؞   وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی
۳۰ جولائی/۲۰۱۸ کو پوسٹ کیا گیا
(تحریر: محمد صابر بیناپارہ (حوصلہ نیو
سیزن کی پہلی موسلادھار بارش تھی، میں کمرے میں بیٹھا کھڑکیوں سے پانی کی اچھل کود کو بغور دیکھ رہا تھا لوگ بہت خوش تھے، ہرشخص بارش کی تیز رفتاری کو دیکھ کر اندر ہی اندر مسکرائے جارہا تھا۔ سامنے والی بلڈنگ میں کچھ بچے کھڑکیوں سے ہاتھ نکالے بوندوں سے چھیڑ خانی کررہے تھے، بہنیں بھائیوں کے ساتھ بالکنی میں نیکر ٹی شرٹ پہنے چوکڑیاں مار رہی تھیں۔
اس میں سے کچھ بچوں نے بچپنے کا پورا حق ادا کیا اور نیچے زمین پر نہ سہی بالکنی سے ہی جہاز بنا بنا کر اڑانا شروع کر دیا جن میں سے کچھ تو سچ مچ جہاز بن گئے کیونکہ جب تک فضا میں رہے اڑتے رہے اور زمین پر اترے تو کرش ہوگئے اور پھر پانی انہیں الٹا لیٹا کر اپنے ساتھ چلتا بنا اور کچھ جہاز ایسے بھی تھے جو کہ جب تک فضا میں رہے تو ہوائی جہاز اور جب زمین پر آئے تو خوش قسمتی سے پانی کا جہاز بن گئے جسے دیکھ کر وہ بچے بہت خوش ہوئے کیونکہ ان کا جہاز بیک وقت دو حالتوں سے لڑتے ہوئے نظر آیا۔
میں لیٹے لیٹے بچوں کی تمام حرکتوں کو دیکھ رہا تھا اور پھر ہوا یہ کہ میں بھی ان کے ساتھ یادوں کی دوش پر گاؤں کی گلیوں میں کچھ دیر کےلئے اپنا بچپن جی آیا۔
جس میں کاغذ کی ناؤ کےساتھ رینگتے چونٹے کو پکڑ کر انہیں غلام بنانے کا کام کیا جاتا تھا اور پھر ان سے بلا معاوضہ ڈرائیوری کروائی جاتی تھی اس سے بحث نہیں کہ اس سے پہلے انہوں نے کبھی جہاز چلایا ہے کہ نہیں۔
ہمیں ہرحال میں ڈرائیوری چاہئے تھی ورنہ اچھی ڈرائیوری نہ کرنے کی صورت میں انہیں بار بار چٹکی سے پکڑ پکڑ کر لنگڑا لولا بنا دیا جاتا اور پھر ایک نئے جوشیلے ڈرائیور کی تلاش شروع ہو جاتی جو کبھی کچن میں شکر کے ڈبے پر یا پھر دروازے کے پیچھے بنے چھوٹے سے سوراخ پر جاکر ختم ہوجاتی۔
کیونکہ دوسرا کڑیل جوان شکر کے ڈبے میں بتاشا کھاتے ہوئے یا پھر دروازے کی پیچھے مٹی نکالتے ہوئے پکڑ میں آجاتا اور ہم انگلیوں سے ہانکتے ہوئے اسے جہاز کے قریب لے جاتے اور پھر چٹکی سے اٹھا کر جہاز میں بٹھادیتے تب معلوم ہوتا کہ ہاں ہاں یہ ڈرائیور اچھی ڈرائیوری کرلیتا ہے وہ دیکھو اتنی دور تک پہونچ گیا ۔ اور پھر ہم نئے ڈرائیور کو داد دیتے ہوئے گلی کے نکڑ تک دیکھتے رہتے اور جیسے ہی وہ جہاز نظروں سے چھپتا ہم دوسرا جہاز بنانے میں مصروف ہوجاتے۔
بعض مرتبہ تو ہم نے حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے پوری کی پوری نئی کاپی محض جہاز بنانے میں لگادی ،وہ الگ بات ہے کہ بعد میں ہمیں لات ماری گئی کہ ابھی کل ہی تو کاپی دلوائی تھی اتنی جلدی کیسے ختم ہوگئی ؟؟؟؟
ہماری دریا دلی اور فیاضی یہیں نہیں ختم ہوتی بلکہ ہم اپنا جہاز بنانے اور ڈرائیور رکھنے کےساتھ ساتھ دوستوں کو بھی کو جہاز اور پائلٹ دیا کرتے تھے کیونکہ ان کے پاس جہاز بنانے کی ٹرک نہیں ہوتی تھی اور نہ ان میں اتنی طاقت تھی کہ موٹے تازے ڈرائیور کو ہاتھوں میں اٹھا کر جہاز کی پائلٹ سیٹ پر بٹھا سکیں , بلکہ انہیں تو یہ خدشہ لگا رہتا تھا کہ اگر ہم نے ڈرائیور کو اٹھایا اور اس کا موڈ صحیح نہیں رہا تو ہو سکتا ہے وہ ہمارے انگوٹھے کو محبت سے پکڑ لے اور پھر بغیر معانقہ کئے چھوڑے ہی نہ۔ اور ہاں کبھی کبھی ہمیں بھی یہ خوف لاحق ہوتا تھا لیکن ہم بجائے ڈرنے اور خوف کھانے کے برف کی ڈنڈی پر اسے اٹھا کر جہاز میں بٹھا دیتے تھے۔
بس صرف ایک مرتبہ ہمارے ساتھ ایسا اتفاق ہوا تھا کہ ہم نے ڈرائیور کو پتلا دبلا سمجھ کر چٹکی میں اٹھا لیا اور پھر جب جہاز پر بٹھانے لگے تو دیکھا کہ ان کا چہرہ بجائے جہاز کی طرف ہونے کے انگوٹھے میں گھسا ہوا ہے مجھے انگوٹھے میں درد ہونے لگا تھا تب میرے دوست نے بتایا کہ چونٹے نے تمہیں کاٹ لیا ہے یہ سننا تھا کہ بغیر انگوٹھا دیکھے میں گھر کے اندر بھگا اور پھر بمشکل چونٹے کا سونڈ نیل کٹر سے نکالا گیا ۔ اس کے بعد پھر میں نے جہاز چلانا چھوڑ دیا اور بطور خاص ڈرائیور لانے کا کام تو بالکل نہیں کرتا۔

1 لائك

0 پسندیدہ

1 مزہ آگیا

1 كيا خوب

2 افسوس

0 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2018.