؞   اورنگ زیب اعظمی کے زیرادارت انگریزی مجلہ کا جامعہ ملیہ میں رسم اجرا
۲۶ مارچ/۲۰۱۸ کو پوسٹ کیا گیا
نئی دہلی /اعظم گڑھ (پریس ریلیز/ حوصلہ نیوز) جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے شعبۂ عربی میں اسسٹنٹ پروفیسر اورنگ زیب اعظمی کی زیرادارت انگریزی مجلہ دی انڈین جرنل آف عربک اینڈ اسلامک اسٹڈیز کے خصوصی شمارہ قرآن نمبر کے اجرا مولانا سید ارشد مدنی کے ذریعہ عمل میں آیا۔
پروگرام کا آغاز محمد میکائیل کی تلاوت کلام پاک سے ہوا جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر محفوظ الرحمن ، استاد شعبۂ عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ نے انجام دیے اس کے بعد مہمان خصوصی حضرت مولانا سید ارشد مدنی، صدر جمیعۃ علماء ہند کی خدمت میں نشان یاد گار بدست صدر شعبۂ عربی پروفیسر حبیب اللہ خاں پیش کیا گیا۔ افتتاحی کلمات پروفیسر حبیب اللہ خاں نے پیش کیے جس میں انھوں نے مہمان خصوصی اور شعبۂ عربی اور دیگر شعبہ سے آئے ہو ئے اساتذہ کا استقبال کیا ۔ مہمان خصوصی کا تعارف کراتے ہوئے جمیعۃ العلماء کی خدمات کی طرف بھی اشارہ کیا جو ہر موقع پر ہندوستانی مسلمانوں کو درپیش مسائل کو حل کرنے کی جد وجہد کرتی رہتی ہے، جامعہ کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے جامعہ کے قیام میں علماء کی خدمات کو یاد کیا اورآزادی وطن کے لیے ان کی قربانیوں کا تذکرہ کیا اور موجودہ دور میں قرآنی تعلیمات سے لوگوں کو متعارف کرانے کی اہمیت کو بیان کیا، نیز مجلہ کے ایڈیٹر اور جملہ اراکین کوقرآن جیسے اہم موضوع پرانگریزی زبان میں خصوصی شمارہ منظر عام پر لانے کے لیے مبارک باد پیش کی اور اپنی امید ظاہر کی کہ علمی حلقوں میں یہ شمارہ قبولیت حاصل کرے گا۔
اس کے بعد ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی ، استاد شعبۂ عربی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے مجلہ کا تعارف پیش کیا جس میں انھوں نے اس مجلہ کو شائع کرنے کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ اس خصوصی شمارہ کی امتیازی خصوصیات پر بھی روشنی ڈالی اور اس کے نکالنے کے محرکات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے خطاب میں قرآنی موضوع پر لکھے جانے والے مضامین اور اس کی بڑھتی ہوئی تعداد کو بھی بیان کیااور یہ قرآن کا اعجاز ہے کہ اس پر روز افزوں سے مضامین اور کتابیں لکھیں جا رہی ہیں۔ انھوں نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ ان کے علم کے مطابق قرآنی علوم پر انگریزی زبان میں یہ پہلا خصوصی شمارہ ہے ، اس کے بعد انھوں نے خصوصی مجلہ کی موضوعاتی تقسیم پر بھی روشنی ڈالی، اپنے خطاب کے اخیر میں انھوں نے قرآنی علوم پر مشتمل اپنے مستقبل کے پروجیکٹ کو بھی بیان کیا اور تمام لوگوں کو اس میں حصہ لینے کی دعوت دی۔
اس کے بعد مہمان خصوصی حضرت مولانا سید ارشد مدنی نے اپنے خطاب کے آغاز میں شعبۂ عربی اور جامعہ کے ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا اور دارالعلوم دیوبند اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تعلقات پر روشنی ڈالی۔ اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بانیان دارالعلوم کی فکر مسلمانوں کے علمی افق کو کشادہ کرنا تھا اسی ارادہ کی تکمیل کو پورا کرنے کے لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام عمل میں آیا اور الحمد للہ جامعہ اپنے مشن میں پہلے دن سے کوشاں ہے اور آگے بھی رہے گا۔ مزید انھوں نے اپنے خطاب میں علم کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی اور انسانی معاشرہ کی ترقی کے لیے اسے ایک ناگزیر ضرورت قرار دیا۔ اس کے بعد انھوں نے تفسیر اور علوم تفسیر کے اہم نکات کی وضاحت کی جس کی وجہ سے بہت سے لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔اخیر میں مہمان خصوصی نے میگزین کے ایڈیٹر ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی کو ان کے اس عظیم کارنامے پر مبارک باد دی اور مستقبل میں ان کو اپنے علمی جد وجہد جاری رکھنے کی مشورہ دیا۔
اخیر میں ڈاکٹر ہیفاء شاکری نے مہمان خصوصی ، شعبۂ کے تمام اساتذہ اور دیگر شعبہ سے آئے ہوئے مہمان گرامی کا شکریہ ادا کیا۔ پروگرام میں طلبہ واساتذہ بڑی تعداد میں موجود تھے۔ اسٹیج پر تقریب رونمائی کے وقت مجلہ کی ادارت کے رکن اور مغربی بنگال میں عربی زبان کے استاد ڈاکٹر محمد معتصم اعظمی بھی موجود تھے۔


2 لائك

0 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2018.