؞   جادوگرنی بہو
۱۹ جون/۲۰۱۸ کو پوسٹ کیا گیا
(تحریر: اختر سلطان اصلاحی* (حوصلہ نیوز
سہلہ سات ماہ بعد مجھ سے ملنے آئی تھی۔ ایک سال پہلے اس کی شادی ہوئی تھی، اتفاق سے اس کا رشتہ میں نے ہی طے کروایا تھا۔
نوید حسن میرے بچپن کے دوست تھے ان کا ایک ہی بیٹا عامر تھا۔ انھوں نے ایک روز مجھے فون کیا۔
"احمد صاحب عامر میرا اکلوتا بیٹا ہے، بڑا شریف، نیک اور والدین کا خدمت گزار، مجھے اس کے لیے رشتے کی تلاش ہے، لڑکی شریف اور دیندار ہو، مجھے بیٹے کی شادی بہت سادگی سے کرنی ہے، جہیز وغیرہ کی بھی ضرورت نہیں ہے، ایک بات کا خیال رہے لڑکی اچھی اور خدمت گزار ہو اسے ہی گھر سنبھالنا ہے۔،،
نوید حسن نے اور بھی باتیں کیں، دیر تک مجھے تاکید کرتے رہتے، ان کی پریشانی بجا تھی ایک ہی لڑکا تھا، بہو اچھی مل جاتی تو زندگی اچھی گزرتی خدانخواستہ بہو خراب مل جاتی تو دونوں میاں بیوی کی زندگی اجیرن ہو جاتی، بیٹے کو انھوں نے بڑی محبت امید اور آرزوؤں سے پالا تھا۔ اس کی تعلیم پر بھی خوب خرچ کیا تھا، اب وہ ماشاء اللہ نوید حسن صاحب کے کاروبار کو بہت اچھی طرح چلا رہا تھا۔ عامر بڑا نیک اور سعادت مند لڑکا تھا۔ ہر وقت اپنے والدین کی خدمت کے لیے تیار، ان کے اشارے پر چلنے والا، اس کے لیے نوید حسن صاحب ایک اچھی ہی نہیں بہت اچھی بیوی کی تلاش میں تھے۔
نوید حسن صاحب کا فون جیسے ہی بند ہوا اہلیہ پوچھ بیٹھیں:
"کس کا فون تھا؟،،
میں نے ان کو تفصیل بتائی تو بول پڑیں:
"مولوی گلفام اپنی بیٹی سہلہ کے رشتے کے لیے بہت پریشان ہیں، سہلہ بہت سلیقے طریقے کی لڑکی ہے، میری مانیں تو یہ رشتہ بہت مناسب ہے، مولوی صاحب نے بیٹی کی تربیت بھی بہت اچھی کی ہے،،
اگلے دن میں مولوی گلفام صاحب کے گھر گیا، وہ تو پہلے سے ہی تیار بیٹھیے تھے فورا آمادہ ہوگئے۔
میں نے نوید حسن صاحب کو اس رشتے کے بارے میں بتایا۔ انھوں نے چند دن بعد معلومات وغیرہ حاصل کر کے آمادگی ظاہر کر دی۔
اللہ کے فضل سے شادی بہت سادگی سے ہوئی، نہ بارات، نہ جہیز، نہ کوئی دھوم دھڑاکا، عصر کے بعد چند لوگ گئے، چاے، ناشتہ کیا نکاح ہوا اور دلہن رخصت ہو کر اپنے گھر آگئی۔
پورے محلے میں ہفتوں اس نکاح کے چرچے رہے، ہر آدمی کی زبان پر تھا شادی ایسے ہونی چاہیے، مجھے بھی بہت خوشی تھی، مولوی گلفام اور نوید حسن صاحب دونوں کی آرزو پوری ہو گئی تھی، کئی دفعہ مولوی گلفام صاحب مجھے اپنے گھر چاے پر لے گئے اور کئی بار نوید صاحب نے فون کر کے میرا شکریہ ادا کیا۔
سات ماہ پہلے سہلہ مجھ سے ملنے آئی تھی۔ ملتے ہی کہنے لگی۔
"چچا اس سے پہلے بھی میں آپ سے ملنے آئی تھی مگر آپ ممبئ گئے تھے، ہم لوگ آپ کو بہت یاد کرتے ہیں،،
باتوں باتوں میں سہلہ کہنے لگی:
"چچا میری سسرال میں تو سب ٹھیک ہے مگر نہ جانے کیوں ساس اماں کچھ بجھی بجھی سی رہتی ہیں، وہ مجھ سے زیادہ بات بھی نہیں کرتیں، حالانکہ میں ان کی تمام ضروریات کا خیال رکھتی ہوں، من حد تک ان کی خدمت بھی کرتی ہوں، پلیز آپ ہی کچھ مشورہ دیں،،
میں نے سہلہ سے تفصیل سے اس کے گھر کے تمام حالات معلوم کیے، اندازہ ہوا کہ سہلہ اس دور کی تمام پڑھی لکھی لڑکیوں کی طرح اپنے ساس سسر کا دل جیتنے میں کامیاب نہیں ہے۔ وہ گھر کے تمام کام ضرور کرتی ہے مگر اس کے اندر اپنائیت کی کمی ہے۔
میں نے ساری روداد سننے کے بعد اسے کچھ مشورے دیے اور کہا بیٹی گھر چلانا اور دلوں پر حکومت کرنا ایک فن ہے افسوس کہ اب بہت سی سمجھدار اور پڑھی لکھی لڑکیاں بھی یا تو اس فن سے واقف نہیں ہیں یا اس کی ضرورت نہیں سمجھتیں اس لیے ناکام کہی جاتی ہیں۔ میں نے اسے تاکید کی کہ وہ میرے مشوروں پر عمل کر کے مجھے چھ ماہ بعد ضرور رپورٹ کرے۔
آج چھ سات ماہ بعد جب سہلہ پھر آئی تو خوشی اور اطمینان اس کے چہرے پر دیکھا جا سکتا تھا، خیر خیریت کے بعد کہنے لگی
"چچا میں نے آپ کے مشوروں پر عمل کیا الحمد للہ ساس سسر کی محبت حاصل کرنے میں کامیاب رہی، پہلے میں صبح دیر سے عامر کے ساتھ اٹھتی تھی، عامر اور پورے گھر کا ناشتہ تیار کرتی تھی جب کہ ساس، سسر تہجد کے وقت ہی اٹھ جاتے تھے، ساس اماں اپنے لیے اور سسر صاحب کے لیے چاے اور انڈا تیار کرتی تھیں، پھر وہ کچن کی صفائی کرتی تھیں، اسی درمیان میونسپلٹی سے پانی آتا تھا وہ پائپ سے برتنوں میں پانی بھرتی تھیں، عام طور سے وہ میرے اٹھنے سے پہلے ہی جھاڑو وغیرہ بھی دے لیا کرتی تھیں۔
میں نے آپ کے مشورے پر عمل کیا، صبح سویرے تہجد کے وقت کا الارم لگایا اور ساس اماں کے ساتھ ہی بستر چھوڑ دیا۔ فورا کچن میں گئی، چاے کے ساتھ دو انڈے بھی ابالے اور ابھی دونوں مصلے ہی پر تھے کی لے کر پہنچ گئی، ساس اماں نے حیرت سے دیکھا، یہ آج سورج مغرب سے کیسے نکل آیا؟
میں نے بھی سب کے ساتھ تہجد اور نماز فجر ادا کی، تھوڑی دیر کے بعد پانی آیا ساس اماں پائپ لگانے کے لیے آگے بڑھیں تو میں نے لپک کے پائپ ان کے ہاتھ سے لے لیا اور بولی اب آئندہ آپ کوئی کام نہیں کریں گی، اب آپ بس عبادت کیجیے اور آرام کیجیے، اب تک آپ نے بہت محنت کی ہے۔ ساس میرے چہرے کو حیرت سے دیکھ رہی تھیں، شاید سوچ رہی تھیں کہ اسے کیا ہو گیا ہے، تھوڑی دیر کے بعد برتن بھی میں نے صاف کیے اور عامر کا ناشتہ تیار کرنے لگی۔
عامر سو کر اٹھے تو بدلا بدلا منظر دیکھ کر وہ بھی مسکراے، ناشتہ کرتے ہوے بولے:
"آج کچھ الگ سا معاملہ لگ رہا ہے، لگتا ہے مائکے میں ابو امی نے کچھ زیادہ ہی نصیحتیں کر دیں ہیں، دیکھتے ہیں کتنے دن عمل ہوتا ہے،،
"میں کچھ نہ بولی بس مسکرا کر رہ گئی، اب یہ روز کا معمول تھا، ساس اماں نے سمجھا شاید یہ چند روزہ بخار ہے، مگر روز ایسا ہی ہوتا رہا میں نے گھر کے تمام کاموں سے انھیں بے نیاز کر دیا تھا۔ رفتہ رفتہ مجھے بھی خدمت میں مزہ آنے لگے، میں نہ صرف ساس اور سسر کی خدمت کرتی بلکہ زبانی طور پر بھی مختلف انداز سے اپنی محبت کا اظہار کرتی رہتی۔
رات عامر کہنے لگے:
"اماں اب اکثر تمہاری تعریف کرتی ہیں، کل آپا آئی تھیں ان سے کہہ رہی تھیں مجھے جیسی بہو چاہیے تھی اللہ نے دے دی، اب مجھے زندگی میں کچھ اور نہیں چاہیے۔
تم نے بڑی حکمت سے ان کا دل جیت لیا ہے تم تو ہو ہی جادوگرنی پہلے مجھ پر جادو کیا اور اب ابو امی پر، خدا خیر کرے، مجھے تو ڈر لگنے لگا ہے۔،،
ان کی محبت بھری اعترافی باتوں سے میرا دل باغ باغ ہو گیا، چچا آپ کا شکریہ، آپ نے وہ راستہ بتایا جس سے میری زندگی خوشیوں سے بھر گئ،،
سہلہ دیر تک اپنی کار گزاری بتاتی رہی اور میں سوچتا رہا۔
نوید حسن صاحب اور ان کی بیوی اب حقیقت میں مجھے دعائیں دیتے ہوں گے۔
سہلہ اب ایسی خوشگوار زندگی گزار رہی ہے جس میں اس کے ساس اور سسر اس کے لیے ماں باپ سے بھی زیادہ مہربان ہیں۔
سرپرست انجمن اساتذہ کوکن*

31 لائك

14 پسندیدہ

1 مزہ آگیا

0 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2018.