؞   وہ یادگار بکرا
۱۷ اگست/۲۰۱۸ کو پوسٹ کیا گیا

تحریر؛ اختر سلطان اصلاحی
غالبا 1995 یا 96 کی بات ہوگی،اس زمانے میں ہمارے گھر عموما بڑے جانور کی قربانی ہوتی تھی، والد صاحب صاحب فراش تھے، اماں مرحومہ نے مجھ کو بلایا اور کہنے لگںی:
"بیٹا اس سال ایک بکرے کی بھی قربانی ہو جاتی تو اچھا تھا، میں نے صاحب جان کے بلسٹر سے بات کا ہے وہ کہہ رہا تھا کہ دیہات کے کسی گاوں میں آٹھ سو ، ہزار روپے کا بکرا مل سکتا ہے تم ذرا کوشش کرو۔،،
میں نے اماں کے حکم کے احترام مںل بلسٹر سے ملاقات کی اس نے بتایا کہ طویٰ ہریجن بستی میں ایک بوڑھی عورت کے پاس دو بکرے ہیں جو کم دام میں مل سکتے ہیں، بہتر یہ ہے کہ آج شام ہی میں وہاں کا سفر کر لال جاے۔،،
شام میں بلسٹر کے ساتھ اس بوڑھی عورت سے ملاقات ہوئی، ایک بکرا تو بک چکا تھا البتہ ایک باقی تھا جس کی قیمت اس نے ایک ہزار روپے بتائی۔ بکرا قد میں چھوٹا اور دبلا پتلا تھا اس لے اس کی عمر میں کچھ شک ہوا مگر بڑھیا نے یقین دلایا کہ یہ پچھلے سال روزے کے مہینہ میں پیدا ہوا تھا اس لئے کم سے کم تیرہ چودہ مہینے کا ہے۔ کچھ بھاؤ تاؤ ہوا تو معاملہ 900 روپے میں طے ہوگیا ، بلسٹر اپنی سائیکل پر بکرے کو لاد کر گھر لے آے وہ راستے بھر یقین دلاتے رہے کہ دس پندرہ روز اسے دانہ اور چارہ کھلائیں گے تو یہ دیکھنے کے لائق ہو جاے گا، غریب کے گھر تو اسے بس سوکھی روکھی گھاس ہی نصیب ہوتی تھی۔،،
اماں نے بکرا دیکھتے ہی منہ بگاڑا کہنے لگیں :
"پورے ایک سال کا نہیں لگتا تم نے کیسے اس کو خریدا؟،،
ہم نے اور مجھ سے زیادہ بلسٹر نے قسم کھا کھا کر یقین دلایا کہ دادی بکرا دبلا پتلا کمزور ضرور ہے مگر سال بھر کا ہے میں تو خود ہی اسے سال بھر سے دیکھ رہا ہوں۔
بلسٹر کی بات پر یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔
بکرا دروازے پر باندھ دیا گای غلام دادا کی نگاہ پڑی، کہنے لگے:
"کا ای بکروا اگلے سال کی خاطر لیہے ہے؟"
بڑی اماں کہنے لگیں:
تے تو کیہو کی سن بے نا، اے کی قربانی تھوری نہ ہوئی۔
محلے کی عورتیں کثرت سے اماں سے ملنے آتی تھیں، مصیدن بھاؤج کہنے لگیں:
چاچی اختر ٹھگائے گئن ہیں، مشکل سے سات آٹھ مہینہ کا بکرا ہے ایکی قربانی ناہی ہوئی۔"
جتنے منہ اتنی بات، گاؤں میں بڑے تجربہ کار لوگ ہوتے ہیں۔
اماں نے ریاست چچا کو بلایا انھوں نے بکرے کی پیٹھ پر ہاتھ پھریا، منہ کھولا اور کہنے لگے:
دانتا تو نہ ہے البتہ دنتوا ٹٹ گوا ہے، پتہ نہںں خود ٹٹا ہے یا کوی توڑ دیہے سے۔ ،،
لوگ تو اپنے بکرے کو خوب گھماتے پھراتے اور نمائش کرواتے ہیں مگر میں اسے چھپاتا پھر رہا تھا۔
جو بھی آتا تھا بکرے کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور کہہ کر جاتا اور اماں کے شکوک و شبہات میں اضافہ کر دیتا ، دس دن میں ہمارا یہ بکرا بہت مشہور ہوگا ۔
ایک دن چھیدی بھیا آے۔ کہنے لگے:
یہ مولی صاحب بکروا قربانی کرئے لائک نہ ہے مگر بھائی تہری مرضی، مولبی مولانا کے بچم میں کاؤ بولی،،
میں اس زمانے میں بعض نمازیں گاؤں کی پچھم کی طرف چھوٹی مسجد میں پڑھتا تھا وہاں بھی ایک دن اس مسئلے پر جم کر بحث ہوئی۔
اماں اور میں اس مسئلے پر کافی پریشان ہو چکے تھے، قربانی کا دن بھی قریب آرہا تھا، علی حسن بکرے والے بازار میں بڑی تعداد میں بکرے بیچنے کے لئے لے آئے تھے ان سے ملاقات کی اور خواہش ظاہر کی کہ ہمارا یہ بکرا خرید لیں۔ وہ شام میں گھر آئے بکرا دیکھا کہنے لگے اسے قربانی کے لئے تو کوئی خریدے گا نہیں بس ایک شکل ہے، کل بازار لے کر آئیے، میں اسے ذبح کر کے گوشت بچ، دیتا ہوں جو رقم حاصل ہوگی وہ آپ کی ہوگی۔ بقیہ کچھ رقم لگا کر دوسرا بکرا خرید لیجئے گا۔
ان کی بات معقول تھی، اگلے دن وہ بکرا اپنے انجام کو پہنچا، شائد آٹھ سو روپئے ملے تھے، مزید پانچ سو روپے ملائے گئے اور ایک چھوٹا سا بکرا قربانی کے لئے خرید لیا گیا۔
تقریبا پچس سال ہو گئے، قربانی کے لئے نہ جانے کتنے بکرے آے اور گئے مگر آج بھی جب عید الاضحی آتا ہے اس بکرے کی یاد بے ساختہ آجاتی ہے جسے قربان کرنے کے بجائے قربانی سے چند روز پہلے ہی ذبح کرنا پڑا۔

0 لائك

0 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

3 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2018.