؞   بدایۃ المجتہد کے مترجم، مولانا بشیر احمد اصلاحی
۲۱ اکتوبر/۲۰۱۸ کو پوسٹ کیا گیا
تحریر: محمد صابر اصلاحی بینا پارہ
مولانا بشیر صاحب کا آبائی وطن تو ضلع بستی ہے لیکن وہ ایک عرصۂ دراز سے سرائے میر قریشی محلے میں رہ رہے ہیں ,
مولانا کہتے ہیں کہ جب میں بستی مدرسے میں پڑھا کرتا تھا تو مدرسة الاصلاح نے اپنے دو استاد مولانا ابوبکر اصلاحی بیناپارہ اور مولانا عبد الوہاب کوہنڈوی کو وہاں مدرسے میں پڑھانے کےلئے بھیجا لیکن پھر مدرسے کو انکی ضرورت ہوگئی اور پھر وہ مدرسے چلے آئے ,جب یہ دونوں اساتذہ واپس آرہے تھے تو مجھے اور میرے ایک ساتھی مولوی وکیل صاحب جو کہ بستی ہی کے تھے اپنے ساتھ لائے اور پھر ہمارا داخلہ مدرسة الاصلاح میں ہوگیا اور پھر ۱۹۵۳ ء میں فراغت ہوئی ۔
مولانا کہتے ہیں کہ تعلیمی زمانے میں میں مولانا علی میاں ندوی سے عربی میں خط و کتابت کیا کرتاتھا چنانچہ فراغت کے فوراََ بعد بجائے بستی اپنے گھر جانے کے میں ندوة العلماء لکھنؤ چلا گیا , اور کچھ سال میں علی میاں ندوی کے ساتھ رہا ۔
لیکن یہ سلسلہ بہت دیر تک نہ چلا اور میں نے گھڑی کی دکان کھول لی اور پھر گھڑی سازی کا یہ سلسلہ تقریباً پچاس سال تک چلا ۔
گھڑی کی دکان نہایت چھوٹی تھی تو ایک صاحب جوکہ انکے قریبی تھے انہوں نے کہا کہ ایسا کرو میرا دواخانہ بہت بڑا ہے تم آدھی دکان میں اپنی دکان رکھ لو اور بقیہ حصہ میرے مطب کےلئے چھوڑ دو چناچہ مولانا نے وہی کیا اور پھر دو لوگوں کی دکان ایک ہی دکان میں ہوگی ۔
اسی گھڑی سازی اور دکانداری کے دوران غالباً مولانا اکرام یا اسی طرح کا کچھ نام تھا وہ آئے اور کہنے لگے
" میاں بشیر یہ گھڑی سازی تمہارا کام نہیں ہے ,تم ایک الگ فیلڈ کے آدمی ہو , تو میں چاہتا ہوں کہ تم درس و تدریس میں لگ جاؤ کیونکہ تمہارے اندر درس تدریس کا ملکہ بخوبی موجود ہے " ۔
مولانا کہتے ہیں کہ مجھے انکی بات دل کو لگتی ہوئی معلوم ہوئی اور میں *کونرہ گہنی پڑھآنے کےلئے چلا گیا اور وہاں ایک سال تک رہا اور پھر کچھ وجوہات کی بنا پر میں وہاں بھی سے چلا آیا اور شاہ گنج میں پڑھانے لگا اور وہاں پورے چار سال پڑھایا , شاہ گنج کے بعد اسرولی جامعة الزاہدہ میں آگیا اور یہاں بھی تقریباً دس سال تک رہا پھر یہاں سے بھی مستعفی ہوکر لونیہ ڈیہہ چلا گیا اور وہاں گیارہ سال تک بحیثیتِ استاد پڑھاتا رہا ۔
مولانا نے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرا اصل مضمون عربی ادب رہا ہے ۔
مولانا موصوف ویسے تو متعدد کتابوں کے مصنف ہیں
لیکن انہوں نے ایک اور کارنامہ انجام دیا ہے جو کہ فی الحال شاید لوگوں کو کارنامہ نہ لگے لیکن ان کے انتقال کے بعد مجھے صد فیصد یقین ہے کہ لوگ انکی تعزیتی نشست میں اس بھولے ہوئے کارنامے کو ضرور یاد کریں گے
کارنامہ یہ ہے کہ مولانا محترم نے بدایة المجتھد جیسی شاہکار کتاب کا ترجمہ کیا ہے , جو نہایت ہی سلیس , سادہ اور عام فہم ہے اور مولانا نے اس کتاب کے ترجمہ کرنے کی جو اصل بتائی بلکہ کہہ لیجئے کہ مولانا کو جس بات نے اکسایا اور ابھارا تو یہی ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ اس اس شاہکار کتاب سے خواص کےساتھ ساتھ عوام بھی برابر مستفید ہوں۔
آپ کو بتا دیں کہ مولانا اب بینائی سے محروم ہیں اسکی وجہ بدایة کی شرح کی تصنیف و تالیف کی طویل مدتی ہے جوکہ انکی بصیرت پر اثر انداز ہوئی اور پھر انہیں نابینا کرگئی , ایک پیر بھی بالکل سوکھ چکا ہے جس کی وجہ سے اب وہ چل بھی نہیں سکتے ۔

2 لائك

4 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2018.