؞   سرائے میر-پونا پوکھر روڈ: کیا آپ بچ کے جاسکتے ہیں اس راستے سے؟
۵ جولائی/۲۰۱۸ کو پوسٹ کیا گیا
سرائے میر (ابوالفیض /حوصلہ نیوز):سرائے میر ، اعظم گڑھ و اطراف میں کافی مشہور جگہ ہے۔ سرائے میر آس پاس کے تقریبا تین درجن سے زائد گاؤں کا مرکز ہے ۔ سرائے میر بینا پارہ روڈ پر تقریبا ایک درجن گاؤں ہیں جو روزانہ اسی راستہ سے سرائے میر آتے اور جاتے رہتے ہیں ۔ مدرسۃ الاصلاح اور سرائے میر کے بیچ پونا پوکھر کے علاقہ میں راستہ اس قدر خراب ہے کہ آپ کو یہ کہہ پانا نہایت ہی مشکل ہے کہ کیا آپ اس راستے سے بچ کر گزر سکتے ہیں؟
سرائے میر پوناپوکھر راستہ پچھلے کئی سالوں سے سے خراب چل رہا ہے جس کی وجہ آمد ورفت میں بہت سی دشواری پیش آتی ہے۔ لوگ کیچڑ سے بچنے کے لیے دور دراز کے راستوں سے سرائے میر پہنچتے ہیں۔ یہ راستہ تقریباً ایک درجن گاؤں راجہ پورسکرور، حسن پور ، منجیر پٹی ، بیناپارہ ، ابڈیہہ ، طویٰ ، سیدھا سلطان پور، سیہی پور، مرزا پور، نیاؤج، کجراکول جیسے کچھ دیگر گاؤں کو سرائے میر سے جوڑتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ مدرسۃ الاصلاح، سر سیداسکول منجیرپٹی، نیاز پبلک اسکول عہداری پور(راجہ پور سکرور) عائشہ صدیقہ نسواں کالج اور بی آئی سی انٹر کالج بیناپارہ سے جوڑنے کا یہی ایک راستہ ہے جو جس سے ہزاروں طلبہ و طالبات روزانہ آتے اور جاتے ہیں۔
اسی طرح نیاؤج، طوی، راجہ پور سکرور، حسن پور، مسلم پٹی، مرزا پور، بیناپارہ. منجیرپٹی وغیرہ گاؤں کے لوگوں کا سرائے میر آنے کے لیے یہی ایک واحد راستہ ہے۔ جو پچھلے کئی سالوں سے اس اپنی بدحالی کی تصویر اپنی زبانی بیان کررہا ہے۔
حسن پور کے رہنے والے محمد طاہر نے حوصلہ نیوز کو بتایا کہ یہ راستہ تو کئی سالوں سے خراب چل رہا ہے مگر ادھر کئی مہینوں سے اس کی حالت دیکھنے کے لائق نہیں ہے، ہم لوگ سرائے میراب شاہ پور والےراستے سے جاتے ہیں۔
دوسرے دنوں میں گرمی کی وجہ سے گڑھوں میں پانی کم رہتا ہے ، جو آس پاس کے نالوں سے ہوکر آتا ہے وہی رہتا ہے لین بارش کے موسم میں پانی بھر جانے کی وجہ سے یہ طے کرپانا کی راستہ کہاں سے ہے اور نکلنا کس طرف ہے نئے لوگوں کے لئے کافی مشکل سوال ہے۔
مدرسۃ الاصلاح کے شعبہ اردو کے استاذ مولانا مدثر اصلاحی جو اسی راستہ سے روزانہ گزر کر مدرسہ جاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ راستہ تو تقریباً 3سال سے خراب ہے لیکن پچھلے ڈیڑھ سال سے یہ حالت ہوئی کہ راستے پر چلو تو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ راستہ گڑھے میں ہے یا گڑھا راستہ میں۔ برسات کے علاوہ بھی وہاں پر پانی جمع رہتا ہے اور اگر بارش ہوگئی تو کم از کم 10 دن راستے کا حال نہایت ہی برا رہتا ہے ۔ مدرسے کے دور دراز کے طلبہ تو اب بس سے مدرسہ آجاتے ہیں لیکن جو نزدیک کے بچے ہیں ان کے لیے مدرسہ آنا بہایت ہی دشوار ہے۔
مرزا پور کے محمد عاطف جو اسی راستے سے سرائے میر آتے جاتے رہتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہمیں ہفتہ میں کم سے کم ایک دن تو سرائے میر جانا ہی پڑتا ہے لیکن اب خراب راستے کی وجہ سے ہمت نہیں پڑتی۔
سنجر پور کے رہنے والے مدرسۃ الاصلاح کے طالب علم محمد حامد نے حوصلہ نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مدرسہ جانے کا سب سے آسان راستہ پونا پوکھر والا راستہ ہے لیکن جب سے راستہ خراب ہوا ہم لوگوں نے ادھر سے جانا ہی چھوڑ دیا ہے اب سرائے میر کے بجائے خان پور ہوتے ہوئے ہم لوگ مدرسہ جاتے ہیں جو کافی دور پڑتا ہے اور ہمیں مدرسہ جانے کے لئے مزید وقت لگ جاتاہے۔
سرائے میر قصبہ کے چیئر مین پرکاش یادو سے حوصلہ نیوز کی فون سے ہوئی بات پر بتایا کہ یہ راستہ خراب ہی نہیں ہے بلکہ نرک ہوگیا ہے۔ پی ڈبلیو ڈی والوں سے جب کہا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ پیسہ ہی نہیں ہے اور بجٹ ختم ہوگیا ہے اس وجہ سے نہیں بن پا رہا ہے ۔ جب کہ پرکاش یادو کا کہنا ہے کہ پی ڈبلیو ڈی والے ساری طرف کا روڈ بنا دیتے ہیں لیکن یہاں کی جب باری آتی ہے تو تھوڑا سا کام کرتے ہیں اور پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ پرکاش یادو نے راستے کے کنارے خراب نالوں کے نہ بننے کے بارے میں بتایا کہ یہ نالا ہم اس وجہ سے نہیں بنا رہے ہیں ہیں یہ راستہ نہ جانے کتنا اونچا کریں گے اور کس طرح بنائیں گے ۔ جب راستہ بن جائے گا تو اسی اعتبار سے ہم نالا بنوائیں گے تاکہ بعد میں توڑ پھوڑ نہ کرنا پڑے۔ پرکاش یادو نے مزید بتایا کہ آج جمعرات کے روز کچھ کام ہوا ہے اور پتھر کے ٹکڑے سڑک پر ڈالے گئے ہیں ، کام شروع ہوگیا ہے ۔ مزید یہ امید ظاہر کی ہے کہ یہ کام مکمل بھی ہوجائے گا۔

1 لائك

0 پسندیدہ

1 مزہ آگیا

4 كيا خوب

4 افسوس

2 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2018.