؞   آہ استاذ محترم مولانا ایوب اصلاحی صاحب
۳۰ جون/۲۰۱۸ کو پوسٹ کیا گیا

(تحریر:اخترسلطان اصلاحی* (حوصلہ نیوز

ادھر کئی ماہ سے مستقل استاذ محترم مولانا ایوب اصلاحی صاحب کی شدید علالت کی خبریں مل رہی تھیں، ہر لمحہ یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ کسی وقت بھی کوئی بری خبر سننے میں آجاے، آج دوپہر میں تین بجے جب واٹس آپ کھولا تو پورا گروپ انا للہ وانا الیہ راجعون اور مولاناے محترم کے حق میں دعاوں سے بھرا ہوا تھا۔
ذہن تیس بتیس سال پیچھے گیا اور یادوں کی کہکشاں روشن ہوتی چلی گئی، جب 1987 میں مادر علمی مدرسۃ الاصلاح سراے میر میں داخلے کے لیے جانا ہوا تو ابا مرحوم نے جن دو تین اساتذہ سے خاص طور سے ملوایا ان میں مولانا ایوب اصلاحی صاحب بھی تھے۔
ابا نے کہا مولوی صاحب یہ صفدر کا چھوٹا بھائی ہے تو مولانا نے مسکراتے ہوے کہا بتانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے صورت ہی سے عیاں ہے۔
مولانا کی شخصیت میں بڑی گہری اور گیرائی تھی وہ طلبہ کو بہت کم سزا دیتے تھے مگر شخصیت میں بڑا رعب اور وقار تھا، طلبہ ان کو دیکھتے ہی مودب ہو جاتے تھے۔
ان سے میں نے امثال، کلیلہ و دمنہ اور عربی چہارم پنجم میں قرآن مجید پڑھا، بے شک وہ اچھے استاذ تھے۔ جب وہ کلیلہ پڑھاتے تھے تو بڑا لطف آتا تھا۔ وہ عبارتیں حل کروانے کے ساتھ ساتھ بہترین ترجمہ بھی کرواتے، مختلف کرداروں کا جب وہ نقشہ کھینچتے تو مزہ دو چند ہو جاتا۔ ان کے پیریڈ میں طلبہ بہت محظوظ ہوتے۔
عربی پنجم میں ایک دفعہ میں نے انجمن طلبہ کا الیکشن لڑنے کا ارادہ کیا جب مولانا کو اس کی خبر ہوئی تو بہت شفقت سے منع کیا اور کہنے لگے پڑھنے لکھنے پر توجہ دو، لیڈری کروگے تو برباد ہو جاؤ گے۔
وہ کلاس میں طلبہ کو مطالعہ کے لیے بھی ابھارتے، ایک دفعہ مجھ سے پوچھا کہ ادھر تم نے کون سی کتاب پڑھی ہے؟
اتفاق سے میں نے چند روز پہلے ہی علامہ شبلی کی شعر العجم پڑھی تھی۔ جب میں نے جواب میں شعر العجم کا نام لیا تو مولانا کو تھوڑی سی حیرت ہوئی، جائزہ لینے کے لیے چند سوالات کیے جب میں نے کتاب کے مشمولات پر تھوڑی بہت روشنی ڈالی تو بہت خوش ہوے اور حوصلہ افزائی کی۔
مولانا کا اصل میدان تو تدریس تھا اور آپ کا اصل مشن رجال کار کی تیاری تھا، الحمد للہ وہ اس میں کامیاب رہے، موجود اصلاحیوں کی جو طویل کہکشاں ہے آپ سب کے استاذ اور مربی ہیں۔
تدریس کے علاوہ اردو زبان و ادب پر بھی آپ کو حد درجہ عبور تھا۔ مولانا کی باقاعدہ تصنیفات تو نہیں ہیں لیکن مختلف مواقع پر آپ نے جو مضامین اور مقالات لکھے وہ شاہکار کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ان کی زبان میں بڑی علمیت، عجیب چٹخارہ پن اور بے ساختگی ہوتی تھی، فارسی اور عربی زبانوں پر عبور کی وجہ سے ان کی تحریر بہت جاندار ہوتی تھی۔ اگر وہ اس طرف پورے طور پر متوجہ ہوتے تو یقینا اردو کے اچھے ادیبوں اور انشا پردازوں میں ان کا شمار ہوتا۔ مختلف رسائل و جرائد میں بکھرے ہوے ان کے مضامین اگر یکجا کر کے شائع کر دیے جاتے تو یہ اردو کے ہم جیسے طالب علموں کے لیے ایک بیش بہا تحفہ ہوگا۔
مولانا کا گھرانہ ایک ایسا گھرانہ ہے جسے بجا طور پر اصلاحیوں کا سب سے بڑا خانوادہ کہا جا سکتا ہے، وہ خود شیداے قرآن مولانا اختر احسن اصلاحی صاحب علیہ الرحمۃ کے داماد اور مولانا غالب احسن صاحب مرحوم کے بہنوئی تھے۔
مولانا کے چاروں بیٹے اصلاحی ہیں جن میں مولانا اجمل ایوب اصلاحی ندوی، مولانا راشد ایوب اصلاحی صاحبان نے علمی دنیا میں ایک مقام حاصل کیا۔ مولانا طلحہ ایوب اصلاحی صاحب مشہور پبلیکیشنز ادارے البلاغ پبلیکیشنز کے مالک ہیں جس نے علمی دنیا کو اپنی گرانقدر تصنیفات سے مالا مال کیا۔ سب سے چھوٹے بیٹے مولانا ابوہریرہ ایوب اصلاحی صاحب بھی تعلیم و تعلم سے جڑے ہوے ہیں۔
مولانا کے نواسوں اور پوتوں میں بھی ایک بڑی تعداد اصلاح سے فیض یافتہ ہے۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولانا کی خدمات کو شرف قبولیت بخشے اور جنت میں اعلی مقام دے. آمین

*سرپرست انجمن اساتذہ کوکن

2 لائك

3 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

7 افسوس

0 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2018.