؞   کیفیات ایکسپریس کی کہانی مسافروں کی زبانی
۱۹ اگست/۲۰۱۸ کو پوسٹ کیا گیا
اعظم گڑھ /دہلی (حوصلہ نیوز) اعظم گڑھ سے دہلی اور دہلی سے اعظم گڑھ کے درمیان چلنے والی ٹرین کیفیات اکسپریس میں مسافروں کا سیٹ سے زیادہ ہونا تو عام بات ہے مگر اب تو اس سوپر فاسٹ ٹرین کا پیسنجر ٹرین کی طرح چلنا معمول ہوگیا ہے۔ پچھلے کچھ برسوں سے یہ ٹرین اگر وقت سے اپنے اسٹیشن سے چل بھی دیتی ہے تو کب اپنے آخری منزل پر پہنچے گی اس کی اطلاع کوئی بھی مسافر نہیں بتا سکتا۔
نگواں کے رہنے والے محمد عاصم جو جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں پڑھ رہے ہیں ،حوصلہ نیوز سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ایسا لگتا ہے کہ کیفیات کا کوئی شڈہول وغیر ہ نہیں کہ کب کہاں کھڑی ہوجائے کب چلنے لگے ۔مگر ایک بات تو ہے کہ اس میں بیٹھنے کے بعد اس چیز کا اطمینان رہتا ہے کہ دیر سبیر گھر تو پہنچ ہی جائیں گے ۔
حسن پور کے رہنے والے محمد طاہر جو دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تعلیم حاصل کررہے ہیں انہوں نے بتا یا کہ میں تو17تاریخ کو صحیح سلامت تو گھر پہنچ گیا لیکن ٹرین کے لیٹ ہونے ،گرمی اور بھیڑ کی وجہ سے برا حال ہورہا تھا ۔دل یہ چاہ رہاتھا کہ کتنی جلد پھول پور آئے اور میں گھر پہنچ جاؤں۔
بندرابازار کے رہنے والے اور جامعہ ہمدرد کے طالب علم محمد اسجد نے حوصلہ نیوزسے بات کرتے ہوئے کہا کہ کیفیات میں زیادہ بھیڑ ہونے کی وجہ سے مجھے بنارس ہوکر آنا پڑا جس کی وجہ سے پریشانی اور زیادہ بڑھ گئی ۔اساڑھا کے رہنے والے محمد عمر جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کررہے ہیں انہوں نے حوصلہ نیوزسے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ علی گڑھ سے اعظم گڑھ کے لئے سب سے بہتر ٹرین کیفیات ہے اس کے علاوہ ایک آنند وہار ایکسپریس ہے جو صر ف ہفتے میں دویا تین دن ہے ساتھ ہی اس گاڑی کے پہنچنے کا وقت بھی صحیح نہیں ہے لیکن کیفیات میں اس وقت ٹکٹ کو لے کر مارا ماری ہے اور ٹکٹ نہیں مل رہا ہے ۔

0 لائك

0 پسندیدہ

2 مزہ آگیا

3 كيا خوب

1 افسوس

0 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
Commented on : 2018-08-19 21:42:15
Abul Faiz : Agar har village se kuch persen Railway ko complen kare to kuch kam ban sakta h

Commented on : 2018-08-19 22:05:03
ابو محمد : کیا کہا جائے (شبانہ باجی) کے بارے میں اطمینان تو بہت ہوتا ہے اس ٹرین میں مگر، اس بات کا قطعی اطمنان نہیں ہوتا کہ پہنچنا آج ہی ہوگا یا دوسرے دن

Commented on : 2018-08-19 23:39:44
ناطق اعظمی : ابو محمد بھائی آپ کی بات بالکل درست ہے لیکن اس کی تفصیل شاید شبانہ باجی کو بھی معلوم نہیں ہے کہ کیفیات مہینے میں کتنے دن اپنے وقت پر اعظم گڑھ پہنچتی ہے.

Commented on : 2018-08-19 23:43:54
عبداللہ : یہ کام تو حوصلہ نیوز کا ہے کہ وہ شبانہ اعظمی تک اس کی تفصیل پہنچائیں

تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2018.