؞   ابوظہبی میں مذاکرہ اور مشاعرہ کا انعقاد، اعظم گڑھ کے شعراء اور سامعین کی شرکت
۴ دسمبر/۲۰۱۴ کو پوسٹ کیا گیا
قاسم فراہی کی رپورٹ
ابوظہبی(حوصلہ نیوز) : متحدہ عرب امارات میں 2 دسمبر کو قومی دن کی مناسبت سےاردو زبان کے مستقبل کے موضوع پر ایک مذاکرہ اور اس کے بعد ایک مشاعرہ کا انعقاد کیاگیا۔پروگرام میں اعظم گڑھ کےاردو اد ب سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
مذاکرہ کے تحت پانچ لکچرز ہوئے جن میں بلریا گنج اعظم گڑھ سے تعلق رکھنے والے مولانا محی الدین غازی نے اردو زبان کی تاریخ ،مسائل اور مستقبل پر سیر حاصل گفتگو کی۔ مذاکرہ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہم اپنے بچوں کو کم از کم اردو کی ابتدائی کتابیں ضرور پڑھنا لکھنا سکهادیں ۔آخر میں صدر مذاکرہ ڈاکٹر عاصم واسطی نے سب پر اپنا تبصرہ فرمایا اور کہا کہ اردو زبان سائنس و ٹکنالوجی کی دنیا میں بہت پیچھے جا چکی ہے لیکن رابطے اور میڈیا میں اس کے لیے جگہ باقی ہے اس میدان میں اگر لگن اور محنت سے کوشش کی جائے تو اس زبان کو مرنے سے بچایا جا سکتا ہے۔ . پروگرام کے دوسرے حصے میں مشاعرہ ہوا جس کی صدارت ڈاکٹر ظہور الاسلام جاوید نے کی ۔ نظامت کے فرائض جاوید صدیقی اعظمی نے انجام دیے۔ مشاعرے میں دوسرے شعرا کے علاوہ اعظم گڑھ سے تعلق رکھنے والے 7 شعراء ضیاء اعظمی، سرفراز اعظمی، قاسم شاذ فراہی،وسیم مطری،مولانا شفیق اعظمی، مولانا محی الدین غازی اور ناظم مشاعرہ جاوید صدیقی نے شرکت کی۔پروگرام میں اعظم گڑھ سے تعلق رکھنے والے سامعین کی تعدا د کافی تھی۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے شاعرڈاکٹر عاصم واسطی جو کہ ابوظہبی میں مقیم ہیں نے کہا کہ انہیں گویا ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وہ اعظم گڑھ میں مشاعرہ پڑھ رہے ہیں ۔جب کہ صدر مشاعرہ ڈاکٹر ظہور الاسلام جاوید نے اپنی صدارتی گفتگو میں کہا کہ ان کا تجربہ ہے کہ ابوظہبی میں جس مشاعرے میں اعظم گڑھ کے سامعین نہ ہوں وہ مشاعرہ کامیاب نہیں ہوتا۔

1 لائك

0 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2017.