؞   مشترکہ خاندانی نظام میں عورت بیوی کم بہو زیادہ
۲۷ دسمبر/۲۰۱۷ کو پوسٹ کیا گیا
تحریر : عزیز اعظمی (اسرولی سرائے میر)۔
ابا میرے لئے رشتہ ڈھونڈ رہے تھے کہیں لڑکی پسند آتی تو گھر نہیں کہیں گھر پسند آتا تو لڑکی نہیں حقیقتا ابا صرف لڑکی ہی نہیں بلکہ لڑکی کے ساتھ ساتھ بہت کچھ ڈھونڈ رہے تھے۔ بظاہر تو ابا کے سامنے اماں بے بس نظر آتیں لیکن ان کی بے بسی کہیں نہ کہیں ابا کی تائید کرتی کیونکہ وہ بھی تووہی چاہتی تھیں جو ابا چاہتے تھے ابا کی اعلی ظرفی کہ جب کہیں رشتے کی بات ہوتی تو یہی کہتے کہ ہمیں تو صرف لڑکی چاہئے اورکچھ نہیں لیکن رشتہ ڈھونڈتے وقت ان کی نظروہیں ٹکتی جس گھر کی کھڑکیاں شیشے اور فرش ماربل کے ہوتے ۔ رشتہ ڈھونڈنے میں ابا کے جوتے تو گھسے لیکن اپنی شان اور خواہش کے مطابق رشتہ ڈھونڈ نکالا۔ اماں تو ابا کی پسند اور خواہش پرایمان کی حد تک یقین رکھتی تھیں اس لئے مزید تحقیق کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی۔میں اپنی حیثیت کے مطابق رشتے کا قائل تھا،بڑے گھر رشتے کے حق میں نہیں۔ لیکن اماں ابا کو بڑی مشکل سے پسند آنے والے رشتے سے انکار کرنا اپنی آنے والی ازدواجی زندگی کا گلہ گھونٹنے کے متاردف تھا ۔معاشرتی حقیقت ، مشترکہ خاندانی نظام کے مد نظرماں باپ کی پسند اور ان کی مرضی سے ہونے والی شادی میں ہی عافیت تھی ۔کیونکہ ہمارے معاشرے میں شادی کے بعد عورت بیوی کم اور بہو زیادہ ہوتی ہے اور اس تلخ حقیقت کو نظر انداز کرکے نہ ہم اپنے گھر کو خوبصورت بنا سکتے ہیں نہ ہی اپنے فرسودہ مشترکہ فیملی نظام کو بہتر - معاشرے میں رائج رسوم و رواج کے بیچ خوشگوار اور خوبصورت زندگی گزارنے کے لئے والدین کی خوشی اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ آپ کی شادی ۔ میں ابا کے فیصلے پر راضی تو تھا لیکن اس بات غیر مطمئن کہ ناز و نخرے میں پلنے والی بڑے باپ کی بیٹی مجھ جسے متوسط گھرانے کے، بغیر اے سی والے کمرے میں کیسے رہ پائے گی۔ کیا میرے بغیر ملازمہ والے گھر کے ٹوٹے فرش پر جھاڑو لگا سکے گی؟ اگر وہ یہ سب کچھ نہ کر سکی تو کیا اماں بطور ساس اس کےناز و نخرے برداشت کر پائیں گی؟ محلے پڑوس کے سامنے اس کی خامیوں پر پردہ ڈال سکیں گی؟ لیکن ابا اس فطری حقیقت سے بے خبر بڑے رشتے کی بدولت اپنے مرتبے اور میری تقدیربدلنے کی خاطر ان کے اسٹیٹس کے مطابق مہنگے زیور، اچھے کپڑے ، خوبصورت ٹینٹ ، نئی قالین ، اچھے باورچی کی کھوج میں مصروف تھے - دنیا کے سامنے اپنی شان وشوکت کی خاطر اپنی حیثیت سے بڑھ کر انتظامات کے لئے پریشان تھے لوگوں کے سامنے اپنی حیثیت سے بڑھ کر اپنے آپ کو پیش کرنا چاہتے تھے - والدین کی عظمت اور ان کے تقدس کے اعتراف میں اپنی سوچ اپنے نظریے کو نظراندز کرتے ہوئے میں بھی ان کی خواہش کی تکمیل میں لگاہوا تھا۔
شادی والے دن شام کو جب پھولوں سے سجی گاڑی سے دلہن اماں کی امیدوں سے بڑھ کر سامان لےکر اتری تو سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔اماں تو بہو دیکھنے کے بجائے پہلے سامان سے بھرے بڑے باکس رکھوانے میں مشغول تو ابا مہمانوں کو چھوڑ سامان اتروانے میں مصروف۔ گھر میں دلہن کےگہنے ، کپڑے ، لہنگے کے علاوہ کوئی دوسری بات ہی نہیں۔ لیکن میری آرزو کہ کہیں سے سن لوں کہ بیوی کیسی ہے ، آخر دلہن دیکھنے آئیں کچھ لڑکیوں کو کہتے سن ہی لیا کہ جیسا عزیز بھیا ہے بیوی ویسی نہیں۔ یہ بات تو مجھے پہلے ہی پتہ تھی کہ دولت مند شخص کا مجھ جیسے متوسط گھرانے میں شادی کرنا اعلی ظرفی نہیں مصلحت پسندی ہوگی ۔لیکن گاڑی ، گھوڑا ، عزت ، دولت ، شہرت دیکھ کرمیرا بھی تقوی ٹوٹ گیا زندگی کس کےساتھ گزارنی ہے وہ کیسی ہے یہ بھول کر دھوم دھام سے ہونے والی شادی کی چمک دمک میں کھو گیا ۔ابا تو اس رشتے سے اتنا خوش ہوئے کی خاندانی روایت رسم و رواج کوتوڑتے ہوئے مجھے ہنی مون پر بھی بھیج دیا ۔ نینی تال سے واپس آگیا۔ ایک ہفتے بعد چھٹی ختم ہونے والی تھی ۔نئی نویلی بیوی کو چھوڑکر دو سال کے لئےسعودی جانا کسی امتحان سے کم نہ تھا لیکن جانے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں۔ ابو ریٹائر ہو چکے تھے اورگھر کی ساری زمہ داریاں اب میرے اوپر تھی ۔
نازیہ نہیں چاہتی تھی کہ میں اسے چھوڑ کر سعودی عرب جاؤں مجھ سے کہا کہ میں اس چھوٹے سے گھر میں آپ کے سہارے ہی رہتی ہوں آپ کے بغیر تو یہاں ایک پل رہنا مرے لئے مشکل ہوگا ۔آپ سعودی مت جائیں ،یہیں کچھ کر لیں۔ اگر آپ کہیں تو میں اپنے ابو سے بات کروں۔ میں نے کہا، ہرگزنہیں ۔میرے ابّا نے تو پہلے ہی بڑے گھر رشتہ کر کے لوگوں کی نگاہوں میں اپنی حیثیت کو مشکوک کر لیا ہے۔ بڑے گھر رشتہ کرنے میں وہ اپنی شان سمجھتے ہوں گے پر میں نہیں۔ میں اپنی آزادی ، خوداری اور خود اعتمادی کو سسرال کے ہاتھوں گروی رکھ کر دنیا کے سامنے بڑکپن کا اظہار نہیں کر سکتا۔ میں اپنے حالات سے سمجھوتا تو کر سکتا ہوں لیکن احسانوں کے بوجھ تلے دب کر نہیں رہ سکتا - نازیہ دنیا کی تمام چیزیں انسانوں کے لئے سرمایۂ حیات ہیں لیکن میاں بیوی ایک دوسرے کے لئے ایک عظیم اور بہترین سرمایہ ہیں، اس کی قدر کرنا ہم دونوں کی ذمہ داری ہے۔ شادی بعد شوہر کا گھر ہی اس کا حقیقی گھر ہے ۔اس گھر کے بکھرے ہوئے تنکے کو جوڑ کر آشیانہ بنانا اس میں خوبصورتی کے رنگ بھرنا ایک اعلی کردار بیوی کی پہچان ہوتی ہے۔ اس کو سنوارنا اس کو سجانا اب تمہاری ذمہ داری ہے۔ اس سچائی کو سامنے رکھتے ہوئے کہ ساس نہ کبھی بہو کو سگی بیٹی سمجھ سکتی ہے اور نہ بہو ساس کو سگی ماں ۔انسانی فطرت کی اس تلخ حقیقت کو نہ میں بدل سکتا ہوں نہ تم لیکن رشتوں کی اہمیت اور اس کی عظمت کو اگر سمجھا جائے اوراس کا احترام کیا جائے تو زندگی بہت ہی حسین اور خوبصورت ہو سکتی ہے اورمیں امید رکھتا ہوں کہ آپ ایک فرمانبردار اور اعلی کردار بیوی کی مثال پیش کریں گی ۔تاکہ معاشرہ فخر سے اپنی بیٹیوں سے کہے کہ دیکھو وہ بھی ایک بہو ہے جس نے ایک رئیس باپ کی بیٹی ہونے کے باوجود اس چھوٹے سے بکھرے ہوئے بے ترتیب گھر کو اپنے حسن سلوک سے جنت بنا دیا - نازیہ نے کہا میں بڑے باپ کی بیٹی ضرور ہوں لیکن اسی سماج میں رہتی ہوں ۔دو دو بھابھیوں کے بیچ رہی ہوں۔ رشتے کی نزاکت سمجھتی ہوں، انشاء اللہ شکایت کا مو قع نہیں دوںگی۔ نازیہ نے اپنے اس خوبصورت جواب سے میرا اعتماد جیتتے ہوئے مجھ سے ملنے والی بے پناہ محبت کو اپنے نام کی مہر لگا لی۔
میرے پاس میرے اس گھر میں نازیہ کو پیار دینے کے سوا کچھ نہیں تھا اور میرے جانے کے بعد میرا پیار ہی نازیہ کو اس گھر کی دھوپ چھاؤں کو برداشت کرنے کا حوصلہ دیتا - میں اپنی ساری محبت نازیہ پر نچھاور کرکے بہت ساری یادوں اورمحبتوں کو سمیٹ کر دو دن بعد آنکھوں میں آنسو لئے سعودی چلا گیا - میرے جانے کے بعد نازیہ خاموشی سے میری محبت کے سہارے ہر تلخ و شیریں، ہر نشیب و فراز کا مقابلہ کرتے ہوئے میرے اس گھر کو سنوارتی رہی سجاتی رہی اوردو سال بعد جب میں سعودی سے واپس آیا تو واقعی میرا گھر پیارومحبت کا گہوارہ تھا۔ ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں تھیں سوائے اس ناداں چھوٹی بہن کے جس نے یہ کہہ دیا کہ جب سے شادی ہوئی بھیا بدل گیا پہلے جیسا نہیں رہا۔ اب تو اس کے لئے نازیہ بھابھی ہی سب کچھ ہیں۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا نہیں فائزہ تمہارا بھیا بدلہ نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ ذمہ دار، پہلے سے زیادہ حق شناس اورپہلے سے زیادہ اس گھر سے پیار کرنے لگا ہے اور اسی ذمہ داری اور محبت کی دین ہے کہ آج یہ گھر جنت بن گیا ورنہ اماں ابا نے جس بے جوڑ رشتے کو پسند کیا تھا اگر میں بھی اسی شان و شوکت اور بڑکپن کے پیچھے بھاگتا تو آج میں اس گھر کا بیٹا نہیں مہمان ہوتا - نازیہ قابل تعریف اور قابل ستائش ہے دعاء کرو کہ اللہ سب کو نازیہ جیسی بیوی اور بہو دے ۔۔ بھائی اپ نے تو دل پہ لے لیا میں تو مذاق کر رہی تھی میری بھابھی تو لاکھوں میں ایک ہیں میرے اس گھر کی شان ہیں اس گھر کی رونق انھیں کے دم سے ہے ہم نے ان سے جینے کا ہنر سیکھا ہے اللہ آپ دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے ۔ اللہ بیٹیوں کا گھر آباد رکھے بہنوں کو خوش رکھے ، خوشیاں حسن سلوک اور محبت سے آتی ہیں دولت سے نہیں ۔

2 لائك

2 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

3 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2018.