؞   اعظم گڑھ کے ایک کمہار کی فریاد۔۔۔۔
۷ جولائی/۲۰۱۸ کو پوسٹ کیا گیا
(تحریر: ظفر خان (بلریا گنج
تیس چالیس برس پہلے تک بلریاگنج کے اطراف میں گھروں میں مٹی کی رکابی اور شادیوں میں پَرَئِی کا چلن عام تھا مگر سعودی، دبئی کی کمائی اور بدلتے ہوئے رجحانات نے ان کا استعمال نا کے برابر کر دیا ہے۔
کیا کوئی کہتَری کی ساڑھی کی سوندھی خوشبو بھول سکتا ہے؟
کیا کوئی والدین کے آس پاس نہ ہونے کے سبب سِکہَر سے گاڑھے سرخی مائل دودھ اور ملائی کی چوری کی معصومانہ کوشش بھول سکتا ہے؟
یہ وہ چیزیں ہیں جو ہمارے بیچ سے دھیرے دھیرے غائب ہوتی گئیں مگر ہمیں احساس تک نہیں ہوا۔ پلاسٹک نما برتنوں سے ہم کن خطرناک بیماریوں میں گھرتے جارہے ہیں اس کا ہمیں احساس تک نہیں۔
تصویر میں چپ چاپ بیٹھے گیان چاچا گراہک کا انتظار کرتے سوچ رہے ہوں گے کہ ہماری اسی ہنر مندی نے کئی پشتوں کے پیٹ کو پالا ہے مگر اب اس کے سہارے زندگی گزارنا محال ہو رہا ہے۔
میں ایک بار نَینی جور رَونا پار گھاگھرا ندی کے باندھ سے گزر رہا تھا تو اِن سے ملاقات ہو گئی ،میں نے پوچھا اِدھر کہاں؟
کہنے لگے ہانڈی برتن کے خریدار اب سمٹ سمٹا کر اب یہی باندھ پار کے لوگ رہ گئے ہیں بلریا میں تو بس دہی کی ہانڈی یا اچار کے لیے مٹکا مٹکی کچھ لوگ خرید لیتے ہیں اور کبھی کبھار کوئی شوقین پردیسی گولک خرید لیتا ہے، بڑی کھانچی کے وزن اور گرمی کی شدت نے انھیں پسینے سے شرابور کر دیا تھا۔
انگوچھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے بولے:
باپ دادا کا کام ہے کیسے چھوڑ دیں بابو! مگر سچ یہ ہے کہ یہاں تک کا کرایہ بھی قاعدے سے نہیں نکل پاتا پھر بھی کوشش کر رہے ہیں آگے پرماتما کی مرضی!
ایک مرتبہ میں نے لَگّن کمہار سے بازار میں پوچھا کہ دیوالی پر تو دیئے خوب بکتے ہوں گے؟
کہنے لگے: بابو کی بات، ارے پہلے کی بات اور تھی۔ ارےاب جب سے اِی چُکُر پُکُر کرنے والا کُمکُمہ آیا ہے نا تب ہمرے گریب لوگن کا دِیّا کون کھریدَتا ہے اب پہلے والے لوگ نہیں رہے اب تو تار لٹکا دیے اور پھر دوسرے دن لپیٹ کے رکھ دیے ہو گئی دیوالی مگر بابو ایسی دیوالی ہمہن کَا دیوالہ نکال دِیہِس ہے۔
میں نے کہا کہ بَھروکا میں تو کمائی ہے نا؟
ہنستے ہوئے کہنے لگے شروع شروع میں معاملہ ٹھیک تھا مگر جب سے اِی سَسُر پلاسٹک کے کپ آگئے ہیں بَھروکا بنا کر بیچنا مہنگا پڑنے لگا ہے۔
میں نے پوچھا اور تندوری ہَودَہ تو خوب بکتا ہے؟ لوگ دور دور سے خریدنے آتے ہیں۔
ہنستے ہوئے بولے ارے سب ختم ہو گوا ہے۔ اب نہ گُڑ ہوتا ہے کہ لوگ ہودہ خریدیں اور تندور کے لیے تو لوہے کا ہودہ آگیا ہے........
ای سسری کا ناتی.......نا ٹوٹی نا پھوٹی بچت ہی بچت ہے مگر بابو لوگن کے اِی سمجھ میں کاہے نہیں آوَت ہے کہ ہودہ کے تندور کی نان کی سوندھی سوندھی خوشبو اور لوہے کے باس والی اکڑی ہوئی لکڑی جیسی نان میں کتنا فرق ہے!
میں نے ٹھنڈی آہ بھر کر کہا: چچا آپ سب کی ہنر مندی بے مثال ہے مگر کہیں نہ کہیں آپ کی برادری خود کو وقت کے مطابق نہیں ڈھال پائی، نہیں تو اسی ہنر کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے دوسرے لوگ خوب کما رہے ہیں۔
لگّن چچا نے پوچھا کیا کہے بابو؟
میں ان کے پاس سے اٹھتے ہوئے بولا کچھ نہیں لگّن چچا بس اپنے ہنر میں نیا پن لائیے۔
مجھے دیکھ کر مسکرائے۔ بولے:
دو اچھر پڑھ کا لیہِ بہت بُکراتی آوا تھی۔
میں نے محسوس کیا ان کے چہرے کی چمک یکسر معدوم ہوگئی، مایوسی سے گردن جھک گئی، گردن جھکا کر کچھ دیر سوچتے رہے اور پھر ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں کے آنسو کو پونچھ کر لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں بولنا شروع کیا............
یہ باپ دادا کا کام جو ہمہَن کا اوڑھنا بچھونا ہے اس میں گزارا مشکل ہوگواہے مجبوراً اب ہمہَن کے لڑکے بالے اپنا کام چھوڑ کر پردیس میں نوکری کر رہے ہیں اور ہم یہاں اکیلے اب پرلوک سُدھارنے کی تیاری میں ہیں۔
سنا ہے لگّن چچا کا دیہانت ہوچکا ہے۔

0 لائك

0 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

6 كيا خوب

2 افسوس

0 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2018.