؞   صدر جمہوریہ سے بہادری کا ایوارڈ حاصل کرنے والے طالب علم کے پاس نہیں ہیں فیس جمع کرنے کے پیسے
۲۸ جنوری/۲۰۱۸ کو پوسٹ کیا گیا
اعظم گڑھ (حوصلہ نیوز): بی ٹیک کے ایک طالب علم جس کو بہادری کے لئے صدرجمہوریہ ہند کی طرف سے ایوارڈ بھی دیا جاچکا ہے آج ان کے پاس فیس جمع کرنے کے پیسے نہیں ہے۔
اعظم گڑھ کے رہنے والے اوم پرکاش سن 2010 میں جب ساتویں جماعت میں پڑھتے تھے اس وقت ان کی وین میں آگ لگ گئی تھی جس میں اوم پرکاش کے علاوہ 8 بچے تھے۔ جلتی گاڑی کو ڈرائیور چھوڑکر چلا گیا تھا تب اوم پرکاش نے آگ میں گھس کر ان 8 بچوں کی جان بچائی تھی اور اس دوران ان کا چہرہ بھی جل گیا تھا۔ ان کی اس بہادری کے لئے 2012 میں ان کو صدرجمہوریہ پرتبھا پاٹل کے ہاتھوں بہادری کا ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔
اوم پرکاش کے والد گجرات میں آٹو چلاتے ہیں اور بیٹے کے علاج کے لئے ڈھائی لاکھ کا لون بھی لیاتھا۔ ان کو ایوارڈ تو دے دیا گیا لیکن کوئی مالی مدد فراہم نہ کی گئی۔
آج جبکہ اوم پرکاش گورکھپور کے مدن موہن مالوی کالج میں بی ٹیک سال اول کے طالب علم ہیں اور ان کا ایڈمیشن سرکاری کوٹے سے ہوگیا ہے لیکن فیس جمع کرنے کے لئے ان کے پاس پیسے نہیں ہے۔ سرکار سے مالی مدد مانگی تو کمیٹی بٹھا دی گئی لیکن ابھی تک عملی طور پر کوئی مدد نہیں مل سکی ہے۔

0 لائك

0 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

2 كيا خوب

4 افسوس

4 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2018.