؞   عبادات کی قبولیت کی علامات۔۔۔۔۔۔
۲۳ جون/۲۰۱۸ کو پوسٹ کیا گیا
تحریر: مولانا طاہر مدنی*
رمضان المبارک کا مہینہ گزر گیا، جس میں اہل ایمان مختلف طرح کی عبادات ذوق و شوق سے انجام دیتے ہیں، روزہ، نماز، صدقہ خیرات، قیام و ذکر، تلاوت و مطالعہ قرآن، توبہ و استغفار، دعا و ابتہال، زکوۃ و انفاق، تذکیر و تعلیم، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، عمرہ و زیارت، صلہ رحمی و مواسات، وغیرہ متنوع عبادتوں کا اہتمام ہوتا ہے۔ بعد رمضان یہ جائزہ لینا چاہیے کہ ہماری عبادات قبول ہوئیں یا نہیں؟ سلف تو یہ کہتے تھے کہ یہ معلوم ہوجائے کہ کس کی عبادت قبول ہوئی تو اسے مبارکباد پیش کی جائے اور جس کی رد ہو گئی، اس سے تعزیت کی جائے۔
قبولیت کے تعلق سے ایک اصولی بات قرآن مجید میں یہ بتائی گئی ہے؛ انما یتقبل اللہ من المتقين؛ اللہ متقین کی عبادت ہی قبول کرتا ہے، تقوی ایک ایسی چیز ہے جس کا تعلق دل سے ہے اور دلوں کا حال اللہ ہی جانتا ہے۔ البتہ کچھ ایسی علامات ہیں جن سے قبولیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
اول۔۔۔ یہ اندیشہ کہ کہیں میری عبادت رد نہ ہوجائے، سورہ المؤمنون آیت 60 میں فرمایا؛ و الذین یوتون ما اتوا و قلوبہم وجلة انهم إلى ربهم راجعون؛ یعنی اللہ کے نیک بندے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور ڈرتے رہتے ہیں کہ اللہ کی طرف پلٹنا ہے، ہر چیز کا جواب دینا ہے، پتہ نہیں یہ عمل قبول ہوگا یا نہیں؟
دوم۔۔۔۔ گناہ سے توبہ کے بعد دوبارہ اس کی جانب نگاہ اٹھا کر نہ دیکھنا۔ اللہ نے توفیق دی، رمضان کی برکت سے توبہ کی، گناہوں سے دوری اختیار کی، اب ایسا نہ ہوکہ رمضان بعد پھر ادھر پلٹ جائیں، اگر توبہ پر قائم ہیں اور گناہوں سے دوری برقرار ہے تو اس کا مطلب ہے کہ عبادات قبول ہوگئیں۔
سوم۔۔۔۔ أعمال صالحہ پر استقامت اور مداومت... رمضان بعد بھی اگر عبادتوں سے شغف ہے اور نیکیوں کی توفیق جاری ہے تو یہ قبولیت کی علامت ہے۔ اگر رمضان جاتے ہی، مسجد میں حاضری کم ہوگئی اور قرآن مجید جزدان میں لپیٹ کر رکھ دیا گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عبادات قبول نہ ہوسکیں۔
چہارم۔۔۔۔ اپنی عبادتوں پر نہ اترانا... اللہ اگر عبادت کی توفیق دیتا ہے تو یہ اس کی مہربانی ہے، کبھی گھمنڈ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم نے بڑی عبادت انجام دے ڈالی ہے۔ مومن بہت کچھ کرکے بھی سمجھتا ہے کہ وہ کچھ خاص نہ کرسکا۔ اللہ کے احسانات بے شمار ہیں، ہم شکر گزاری کا حق کبھی ادا نہیں کرسکتے۔
پنجم۔۔۔۔ نیکی سے رغبت اور گناہ سے نفرت... قبولیت کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ نیکیوں سے رغبت بڑھ جائے اور گناہوں سے شدید نفرت ہونے لگے۔ رمضان تو تزکیہ نفس کا ذریعہ اور موقع ہے۔ اس کے بعد جائزہ لینا چاہیے کہ کتنا استفادہ ہوا۔ تزکیہ نفس کی واضح علامت اقبال الی الطاعات ہے۔ آدمی کی ترجیحات بدل جائیں۔
ششم۔۔۔۔ امید و رجاء.... ایمان امید اور خوف کے درمیان رہتا ہے۔ اللہ کی رحمت کی امید اور اس کی گرفت کا ڈر۔ مومن خوف و رجاء کے درمیان رہتا ہے۔ نہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے عذاب سے بے خوف۔
ہفتم۔۔۔۔ نیک صحبت سے لگاؤ اور بری رفاقت سے اجتناب.... ایمان کی علامت اچھی صحبت ہے، جیسے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہوگا، ہمارے دل کی کیفیت اسی طرح کی ہوگی۔ آدمی اپنے رفقاء سے پہچانا جاتا ہے، اگر عبادتیں مقبول ہیں تو اس کی علامت یہ بھی ہے کہ ہماری دوستی اور دشمنی کا معیار اللہ کا دین ہوگا۔
ہشتم۔۔۔۔ کثرت استغفار... اہل ایمان کی علامت ہے؛ و بالأسحار ھم یستغفرون؛ سحر کے وقت آٹھ کر وہ استغفار کرتے ہیں. نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کثرت سے استغفار کرتے تھے اور لوگوں کو اس کی تاکید کرتے تھے۔ متقین کی علامت کثرت استغفار ہے۔
نہم۔۔۔۔ کثرت ذکر..... اللہ کو یاد کرنے کی بہت فضیلت ہے، اس سے بڑھ کر کیا ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے؛ فاذکرونی اذکرکم...؛ تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ لیکن یاد رہے کہ ذکر وہی معتبر ہے جو فکر کے ساتھ ہو، صرف زبان سے نہ ہو بلکہ دل بھی ساتھ ہو۔ یہ بھی ضروری ہے کہ اذکار مسنونہ کا اہتمام کیا جائے۔ اللہ کے مقبول بندے، کثرت سے اپنے رب کو یاد کرتے ہیں اور ذکر الہی سے اپنی زبان تر رکہتے ہیں۔
دہم۔۔۔۔ دعاء کا التزام.... ہمارے پاس کچھ نہیں ہے، سب کچھ اللہ کے پاس ہے، اس لیے ہر وقت اس سے مانگنا چاہیے، دعا ہی تو عبادت کی روح ہے۔
*جنرل سکریٹری، راشٹریہ علماء کونسل

1 لائك

1 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2018.