؞   آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
۲۹ مارچ/۲۰۱۸ کو پوسٹ کیا گیا
تحریر: ابوسعد اعظمی
استاذ محترم مولانا ابوبکر اصلاحی کی وفات حسرت آیات سن کر آنکھیں چھلک اٹھیں. کہا جاتا ہے کہ دنیا میں سب سے بڑا بوجھ بوڑھے اور ناتواں باپ کے کاندھے پر جوان بیٹے کی میت ہوا کرتی ہے.
استاذ محترم مسلسل گیارہ سال سے اپنے ہونہار بیٹے کی یادوں کی میت اپنے دوش ناتواں پر اٹھائے ہوئے تھے، جس نے یقیناً ان کو اور کمزور ونڈھال کردیا. میں جب سوچتا ہوں کہ اس ناتواں باپ پر کیا گزرتی ہوگی جس کا ہونہار بیٹا ایک دو نہیں بلکہ گیارہ سال سے مسلسل جیل کی سلاخوں کے پیچھے سنت یوسفی ادا کررہا ہے تو روح کانپ اٹھتی ہے اور صبر وعزیمت کے اس پیکر کو بے اختیار سلام پیش کرنے کو دل چاہتا ہے. جو لوگ بھی مفتی ابوالبشر اصلاحی قاسمی سے واقف ہیں ان کا دل گواہی دے گا کہ ان پر لگائے گئے سارے الزامات بے بنیاد ہیں.
استاذ محترم کے انتقال کی خبر سن کر ذہن میں بچپن کی بہت سی یادیں امڈنے لگیں. مدرسہ محبوبیہ اسلامیہ میں دوران تعلیم ماسٹر محمد شوکت (حفظہ اللہ ورعاه) کے بعد جن اساتذہ کے اسماء گرامی ابھی تک ذہنوں میں تازہ ہیں ان میں ایک نمایاں نام مولانا ابوبکر اصلاحی مرحوم کا ہے.
مولانا بینا پارہ سے اپنی سائیکل پر سوار خراماں خراماں چلے آتے تھے، سائیکل کی رفتار سے معلوم پڑتا تھا کہ یہاں تک پہنچنے میں انہیں پچیس سے تیس منٹ لگ جاتے رہے ہوں گے. غالبا وہ سچا دین پڑھایا کرتے تھے، اور اپنے مخصوص و دلنشیں انداز میں جس طرح انہوں نے وہ اسباق ہمیں یاد کرائے تھے، آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ کا کام دیتے ہیں. بالخصوص ان طلبہ کے لیے جن کا تعلیمی سلسلہ مکتب کی تعلیم سے آگے جاری نہ رہ سکا. طلبہ پر انتہائی مہربان، اور ان کے روشن مستقبل کے لئے ہمیشہ متفکر یہ دبلا پتلا انسان جانے کس مٹی سے بنا تھا کہ طلبہ کی بےجا شرارتوں کے باوجود کبھی اس کی پیشانی پر بل نہیں پڑتے تھے. کتنی ہی معصوم شرارتیں جو استاذ محترم کی سائیکل کے ساتھ ہم نے روا رکھی تھیں، آج ایک ایک کرکے یاد آرہی ہیں اور یادوں کی یہ کسک ہمیں مجرم ثابت کررہی ہے.
ایسا شفیق ومحترم استاذ اپنے بیٹوں کی تربیت کے سلسلے میں حساس نہ رہا ہو، ذہن اسے قبول کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتا. مجھے پورا یقین ہے کہ آج نہیں تو کل ان کا بیٹا ضرور بے قصور ثابت ہوگا اور عدالت اسے باعزت بری کرنے کے لئے مجبور ہوگی. لیکن افسوس اس وقت اس کی رہائی کا منتظر بوڑھا باپ خوشی کے اس پل کو دیکھنے کی آس لگائے دنیا سے جاچکا ہوگا. اللہ تعالی سے دعا ہے کہ استاذ مرحوم کی لغزشوں کو درگزر فرمائے، ان کی سیئات کو حسنات سے بدل دے اور انہیں اعلی علیین میں انبیاء،شہداء اور صالحین کی معیت نصیب فرمائے. آمین۔
ابوسعد اعظمی
ریسرچ اسکالر، شعبہ عربی علی گڈھ مسلم یونیورسٹی

0 لائك

1 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

16 افسوس

0 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2018.