؞   مولانا ابو بکر اصلاحی کا انتقال
۲۷ مارچ/۲۰۱۸ کو پوسٹ کیا گیا
نئی دہلی/بیناپارہ (حوصلہ نیوز) : معروف عالم دین مولا نا ابو بکر اصلاحی کاطویل علالت کے بعد دوشنبہ کو دہلی میں انتقال ہوگیا۔ مولانا اعظم گڑھ کے بیناپارہ گاؤں کے رہنے والے تھے ۔ علاج کے سلسلے میں تقریبا ڈیڑھ سال سے دہلی میں مقیم تھے۔
مولانا کے سب سے بڑے صاحبزادے مفتی ابو البشراصلاحی قاسمی کو دس سال قبل ملک کے مختلف بم دھماکوں کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا اس گرفتاری سے مولانا کو کافی صدمہ ہوا اور ذہنی اور جسمانی صلاحیت دن بہ دن جواب دیتی چلی گئی۔
مولانا نے 1975 میں مدرسۃ الاصلاح سے فراغت کے بعد قرب و جوار کے مکاتب میں۳۰ سال سے زائد عرصے تک تدریسی خدمات انجام دیں اور ہزاروں طلبہ وطالبات کو علم کی روشنی سے منور کیا۔
گیارہ سال پہلے بینا پارہ کے مکتب میں بچوں کو پڑھاتے ہوئے ان پرفالج کا اٹیک ہوا اس کے بعد سے مولانا صاحب فراش ہوگئے۔ ان اگیارہ سالوں میں کئی دفعہ صحت میں اتار چڑھاؤ آیا بالآخر صحت نے مزید ساتھ نہ دیا اور 26 مارچ 2018 کی صبح تقریبا 9 بجے مالک حقیقی سے جاملے۔
نماز جنازہ جماعت اسلامی کے مرکز میں بعد نماز عشاء پڑھی گئی اور شاہین باغ کی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔
پسماندگان میں ان کی اہلیہ ، 6 بیٹے ، مفتی ابوالبشراصلاحی، ابو ظفر اصلاحی، ابوزر، ابوزید، ابوالفیض ،ابوالقیس اور ایک بیٹی صائمہ ہیں۔

0 لائك

0 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

15 افسوس

0 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
Commented on : 2018-03-28 06:07:41
abu saad : اللہ مغفرت فرمائے

تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2018.