مائناریٹی ایجوکیشنل، سوشل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام سرائے میر میں ایک شعری نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں شعرا نے مشہور شاعر اختر مسلمی کی شاعری کے مختلف پہلوؤں پر اظہار بھی خیال کیا ۔
ڈاکٹر فیاض احمد علیگ نے اختر مسلمی کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے شاعری کو محض تفریح طبع کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ شاعری کے توسط سے فرد اور معاشرہ دونوں کی اصلاح کو مطمح نظر رکھا۔ جدیدیت کی آندھی میں بھی روایت و ہدایت کے چراغ کو روشن رکھا۔ اختر مسلمی نے اسلامی تعلیمات اور اخلاقی روایات و اقدار کی روشنی میں فن کی عظمت اور اس کے تقدس کو برقرار رکھا اور ترقی پسند تحریک، جدیدیت و ما بعد جدیدیت کسی کو لائق اعتناء نہ سمجھا۔ پورے اعتماد کے ساتھ روایتی غزل کو اس کے رنگ و آہنگ اور حسن و جمال کے ساتھ سینے سے لگائے رکھا۔ اس کی آبرو کی حفاظت کے ساتھ ہی اس کے خد و خال کو بھی محفوظ رکھا، یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں فطری لطافت و تازگی کے ساتھ ساتھ زندگی کی دل کشی، جذبات کی پاکیزگی، خیالات کی بلندی اور غزل کا بانکپن موجود ہے۔ ادبی لسانیات کے ساتھ ہی شعری جمالیات بھی نمایاں ہیں۔ غم دوراں کی بات ہو یا غم جاناں کا تذکرہ اختر مسلمی نے ہر جگہ غزل کے روایتی حسن اور اس کے تغزل کو برقرار رکھا ہے اور تمام عمر وہ صرف غزل کی زلف گرہ گیر کے اسیر رہے۔
۔
دانش فراہی نے کہا کہ اختر مسلمی 1928 کو اعظم گڈھ کی مردم خیز سرزمین مسلم پٹی میں پیدا ہوئے، ان کا نام عبید اللہ اور تخلص اختر مسلمی تھا۔ اختر مسلمی نے 11 برس کی عمر میں قرآن حفظ کیا اور 12 برس کی عمر میں باقاعدہ شعر کہنے لگے تھے۔ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی صدارت میں اپنا پہلا کل ہند مشاعرہ پڑھا۔ اختر مسلمی کے دو شعری مجموعے موج نسیم 1961 اور موج صبا 1981 میں ان کی زندگی میں شائع ہوگئے تھے جب کہ تیسرا مجموعہ "جام و سنداں ان کی وفات کے بعد کلیات اختر مسلمی میں شامل کردیا گیا ۔

نشست کا آغاز مفتی خورشید نے اختر مسلمی کی نعت پاک سے کیا۔
ان کا مقام کم نہیں لات و منات سے
لوگوں نے خواہشات کے جو بت بنائے ہیں
دانش فراہی
علَم اسلام کا ہے نوجوانوں آئو لہرائیں
اجالا شمعِ دیں کا ہم زمانے بھر میں پھیلائیں
مولانا عمر اسلم اصلاحی
مری جبیں ہر اک جا جھکتی نہیں میاں
یعنی فقیہ شہر کا سجدہ نہیں ہوں میں
ڈاکٹر فیاض علیگ
خمار، کیفی و اختر سے اک ہنر کے لیے
ترس رہی ہے غزل لفظِ معتبر کے لیے
آفتاب مجاہد
صحرا کی طرح رہتی ہیں ویران سی اب تو
مدت سے ان آنکھوں میں اب خواب کہاں ہے
ڈاکٹر شفیق اعظمی
گاؤں کا اک عہد اس پیپل سے بھی منسوب ہے
ٹہنیاں سوکھی ہیں جس کی جڑ اکھڑ جانے کو ہے
ممتاز قریشی
گناہوں میں جو ڈوبا ہے مکمل
وہی کردارِ حق پر بولتا ہے
رنجن آذر
جتنی ساری ہستیاں تھیں سب اسی مٹی میں ہیں
کل مری ہستی بھی مٹی میں ملا دی جائے گی
مفتی خورشید
ہو جائیں گے کانٹے بھی ترے نام پہ قرباں
پھولوں کی طرح خود کو مرے یار بنا لو (نیاز اشہر)
میں نے اک بار کہا تھا کہ مرے دل میں رہو
پوچھتے ہیں کہ ترے دل میں مکاں کتنے ہیں
ارشاد اعظمی
نشست کا انعقاد دانش فراہی کے گھر پر ہوا ۔ صدارت ڈاکٹر شفیق اعظمی اور نظامت ممتاز قریشی نے کی۔ مشیر شیروانی، شہباز، ابوالکلام، ابوذر، احمد واسع، بلال ارشد،فضل الرحمن کے علاوہ سامعین کی ایک بڑی تعداد دیر رات تک شعرا کے کلام سے لطف اندوز ہوتی رہی۔
آخر میں ندیم فراہی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔


5 لائك

0 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

1 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2018.