؞   جامعۃ الفلاح کی نصابی اور ہم نصابی سرگرمیاں
۴ جولائی/۲۰۱۸ کو پوسٹ کیا گیا
(تحریر:محمد رضی الاسلام ندوی (حوصلہ نیوز
ہر مدرسے میں تعلیم و تدریس کا پورے سال کا شیڈول بنتا ہے ، نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی ہوتی ہے اور پورے سال کیا کیا خصوصی پروگرام ہونے ہیں؟ ان کا نظام مرتّب کیا کیا جاتا ہے، لیکن جزئیات طے نہیں کی جاتیں اور انھیں ذمے داروں کی صواب دید پر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ وقت آنے پر حسبِ سہولت تاریخ طے کرلیں گے اور خصوصی پروگراموں کے لیے جن کو چاہیں گے، مدعو کرلیں گے، لیکن جامعۃ الفلاح اعظم گڑھ کا معاملہ مختلف ہے۔ کل مجلس منتظمہ کے اجلاس میں مولانا انیس احمد مدنی صدرِ مدرس نے تعلیمی و تربیتی رپورٹ پیش کی تو ساتھ ہی سال رواں 2018_2019 میں انجام دی جانے والی نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں کا منصوبہ بھی پیش کیا۔ یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ منصوبہ میں جزئیات کا احاطہ کیا گیا ہے اور ہر کام کی تاریخ اور دوسری تفصیلات طے کردی گئی ہیں۔
جامعہ کی ہم نصابی سرگرمیوں کے ضمن میں شعبہ اعلٰی کے طلبہ کے لیے 'ثقافتِ عامّہ' کے نام سے ایک مضمون رکھا گیا ہے، جس کے سو نمبر ہیں۔ یہ نمبر مارک شیٹ میں شامل کیے جاتے ہیں۔ اس کے تحت خطابت، صحافت و مضمون نگاری، غیر درسی کتب کے مطالعہ، وضع قطع، حاضری، ہوم ورک وغیرہ پر نمبر دیے جاتے ہیں۔ ہر درجے میں کتنی غیر درسی کتابوں کا مطالعہ کروایا جائے گا ؟ اور کس کتاب کا امتحان کس تاریخ کو ہوگا؟ اساتذہ سے طلبہ کے درمیان مختلف عناوين پر تذکیر کروائی جائے گی۔ کون استاد کس عنوان پر کس تاریخ میں تذکیر کرے گا؟ عالمیت اور فضیلت کے طلبہ سے مقالات لکھوائے جائیں گے۔ یہ مقالات کن تاریخوں میں جمع کیے جائیں گے؟ ہر مہینہ کسی بیرونی شخصیت سے توسیعی خطبہ دلوایا جائے گا۔ یہ خطبات کن تاریخوں میں اور کن شخصیات کے ذریعے ہوں گے؟ معلّمین و معلّمات کے لیے ریفریشر کورس رکھا جائے گا۔ یہ کب ہوگا؟ اور اس میں کون لوگ محاضرات دیں گے؟ تمام طلبہ کے درمیان دینی موضوعات پر مضمون نویسی اور حفظِ متون کے انعامی مسابقات رکھے جائیں گے۔ یہ کن تاریخوں میں اور کن عناوین پر ہوں گے؟ انعامات کی رقمیں کیا ہوں گی؟ منصوبہ میں ان تمام تفصیلات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسی طرح طلبہ اور طالبات کے جملہ شعبوں (ابتدائی، ثانوی، اعلیٰ) کی تعلیمی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
مجلسِ منتظمہ کا اجلاس ہر چھ مہینے پر ہوتا ہے۔ اجلاس کا زیادہ وقت جامعہ کی تعلیم و تربیت کی صورت حال بہتر بنانے کی تدابیر پر غور و خوض میں صرف ہوتا ہے۔ مہتمم اور صدر مدرّس کی رپورٹوں پر تفصیل سے بحث و مباحثہ ہوتا ہے اور ہر پہلو سے اطمینان حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ہر کام کا منصوبہ تیار کرنا چاہیے اور اسی کے مطابق اسے انجام دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جامعۃ الفلاح نے اس سلسلے میں ایک قابلِ تقلید مثال پیش کی ہے۔ دوسرے مدارس بھی اگر اس کی تقلید کریں تو ان کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

1 لائك

2 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

1 كيا خوب

1 افسوس

1 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2018.