؞   بیناپارہ ؛ تعلیم کے تحت طلبہ کو کیا بیدار
۸ ستمبر/۲۰۱۸ کو پوسٹ کیا گیا
بیناپارہ (حوصلہ نیوز)اتر پردیش میں مسلم طلبہ ونوجوانوں کی تنظیم اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن فار اسلامک آئیڈیالوجی کی جانب سے "اندھیرے سے اجالے کی طرف" کے عنوان سے چلائی جارہی آل یوپی تعلیمی مہم کا پروگرام سنیچر کے روز بیناپارہ انٹر کالج بینا پارہ میں اساتذہ اور سرسید انٹر کالج میں طلبہ کے درمیان منعقد ہوا۔
سر سید انٹر کالج کے پرنسپل سلمان اللہ خان نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اسلام نے جو تعلیم کا تصور ہمیں دیا ہے وہ اسلام کے علاوہ کہیں بھی نہیں ملتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کے رسول نے فرمایا تھا کہ علم حاصل کرنے کے لئے چین تک جانا پڑے تو جاؤ یہ اس لئے کہا تھا کہ اس وقت تعلیم کے تعلق سے چین ہی سپر پاور تھا، اسی ملک نے سب سے پہلے کاغذ ایجاد کیا اور سب سے پہلے اپنی اسکرپٹ بھی ایجاد کی۔
بینا پارہ انٹر کالج بینا پارہ میں اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبد الواسع اصلاحی نے کہا کہ جب ہم قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہاں پر ہمیں یہ چیز ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے اندر ایک دوسرے سے بڑھ جانے کا جذبہ پیدا کیا اور یہ انسان اور فرشتوں کے درمیان ہے۔ مولانا نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خلافت اور امامت اس لئے عطا کی تھی کہ ہم تعلیم کے میدان میں بہت آگے نکل گئے تھے۔ خلافت عباسیہ کے دور میں بیت الحکمۃ ہمارے پاس تھا اور ہم پوری دنیا پر اسی علم کی بدولت راج کررہے تھے جو ہمیں اسلام سکھاتا ہے اور جس کے لئے آج مہم چلائی جارہی ہے۔
زاکر نعمانی نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو پہلی وحی نازل ہوئی تھی اس میں تعلیم حاصل کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ اسلام ہمیں علم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی صحیح پہچان کرواتا ہے اور ہمیں ایک صحیح مقصد سے جوڑتا ہے۔
ندیم احمد اپنے خطاب میں کہا کہ آج کل ہر جگہ تعلیم کے نام پر بڑے بڑے ادارے کھل گئے اور تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد میں کافی اضافہ بھی ہوا یکن تعلیم کہیں بھی نہیں ہے۔ آج ہم تعلیم حاصل کرکے معاشی حیوان بن گئے ہیں مگر اسلام نے ہمیں تعلیم کے ذریعہ انسانیت کی خدمت پر زور دیا ہے۔
ابو الفیض نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کل ہمارے یہاں جو تعلیمی نظام ہے وہ 1857 سے پہلے ہی جب لارڈ میکالے ہندوستان کے گورنر تھے تب اس نظام کو لاگو کیا تھا ان کی سوچ یہ تھی کہ ایسے جوان پیدا کئے جائیں جو جسمانی طور پر ہندوستانی ہوں لیکن ذہنی طور پر انگریز ہوں۔
پروگرام کی تلاوت حافظ فیصل نے کی جب کہ نظم سر سید انٹر کالج کے استاذ نسیم صاحب نے پڑھی۔

18 لائك

32 پسندیدہ

19 مزہ آگیا

24 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2018.