؞   موب لنچنگ مسلم اور دلتوں کے خلاف فرقہ پرستوں کی منظم سازش۔ عامر رشادی
۲۴ جون/۲۰۱۸ کو پوسٹ کیا گیا
اعظم گڈھ (پریس ریلیز/ حوصلہ نیوز): ملک میں پچھلے کچھ سالوں سے منظم بھیڑ کے ذریعہ مسلمانوں ،دلتوں ،اقلیتوں اور دیگر مظلوموں کے مذہب کے نام پر وحشیانہ قتل (موب لنچنگ)کے واقعات ملک کے آئین، امن و امان و اور تہذیب کے لئے نہ صرف خطرہ ہے بلکہ دنیا بھر میں ملک کی شبیہ پر ایک بدنما دا غ ہے .اتر پردیش کی سابقہ سماجوادی پارٹی کی حکومت میں دادری کے اخلاق سے شروع مذہبی موب لنچنگ کا یہ وحشیانہ سلسلہ ہاپوڑ کے قاسم تک جاری ہے اور اب تک درجنوں بے قصور اس سفاکیت کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ایک منصوبہ بند بھیڑ اکٹھا ہوتی ہے اور گؤ کشی یہ کسی اور نام پر بے خوف قانون کو اپنے ہاتھ میں لیکر کسی بے گناہ کو نشانہ بناتی ہے اور اسے بے دردی سے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا جاتا ہے اور اس پورے واقعہ کا ویڈیوبناوائیرل بھی کیا جاتا ہے۔ پر افسوس پولس، حکومت اور عوام سب تماشائی بنے رہتے ہیں اور کارواہی کے نام پر صرف خانہ پورتی کی جاتی ہے۔ کسی مہذب جمہوری ملک میں اس بات کی قطعا کوئی گنجائش نہیں ہوتی ہے کہ کوئی فرد یا جماعت قانون اپنے ہاتھ میں لے پر بد قسمتی سے ہمارے ملک میں یہ روایت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔
مولانا نے مزید کہا کہ کہ موب لنچنگ کے درجنوں واقعات کے بعد بھی حکومت میں جمہوری اور حاکمانہ عہدہ پر فائذ لوگوں و دیگر سیاسی رہنماؤں کی خاموشی سب سے زیادہ شرمناک ہے۔ یہ صاف ہے کہ اتر پردیش، جھارکھنڈ، راجستھان جیسے صوبہ جہاں موب لنچنگ کے سب سے زیادہ واقعات ہوئے ہیں وہاں کی بھاجپا حکومتوں کی پشت پناہی اس وحشی قاتل بھیڑ کو حاصل ہے اوراسی لئے ان کے حوصلے بلند ہیں ورنہ موب لنچنگ کے معاملہ میں سخت کارواہی کر مثال قائم کرنے کے بجائے حکمران جماعت بھاجپا کے ممبر پارلیمنٹ نشیکانت دوبے عید سے دو دن پہلے جھارکھنڈ کے گڈّا میں سہراب الدین انصاری اور مرتزا انصاری کا دن دہاڑے قتل کرنے والی بھیڑ کا کھلے عام بچاؤ کرنے کے لئے سامنے نہیں آتے اور نہ ہی ہو قاتلوں کے مقدمے کا اخراجات اٹھانے کا اعلان کرتے۔ یہ عیاں ہے کہ موب لنچنگ اقلیتوں اور دلتوں کو نشانہ بنانے اور انہیں خوف زدہ کرنے کی گہری سازش کا حصہ ہے اور اس کے زریعہ فرقہ پرست جماعتیں اپنے سیاسی مقاصد کوبھی حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ورنہ حکومت بتائے کہ اس نے ان معاملات کی تفتیش کے لئے اب تک کیا کیا؟ کوئی ایس۔آئی۔ٹی۔ کیوں نہیں بنائی؟ کیا سرکار نے مظلومین سے کوئی ربط کیا ہے یا انہیں کسی قسم کا معا وضہ یا مدد دی ہے؟ تمام حقوق انسانی و انسانیت کے ضابطے کو بالاطر رکھتے ہوئے ہاپڑ میں قاسم کے گھائل شریر کو گھسیٹ کر لے جانے والے پولس اہلکاروں کو سسپنڈ کرنے کے بجائے صرف لائن حاظر کرحکومت کیا پیغام دینا چاہتی ہے؟ حد تو یہ ہے کہ اقلیت کے ووٹوں سے حکومت کرنے والی خدساختہ سکولر سیاسی جماعتیں اور انکے رہنماء بھیموب لنچنگ کے مسلہ پر خاموشی اختیار کیئے ہویں ہیں کہ کہیں اکثریتی طبقہ ناراض نہ ہو جائے اور شاید یہی وجہ جس کی بنیاد پر ملک کی پہلی مذہبی موب لنچنگ اخلاق کے قتل کے ملزم روی کی بیماری سے ہوئی موت پر اسکی لاش کو ترنگے میں لپیٹنے کے ساتھ ہی اس کے گھر والوں کو تب کے وزیر آعلی و سکولر زم کا علم بردار اکھیلیش یادو نے ۱۰ لاکھ معاوضہ کا اعلان کیا تھا۔ آج اپوزیشن میں ہو کر بھی سماجوادی پارٹی، کانگریس، بسپا و ملک کی دیگر سیاسی جماعتیں آخر کب اس ظلم کا خلاف آواز اٹھائینگی؟
مولانا نے کہا کہ موب لنچنگ صرف لاء اینڈ آرڈر کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ مذہبی جنون اور عدم رواداری کی بدترین شکل ہے اور اس سے پورے ملک میں مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ تقسیم کو مذید شہ مل رہی ہے۔ اگرحکومت نے اپنی زمہ داری ادا کرتے ہوئے جلد ہی اس بے قابو بھیڑ پر روک نہیں لگائی گئی اور اس میں شامل مجرموں پر سخت کارواہی نہیں کی گئی تو ملک میں ہر طرف قتل و غارت گری و نفرت کی ہوا عام ہو جائیگی اورملک میں انارکی پھیل جائیگی۔ راشٹریہ علماء کونسل جلد ہی ملک بھر میں اس کے خلاف مہم چلائیگی اور عوام کو بیدار کریگی۔

3 لائك

14 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

20 افسوس

1 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2018.