؞   پچھتاوا
۸ دسمبر/۲۰۱۷ کو پوسٹ کیا گیا

صبح سویرے فون کی گھنٹی بجی،فون طاہر چچا کا تھا
"نوید بیٹا کہاں ہو؟ ممبئی چلنا ہے تمہارا بچپن کا دوست عارف جدہ سے آرہا ہے، اسے ایر پورٹ سے لینا ہے، عارف نے خود ہی کہا ہے کہ نوید کی ہی گاڑی لے کر آئیے،،
عام حالات میں تو میرے لیے یہ بڑی خوشی کی بات ہوتی، ہم گاڑی مالکان سب سے زیادہ ممبئی ایر پورٹ سے ہی سواریوں کو لانے کی خواہش رکھتے ہیں، ایک تو داپولی سے ممبئی تک کا چار سے پانچ ہزار کرایہ دوسرے ہای وے پر گاڑی چلانے اور ممبئی کی سیر و تفریح کا لطف.پھر باہر سے آنے والے کرایا بھی زیادہ دیتے ساتھ میں تحفہ تحائف بھی.
طاہر چچا کے علاوہ کوئی اور ہوتا تو میں جلدی سے ہاں کر دیتا مگر معاملہ تھا طاہر چچا کا، میں نے جلدی سے کہا چچا آدھے گھنٹے بعد بتاتا ہوں دو تین کرایہ اور ہے، میں اپنے ساتھیوں سے بات کرکے آپ کو بتاتا ہوں.دراصل میں طاہر چچا کو جتانا چاہتا تھا کہ میرا کاروبار بہت اچھا ہے اور میں بہت مشغول آدمی ہوں. حالانکہ اس وقت تک میرے پاس کوئی کرایا نہیں تھا.
میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں، ممبئ سے لانا تھا عارف کو جو بیس بائیس سال پہلے ہائی اسکول میں میرا کلاس فیلو تھا. عارف وہی لڑکا تھا جسے میں اسکول میں سب سے زیادہ تنگ کرتا تھا، وہ پڑھنے میں بہت سنجیدہ تھا ہمیشہ کتاب سے چمٹا رہتا تھا اس لیے میں نے اس کا نام چمٹو رکھ دیا تھا. ہم دس بارہ لڑکوں کا گروپ ایک ساتھ پرکار ہائی اسکول جاتا تھا، راستے بھر ہم لوگ طرح طرح کی شرارتیں کرتے، گانے گاتے، درختوں پر چڑھتے بندروں کو پتھر مارتے، عارف عام طور سے خاموش رہتا، وہ ہر گز کوئی شرارت نہ کرتا مگر وہ عام طور سے میری شرارتوں کا سب سے زیادہ نشانہ بنتا، اسے ہم لوگ چڑھاتے اور پریشان کرتے، کئی دفعہ تو ہم لوگوں نے اسے اتنا تنگ کیا کہ وہ رونے لگا. ایک دفعہ اس کے ابا طاہر چچا میرے گھر آے اور ابو سے میری شکایت کی، ابو نے رات میں مجھے بہت ڈانٹا اور غصے مین دو تین ہاتھ بھی جڑ دیے.
مجھے عارف پر بہت غصہ تھا، اگلے دن وہ راستے میں ملا تو میں نے اسے خوب برا بھلا کہا، گالیاں دیں، میں نے دو تین اور شریر لڑکوں کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا، ہم لوگوں نے سوچا تھا کہ اگر عارف نے ہماری باتوں کا کوئی جواب دیا تو اچھی طرح اس کی پٹائی کریں گے.
مگر عارف خاموش ہی رہا وہ کچھ نہ بولا مجھے ڈر لگا کہ شائد آج وہ ہیڈ ماسٹر دیشمکھ صاحب سے ہماری شکایت کرے گا. جب اسکول قریب آیا تو میں چیختے ہوے کہا کہ اگر آج اسکول میں کسی سے ہماری شکایت کی تو واپسی میں تمہاری ٹانگیں توڑ دیں گے.
عارف نے میری کوئی شکایت نہیں کی، شام میں وہ دو پیریڈ پہلے ہی گھر چلا گیا تھا، گھر پر بھی مجھے تھوڑا سا ڈر تھا کہ آج شائد عارف کے ابو پھر میرے گھر آئیں اور میری شکایت کریں. مگر کچھ نہیں ہوا عارف نے نہ تو اسکول میں میری شکایت کی اور نہ اس کے ابو پھر کبھی میرے گھر شکایت کرنے آے.
اگلے دن عارف اسکول نہیں آیا البتہ اس کے ابو اور چچا آے تھے، وہ سیدھے ہیڈ ماسٹر صاحب کے آفس ہی گئے، میں اور میرے ساتھی کافی گھبراے کہ آج تو زبردست شکایت ہو گی مگر کچھ دیر بعد چافیکر صاحب آے تو انھوں نے خبر دی تھی کہ عارف کے ابو لیونگ سرٹیفیکیٹ لینے آے تھے وہ یہ اسکول چھوڑ کر کڑوئی سرگروہ ہائی اسکول پڑھنے جا رہا ہے اب وہیں ہاسٹل میں رہے گا.
عارف نے اسکول صرف میری وجہ سے چھوڑا تھا یہ میں بھی جانتا تھا اور میرے شریر ساتھیوں کا ٹولہ بھی، عارف کے جانے کے بعد ہمارے حوصلے اور بھی بڑھے، بچپن کی عمر بھی کیا ناسمجھی کی عمر ہوتی ہے ہم لوگ اپنے آپ کو اسکول کا دادا سمجھنے لگے، آے دن لڑائی جھگڑا، سارے اساتذہ تنگ اور پریشان، کچھ تو ہماری بدمعاشیاں اور کچھ پڑھنے لکھنے سے بے رغبتی نویں جماعت میں ہمارے گروپ کے گیارہ لڑکے فیل ہو گئے، ابو جب رزلٹ لینے پہنچے تو ہیڈ ماسٹر صاحب کہنے لگے
"نوید کی وجہ سے ہمارے اسکول کا پورا ماحول خراب ہو گیا ہے، طلبہ اور اساتذہ سب اس سے تنگ ہیں، آپ کی بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ اسے اگلے سال کسی اور اسکول میں داخل کردیں، یا پھر اسے گھر رکھ کر پڑھائیے ہم اسے امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دیں گے،،
ابو نے بہت درخواست کی مگر ہیڈ ماسٹر صاحب کسی طور مجھے اسکول میں رکھنے کے لیے تیار نہ ہوے. ابو کیا کرتے مجبوراً انھیں ہیڈ ماسٹر صاحب کی بات ماننی پڑی، گھر پر ایک اچھا ٹیوٹر رکھا گیا وہ صبح شام مجھے دو دو گھنٹہ پڑھاتا، ابو دن بھر مجھے اپنے ساتھ دوکان پر رکھتے، سیر وتفریح موج مستی اور ساتھیوں کے ساتھ انجوائے کا سارا لطف ختم ہو گیا تھا.
مگر اب میں کیا کر سکتا تھا، نویں میں مجھے 45 فیصدی نمبرات ملے، دسویں کا امتحان بھی میں نے باہر سے ہی دیا، خدا خدا کرکے 52 فیصدی نمبرات مل گئے اور میں اس لائق ہو گیا کہ پاسپورٹ بنوا کر باہر جاسکوں.
دسویں کے بعد میں نے تین چار سال ابا کے ساتھ دوکان پر گزارے اور پھر ڈرائیونگ سیکھ کر سعودی عرب چلا گیا. تین سفر میں نے کیسے کیا یہ میں ہی جانتا ہوں، کسی طرح کچھ پیسے جمع کیے اور بینک سے لون لے کر یہ کار خرید لی. بڑی مشکل ہے. گھریلو خرچ اتنا زیادہ ہے کہ قسط جمع نہیں ہو پاتی، سود دن بہ دن بڑھتا ہی جا رہا ہے. بچپن کی تھوڑی سی نادانی، شرارت اور کھیل کود نے میرے مستقبل کو ہمیشہ کے لیے اندھیرے کے حوالے کر دیا تھا.
میں خیالات کی وادیوں میں بہت دور چلا گیا تھا، آدھا گھنٹہ کیسے گزرے پتہ ہی نہ چلا، ہوش اس وقت آیا جب طاہر چچا کا فون دوبارہ آیا
"بیٹا کیا ہوا میں تمہارے فون کا انتظار کر رہا ہوں، اگر تم خالی نہ ہو تو میں کسی اور کار والے سے بات کر لوں،،
بے ساختہ میری زبان سے نکلا
" چچا میں ایر پورٹ چلوں گا، بچپن کے دوست کے لیے اتنا تو کرنا ہی پڑے گا میں نے دوسرے گاہکوں سے معذرت کر لی ہے،، میں نے بڑی خوبصورتی سے جھوٹ بول کر اپنی عزت بڑھانے کی ناکام کوشش کی.
راستے بھر طاہر چچا ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے، معلوم نہیں ان کے ذہن میں میری شرارتیں تھیں یا نہیں مگر میرا حال بہت خراب تھا، چچا کہنے لگے
"عارف کڑوئی کے سرگروہ ہائی اسکول اینڈ جونیر کالج سے پڑھنے کے بعد پونہ چلایا، ایک سال بی ایس سی کیا اور نیٹ کوالیفائی کر گیا، ممبئ کے جے جے میڈیکل کالج سے اس نے ایم بی بی ایس اور ایم ڈی کیا، ماشاء اللہ پانچ سال سے جدہ کے ایک اسپتال میں میڈیکل آفیسر ہے. لاکھوں روپے تنخواہ ہے، نوید میرا بیٹا عارف اتنا لائق ہے کہ ہم میاں بیوی کو ایک دفعہ حج اور دو دو بار عمرہ کرواچکا ہے. اللہ کا دیا سب کچھ ہے، اللہ میرے بیٹے کو ہمیشہ شاد و آباد رکھے،،
ایر پورٹ سے باہر آتے ہی عارف اپنے ابو اور امی سے لپٹ گیا اس کے ساتھ اس کی بیوی اور تین بچے بھی تھے، وہ مجھ سے بھی بڑی گرم جوشی سے ملا، راستے میں بھی دیر تک ادھر ادھر کی باتیں کرتا آیا. اس کے لباس، موبائل، گھڑی اور تمام سامانوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ اللہ نے اسے چھپر پھاڑ کر بخشا ہے.
مجھے بار بار اپنی ہائی اسکول لائف یاد آ رہی تھی، میں نے دوسرے ساتھیوں کا تو کوئی بڑا نقصان نہیں کیا تھا، ہاں اپنا زبردست نقصان کیا تھا، اگر میں محنت سے پڑھتا، شرارتوں اور بد معاشیوں سے دور رہتا تو آج میں بھی کسی باعزت مقام پہ رہتا مگر اب ڈرائیوری کے علاوہ اور کیا کر سکتا ہوں، نہ تو اتنا پیسہ کہ کوئی اچھا کاروبار شروع کر سکوں اور نہ تعلیم جس کی بدولت کوئی اچھی سروس حاصل کر سکوں.
ممبئ سے داپولی کا 6 گھنٹے کا سفر کیسے ختم ہوا پتہ ہی نہ چلا، میں عارف کے ساتھ اس کا سامان گھر کے اندر سیٹ کر رہا تھا. چاے ناشتے کے بعد اس نے میری جیب میں مڑے ہوے چند نوٹ زبردستی ڈال دیے تھے حالانکہ میں نہ نہ کر رہا تھا.
گھر جانے کے بعد میں نے نوٹوں کو گنا وہ پورے دس ہزار روپے تھے.
پانچ ہزار تو خیر کرایا ہوتا تھا مگرپانچ ہزار شائد اس نے دوست کو تحفہ دیا تھا، ایک ایسا دوست جس نے پچپن میں اسے اسکول چھوڑ کر والدین سے بہت دور ہاسٹل میں رہنے پر مجبور کر دیا تھا.
گھر بہت دیر تک میں اپنے اور عارف کے بارے میں سوچتا رہا. ایک طرف میری وہ گری حرکتیں تھیں اور دوسری طرف عارف کا یہ بلند کردار
، سچ ہے اللہ تعالی کسی کو ایسے ہی عزت اور مرتبہ نہیں دیتا.
رات سوتے وقت میں نے اپنے بارہ سالہ بیٹے عفان کو بھی یہ سچی کہانی سنائی. مجھے ڈر لگا کہ کہیں عفان بھی باپ کے راستے پر چل کر اپنی زندگی کو مشکل نہ بنا لے. عفان نے کہانی تو بہت دلچسپی سے سنی، خدا کرے وہ اس سے نصیحت بھی حاصل کرے ویسےبچپن کی نادانی کی عمر میں میرے جیسے بچے زیادہ ہوتے ہیں اور عارف جیسے بہت کم.


اخترسلطان اصلاحی

17 لائك

5 پسندیدہ

3 مزہ آگیا

3 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2018.