؞   میں نے پان ، بیڑی کیسے چھوڑی
۲۵ اگست/۲۰۱۸ کو پوسٹ کیا گیا

آج کے دور میں سگریٹ ، بیڑی، سرتی، گٹکھا اور ان جیسی چیزوں کا چلن عام ہوچکا ہے۔ گاؤں کا ہر تیسرا شخص نشہ میں ملوث ہے۔ جس میں جوان، بزرگ اور بچے سب شامل ہیں ، حال یہ ہے کہ بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ عوام اسے مہلک مرض جان کر بھی چوڑنے کو تیار نہیں ہے۔ جب کسی سے نشہ کی خرابی بتائی جاتی ہے اور اسے استعمال نہ کرنے کی بات کی جاتی ہے تو ایک عام عذر " کیا کریں ، چھوڑنے کی بہت کوشش کی لیکن چھوٹتا ہی نہیں" پیش کرکے لوگ اپنی جان چھڑالیتے ہیں۔
اسی طرح نشہ کرنے والوں میں سرائے میر کے پاس واقع کھریواں گاؤں کے رہنے والے 80 سالہ لطیف احمد ولد عبد الرؤف ہیں جو ان نشہ آور چیزوں میں سے اکثر کے عادی تھے۔ ان کے نشہ چھوڑنے کی داستان اتنی ہی دلچسپ ہے جتنا کہ نشہ کرنا ان کا مشغلہ ہوگیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ جب وہ سرکاری ملازم تھے اور ان کا تبادلہ 1955 میں گورکھپور سے مینہ نگر ہوا تھا تو نشہ جیسی بری عادت کا شکار ہوگئے۔ "مینہ نگر میں ایک پان کی دوکان تھی وہاں پر میں اور میرے ساتھ گاؤں کا ٹھاکر پردھان دونوں آکر پان کھاتے تھے، شروع میں بغیر تمباکو کے پان کھاتا تھالیکن جب اس کی عادت ہوگئی تو کچھ نیا تجربہ کرنے کی سوجھی پھر سرتی کے ساتھ پان کھانے کی عادت پڑگئی، اس کے بعد بیڑی سے بھی رشتہ بندھ گیا اور دھیرے دھیرے اس خاندان کی سار ی چیزیں میرے معمول کا حصہ بن گئیں۔ تقریبا 55 سال اسی طرح گزر گئے لیکن جوں جوں نشہ کا عادی ہوتا جاتا اس عمل میں اور زیادہ تیزی آتی جاتی۔ حالت یہ ہوچکی تھی کہ ایک دن میں ایک بنڈل سے زیادہ بیڑی پی جاتا تھا"۔
جس طرح لطیف احمد کی نشہ کرنے کی داستان عجیب ہے اس سے کہیں زیادہ حیرت انگیز داستان ان کے نشہ چھوڑنے کی بھی ہے۔
لطیف احمد کہتے ہیں کہ جب دوسری مرتبہ میرے دل کا آپریشن ہوا تو ڈاکٹر نے سختی سے منع کیا کہ اب بیڑی وغیرہ نہیں پینی ہے۔ جب میں اسپتال سے گھر آیا تو میں نے بھی پختہ ارادہ کیا کہ اب میں کسی بھی طرح کا نشہ نہیں کروں گا۔
اسپتال سے گھر آنے کے بعد کئی سال تک پریشان رہا جب کبھی بیڑی پینے یا سرتی کھانے کا جی کرتا تو آنکھ بند کرکے گھنٹوں پیٹ کے بل لیٹا رہتا۔ کبھی سونف اور ٹافی وغیرہ کھا لیتا تاکہ منھ خالی نہ رہے اور بیڑی وغیرہ کا احساس نہ ہو۔ الحمد للہ آج تقریبا دس سال ہوگئے ہیں میں نے کسی بھی طرح کا نشہ نہیں کیا ہے۔
یہ تھی لطیف احمد کی نشہ کرنے اور چھوڑنے کی کہانی لیکن لطیف احمد کا یہ بھی کہنا ہے کہ لوگ آج صرف بہانے بناتے ہیں اور نشہ چھوڑنا نہیں چاہتے ، اگر چھوڑنے کا پکا ارادہ ہوجائے تو یہ کچھ بھی مشکل نہیں ہے

0 لائك

1 پسندیدہ

3 مزہ آگیا

9 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2018.