؞   سمجھ دار بیٹیاں
۵ جنوری/۲۰۱۸ کو پوسٹ کیا گیا
تحریر: اختر سلطان اصلاحی
(حوصلہ نیوز)پورے سات سال بعد میری ملاقات اپنے پرانے دوست تنویر سے ہوئی تھی. پچھلے دس سالوں میں اس نے درجنوں بار فون کر کے داپولی آنے کی دعوت دی تھی مگر میں اتنا زیادہ مشغول تھا کہ دوست کی خواہش پوری نہ کر سکا. اب ذرا فرصت ملی تو سوچا تنویر کے یہاں گھوم آؤں.
تنویر سے میرا تعلق تیس سال پرانا ہے وہ میرے ساتھ سرگروہ ہائی اسکول پنہالجہ میں ٹیچر تھا. ہم دونوں تقریبا بیس سال ایک ساتھ ہی رہے. اسکول کے علاوہ اوقات میں بھی ہم دونوں زیادہ تر وقت ساتھ ہی گزارتے. ان بیس سالوں میں کبھی بھی ہم دونوں میں کوئی تکرار تو دور معمولی بحث بھی نہیں ہوئی تھی، ہم دونوں ایک مشہور دینی جماعت کے رکن تھے، اسکول اور گاؤں میں جماعت کے پانچ ارکان تھے، اتفاق سے ان بیس سالوں میں زیادہ تر میں ہی جماعت کا امیر رہا.
تنویر کو اللہ نے صرف چار بیٹیوں سے نوازا تھا شروع میں وہ اور اس کی بیوی رخسانہ اکثر اللہ سے ایک بیٹے کے لیے دعا کرتے تھے مگر بعد میں وہ تقدیر کے فیصلے پر پوری طرح راضی ہو گئے. ان کی زبان سے شائد ہی کبھی کوئی شکوہ یا شکایت سنی گئی ہو البتہ انھوں نے بیٹیوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر باقی نہ رکھی اور انھیں بیٹوں سے بڑھ کر پالا پوسا اور تعلیم دلائی.
تنویر کی چاروں بیٹیاں خلیلہ ، وجیہہ، دلیلہ اور رفیعہ بڑی ذہین، ہونہار اور نیک تھیں. چاروں پڑھنے میں بھی بہت اچھی تھیں، خلیلہ تو ہمیشہ اپنی جماعت میں اول آتی تھی. وہ ریاضی، سانس اور انگلش زبان میں بہت اچھی تھی. اسکول میں جب بھی کوئی ثقافتی پروگرام ہوتا خلیلہ ہی اول آتی. وہ اپنے والدین کو تو عزیز تھی ہی اسکول میں تمام استاذوں کی نگاہوں کی بھی تارہ تھی.ہیڈ ماسٹر صاحب اور تمام اساتذہ بھی اس کو عزیز رکھتے تھے.
چھوٹی تینوں بہنیں بھی بڑی سیدھی سادی اور اپنے کام سے کام رکھنے والی تھیں.سب بے حد سیدھی سادی، شریف اور اخلاق مند تھیں.
میں جب تک پنہالجہ میں رہا صبح شام ان کا میرے گھر آنا جانا لگا رہتا. میری بیوی سائرہ اور بیٹے نوید بھی چاروں بہنوں سے بہت محبت کرتے تھے. سائرہ کا بس چلتا تو وہ چاروں بہنوں میں سے کسی ایک کو ضرور اپنی بہو بنا لیتی مگر نوید کا رشتہ بچپن ہی میں اس کی خالہ زاد بہن سے طے ہو گیا تھا.
ناگپور سے داپولی جاتے ہوے ہم میاں بیوی نے کئی بار تنویر اور اس کی بیٹیوں کا ذکر کیا، مجھ سے زیادہ سائرہ ان کے حالات سے واقف تھی. اس نے بتایا کہ تنویر کی چاروں بیٹیوں کی شادیاں ہو گئی ہیں اور وہ اپنے گھروں میں بہت آرام سے ہیں. تنویر کی بیوی رخسانہ سے اکثر وہ موبائل پر بات کرتی رہتی تھی.
کھیڈ ریلوے اسٹیشن پر تنویر نے میرا استقبال کیا، وہ اپنے بڑے داماد کے ساتھ مجھے لینے کے لیے آیا تھا.
"ظہیر بھائی یہ میرے بڑے داماد حماد ہیں، یہ چپلون میں ایک کیمیکل کمپنی میں مینیجر ہیں. یہی میرے ساتھ رہتے ہیں، الحمد للہ خلیلہ کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں. اللہ نے مجھے تو بیٹے نہیں دیے مگر ماشاء اللہ داماد اور نواسوں سے ساری کمی پوری کر دی، خلیلہ بھی ماشاء اللہ لڑکیوں کے لیے کمپیوٹر کلاس چلاتی ہے. اس نے بہو اور بیٹی دونوں کی کمی پوری کر دی ہے. اپنی امی کی تو اتنی خدمت کرتی ہے کہ وہ شب و روز اس کو دعائیں دیتی ہیں،،
باتوں کے دوران کب داپولی آیا پتہ ہی نہ چلا، رتنا گیری کا یہ چھوٹا سا شہر بہت صاف ستھرا ہے، اللہ نے اس علاقے کو فطری خوبصورتی سے نوازا ہے. ناریل، سپاری اور کاجو کے درخت اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگاتے ہیں. شہر سمندر سے صرف بارہ کیلو میٹر کے فاصلے پر ہے. موسم بہت خوشگوار رہتا ہے نہ تو زیادہ سردی اور نہ ہی زیادہ گرمی، یہاں مسلم آبادی بھی اچھی ہے. جا بجا وسیع وعریض خوبصورت مسجدیں نظر آتی ہیں.
ریٹائر ہونے کے بعد تنویر نے یہیں ایک چھوٹا سا چار کمروں کا گھر بنا لیا تھا. خلیلہ کے شوہر حماد دھولیہ کے رہنے والے ہیں، ان کے والدین کا بچپن میں ہی انتقال ہو گیا تھا. رخسانہ نے انھیں داپولی رہنے کے لیے آمادہ کر لیا تھا.
داپولی میں تنویر کے گھر ہم لوگ پورا ایک ہفتہ رہے، وجیہہ، دلیلہ اور رفیعہ بھی ہم سے ملنے کے لیے آئیں. وجیہہ وہاں سے پانچ کیلو میٹر دور ایک اسکول کی پرنسپل ہے. اپنی صلاحیت اور حسن انتظام کی وجہ سے اس نے اسکول کو چار چاند لگا دیا ہے. لڑکیوں کے اس اسکول میں اب ایک ہزار سے زیادہ لڑکیاں ہیں. ماشاء اللہ اسکول کا معیار تعلیم بہت اچھا ہے، یہاں دینی تعلیم کا بھی بہترین انتظام ہے. ہم لوگ وجیہہ کے اسکول بھی گئے. چیرمین صاحب سے ملاقات ہوئی وہ کہنے لگے وجیہہ میڈم کی وجہ سے آج ہمارا اسکول پورےعلاقے میں مشہور ہو گیا ہے. اللہ نے ہم پر فضل کیا جو وجیہہ جیسی پرنسپل ہم کو ملی. وجیہہ کا اسکول دیکھ کر ہماری طبیعت خوش ہو گئی. دل سے نکلی کہ کاش ہر جگہ لڑکیوں کے لیے ایسے ہی اچھے اسکول ہوتے.
دلیلہ کی شادی داپولی ہی میں ہوئی ہے، اسے شروع ہی سے خدمت خلق کے کاموں سے بہت دلچسپی ہے،اب بھی وہ خدمت خلق کے کئی کاموں سے جڑی ہوئی ہے. بیوہ اور غریب عورتوں کے لیے اس نے سلائی کارخانہ لگایا ہے جس میں پندرہ عورتیں کام کرتی ہیں. پاپڑ بکری سینٹر کے نام سے ایک دوکان کھولی ہے جس میں غریب عورتوں کی تیار کی ہوئی لذیذ پاپڑ فروخت کی جاتی ہے. شادی امداد فنڈ کے نام سے اس نے ایک سوسائٹی بھی بنائی ہے جو غریب لڑکیوں کی شادی میں مدد کرتی ہے. پورے علاقے میں دلیلہ بڑی باجی کے نام سے مشہور ہو گئی ہے. ہر زبان پر اس کی تعریف اور کاموں کے چرچے ہیں.
ہم لوگوں نے دلیلہ کی سلائی سنٹر اور پاپڑ بکری سنٹر دیکھا. دل سے بے ساختہ آواز نکلی
کا ش ہر گاؤں اور شہر میں غریبوں کے لیے ایسے ہی کام ہوتے اور ہماری قوم میں دلیلہ جیسی انسانیت نواز لڑکیوں کی کثرت ہوتی.

رفیعہ شروع ہی سے بہت دین پسند تھے، وہ لڑکیوں کی تنظیم جی آئی او کی سرگرم ممبر تھی. اس کی کوششوں کا اسکول کی تمام طالبات پر بہت اچھا اثر پڑا تھا. اسکول میں
پہلے لڑکیاں کلاس کے اندر نقاب نہیں لگاتی تھیں جب رفیعہ ساتویں کلاس میں پہلی بار نقاب لگا کر بیٹھی تو بہت سے استاذوں کو بھی اعتراض ہوا سب سے زیادہ تو چیرمن لمخورے صاحب کو،وہ اگلے دن اسکول میں آے تو بہت ناراض تھے.
چیختے ہوے صدر مدرس صاحب سے بولے
"تم لوگوں نے ہائی اسکول کو مدرسہ بنا دیا ہے، اس لڑکی کو کس نے نقاب لگانے کی اجازت دی ہے، کیا پورے اسکول میں یہی ایک شریف زادی ہے، یہاں میں ہر گز کسی کو کلاس میں نقاب لگانے کی اجازت نہیں دوں گا، جس کو بغیر نقاب کلاس میں بیٹھنا ہو وہ پڑھے ورنہ اپنے گھر جاے،،
لمںخورے صاحب ہیڈ ماسٹر صاحب کو حکم دے کر چلے گئے.
اگلے پیریڈ میں ہیڈ ماسٹر صاحب نے رفیعہ کو بلایا اور چیرمن صاحب کا حکم سنایا.
رفیعہ نے بڑے ادب سے ہیڈ ماسٹر صاحب کی بات سنی اور پھر بولی.
"آپ لمخورے صاحب سے کہہ دیں کہ اب میں ہر گز چہرہ نہیں کھولوں گی. اگر وہ زیادہ زبردستی کریں گے میں اسکول چھوڑ دوں گی اور اکیلے نہیں جاؤں گی میرے ساتھ اسکول کی پچاس سے زیادہ لڑکیاں بھی جائیں گی،،
رفیعہ کے اس جواب پر ہیڈ سر بھی لا جواب ہو گئے، انھوں نے لمخورے صاحب کو رفیعہ کا جواب بتا دیا. لمخورے صاحب رفیعہ کے خلاف کوئی کاروائی کرنے کی ھمت نہ کر سکے.
رفیعہ نے بی ایس سی کرنے کے بعد تعلیم ختم کر دی تھی، اس کی شادی اس کے پھوپھی زاد بھائی سے ہو گئی تھی، وہ بھی اپنے گھر بہت آرام سے تھی.
تنویر سے روز آنہ گھنٹوں بات ہوتی تھی. وہ اکثر اپنی چاروں بیٹیوں، داماں اور نواسوں نواسیوں کی باتیں کرتا تھا.
ماشاء اللہ دنیا کی ہر راحت اور سکون اسے حاصل تھا.
دیکھا گیا ہے کہ جن لوگوں کے بیٹے نہیں ہوتے وہ ہمیشہ اپنی اس محرومی کا ذکر کرتے رہتے ہیں مگر تنویر اور اس کی بیگم کی زبان پر کبھی بھی بیٹے کے نہ ہونے کا کوئی شکوہ نہیں تھا. اور ہوتا بھی کیوں، اس کی چاروں نیک اور سمجھ دار بیٹیوں نے کبھی اسے بیٹے کی کمی محسوس ہی نہ ہونے دی.
واپسی میں بیگم کہنے لگیں
تنویر کے گھر کو اس کی بیٹیوں نے جنت بنا دیا ہے. کاش اللہ تعالی سب کو ایسی ہی بیٹیاں دے.




3 لائك

4 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

1 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
Commented on : 2018-01-06 12:25:48
منظر نثار ندوی : اللہ تعالی نے جن حضرات کو صرف بیٹیوں سے نوازا ہے, ان کے لئے یہ تحریر ضرور باعث تسلی ہوگی, اللہ سب کو نیک بیٹیاں عطا فرمائے.

تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2018.