؞   استسقاء کی نماز کیوں پڑھتے ہیں؟
۱۴ جولائی/۲۰۱۸ کو پوسٹ کیا گیا

تحریر: محمد طاهر مدنی*
قحط سالی یا بارش کی کمی کے موقع پر نزول رحمت الہی کے لئے دعا کو استسقاء کہا جاتا ہے۔ یہ مسنون ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے مختلف طریقوں سے سے بارش کیلئے دعا کی؛ کبھی صرف دعا پر اکتفاء کیا، کبھی خطبہ جمعہ میں دعا کی اور کبھی میدان میں نماز استسقاء ادا کی اور دعا کا اہتمام کیا۔
محرکات؛ بارش کی دعا کیلئے مختلف محرکات ہوسکتے ہیں، قحط سالی کی وجہ سے دعا کی جائے، بارش کم ہوئی اور مزید کے لئے دعا کی جائے یا دوسرے علاقوں میں بارش کے لیے دعا کی جائے۔
اسباب قلت مطر؛ بارش کی کمی کے اسباب پر دھیان دینا بھی بہت ضروری ہے۔ گناہوں کی کثرت، ادائے حقوق میں غفلت، ظلم و ستم اور فسق و فجور کی وجہ سے ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے، اس لیے توبہ و استغفار ضروری ہے۔
مشروعیت؛ بارش نہ ہو یا کم ہو تو بارش کے لئے دعا کرنا مطلوب و مسنون ہے۔ سورہ نوح میں ذکر کیا گیا ہے؛ فقلت استغفروا ربكم إنه کان غفارا، یرسل السماء علیکم مدرارا، میں نے کہا کہ اپنے رب سے استغفار کرو، وہ بہت معاف کرنے والا ہے۔ تمہارے لیے موسلا دھار بارشیں برسائے گا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اور خلفائے راشدین نے استسقاء کا اہتمام کیا۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ قحط سالی ایک مصیبت اور عذاب ہے، جس سے نجات اللہ ہی دے سکتا ہے، اس لیے دعا کا اہتمام کرنا چاہیے اور اللہ کی رحمت طلب کرنی چاہیے۔
آداب؛ نماز استسقاء کا جب اہتمام ہو تو چند آداب کا خیال رکھنا ضروری ہے:
۔1۔۔ظلم و نا انصافی سے توبہ، 2۔۔۔ ادائیگی حقوق واجبہ، 3۔۔۔ صدقہ و خیرات، 4۔۔۔ روزوں کا اہتمام، 5۔۔۔ تمام گناہوں سے سچی توبہ، 6۔۔۔ نماز کے لیے نکلنے سے پہلے غسل و نظافت کا اہتمام، 7۔۔۔ زیب و زینت اور خوش بو سے احتراز، 8۔۔۔ معمولی کپڑے زیب تن کرنا، 9۔۔۔ تواضع و خاکساری اختیار کر نا۔، 10۔۔۔ أعمال صالحہ کے توسط سے دعا کرنا۔
کن لوگوں کا استسقاء کیلئے نکلنا بہتر ہے؟ بزرگوں، بچوں، کمزوروں، معذوروں کو بھی ساتھ لے جانا چاہیے، ہوسکتا ہے ان کے طفیل میں دعا قبول ہوجائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا؛ ھل تنصرون و ترزقون الا بضعفائکم؛ تمہیں نصرت اور رزق، کمزوروں ہی کی وجہ سے ملتا ہے۔
تحویل رداء؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا کے دوران اپنی چادر پلٹ لی۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اے اللہ، ہماری حالت بدل دے۔ اس لیے دوران دعا امام کو اور دیگر لوگوں کو کندھے کی چادر یا تولیہ وغیرہ پلٹ لینا چاہیے۔
جب بارش ہو تو کیا کہے؟ جب اللہ کی رحمت نازل ہو تو یہ دعا پڑھے؛ اللھم صیبا نافعا؛ اے اللہ، موسلا دھار اور نفع بخش ہو۔
اپنے بدن کو بارش کے پانی سے تر کرنا بھی مستحب ہے۔ یہ رحمت الہی ہے جو ڈائریکٹ آسمان سے نازل ہورہی ہے۔ ایسی حالت میں دعا بھی قبول ہوتی ہے۔
جب زیادہ بارش ہوجائے تو.... ایسی حالت میں یہ دعا کرے؛ اللھم حوالينا و لا علینا؛ اے اللہ اسے کہیں اور بھیج دے اور یہاں پر اب سلسلہ بند کردے۔
بارش کے لئے دعا کے کچھ ماثور کلمات؛
اللھم انا نستغفرك انک کنت غفارا فأرسل السماء علینا مدرارا؛ اے اللہ، ہم تجھ سے مغفرت کے طالب ہیں، بیشک تو معاف کرنے والا ہے، موسلا دھار بارش نازل فرما۔
اللہم اسقنا الغيث ولا تجعلنا من القانطين؛ اے اللہ، بارش نازل فرمادے اور ہمیں مایوس نہ کر۔
اللھم اسق عبادك و بهائمك و انشر رحمتك و احئ بلدك الميت؛ اے اللہ، انسانوں اور جانوروں کو سیراب کردے، اپنی رحمت بکھیر دے اور مردہ زمین کو زندہ کردے۔
اللھم أغثنا غیثا مغیثا صیبا نافعا غير ضار عاجلا غير آجل؛ اے اللہ، بارش نازل کردے، موسلا دھار، نفع بخش، غیر نقصان دہ، فی الفور نہ کہ تاخیر سے۔
اللھم أغثنا، اللھم أغثنا، اللھم أغثنا؛ اے اللہ، اپنی رحمت نازل کر دے، اپنی رحمت انڈیل دے، اپنی رحمت عام کردے۔
کثرت استغفار؛ ایسے مواقع پر جب بارش کی کمی ہو اور شدید پریشانی ہو، کثرت سے استغفار کرنا چاہیے اور سچے دل سے توبہ کرنا چاہیے اور صدقہ و خیرات کا اہتمام کرنا چاہیے۔
تضرع کے ساتھ دعا؛ دعا انتہائی تضرع کے ساتھ خوب گڑگڑا کر مانگنا چاہیے اور قبولیت پر پورا یقین رہنا چاہیے اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ان شاءاللہ دعا ضرور قبول ہوگی البتہ قبولیت کی مختلف شکلیں ہوسکتی ہیں. اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے۔ اس لیے کبھی مایوسی کو قریب نہیں آنے دینا چاہیے۔

*جنرل سکریٹری، راشٹریہ علماء کونسل

5 لائك

0 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2018.