؞   چڑیل
۲۱ نومبر/۲۰۱۷ کو پوسٹ کیا گیا

تحریر : اختر سلطان اصلاحی ٭ (حوصلہ نیوز)
اس بار گاؤں گیا تو زلفی نے مروارید چچا کے بارے میں ایک عجیب و غریب خبر سنائی، مروارید چچا کی بیوی نصیبن پورے گاؤں میں مشہور ہو گئی ہے.
تین سال میں اس نے اپنے تین بیٹوں کی شادیاں کیں اور پھر تینوں بیٹوں سے بیویوں کو طلاق دلوائی، بہوؤں میں بظاہر کوئی بڑا عیب نہ تھا، اس کے بیٹے اپنی ماں کے بڑے مطیع اور فرمانبردار ہیں، ماں جو بھی حکم دیتی ہے بیٹے تعمیل کرتے ہیں.
مسجد کے باہر ہر دن عشاء کے بعد لوگ تھوڑی دیر رکے رہتے اور دنیا جہان کی باتیں کرتے. گاؤں میں ہر طرح کی خبروں سے واقفیت کا یہ بہترین ذریعہ تھا.وہاں بھی کئی بار مروارید چچا ور ان کی بیوی کا ذکر آیا مگر کچھ احتیاط سے مروارید چچا یا ان کے گھر کا بھی کوئی فرد نمازیوں میں شامل رہتا تھا.
شام میں کھانے کے بعد اماں سے مروارید چچا کی خیریت دریافت کی تو وہ جیسے بھری بیٹھی تھیں کہنے لگیں :
" اس مردار مروارید کا نام بھی نہ لو وہ تو جورو کا غلام ہے، اس کی جورو پورے گاؤں سے جھگڑا لڑائی کرتی ہے مگر اس کی پیشانی پہ بل بھی نہیں پڑتا، اس کی ہمت نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی کو ایک لفظ بھی کہے، تین سال میں وہ نگوڑی اپنی تین بہوؤں کو طلاق دلا چکی ہے، ارے اس کی بات کیا کروں وہ تو چڑیل ہے چڑیل، اب اس کے گھر کوئی شریف آدمی رشتہ بھی نہیں کرے گا، اس کی کرتوتوں کی وجہ سے تو پورا گاؤں بدنام ہو گیا ہے''
اماں نے تو مروارید چچا اور ان کی بیوی کے بارے میں اور بھی نہ جانے کیا کیا باتیں بیان کیں مگر مجھے تو صرف ان کے بیٹوں کی شادیوں اور طلاق کے بارے میں دلچسپی تھی، گاؤں میں ویسے بھی طلاق وغیرہ کے واقعات بہت کم ہوتے ہیں اگر ایک بھی طلاق ہو جاے تو پورے گاؤں ہی نہیں پورے علاقے میں ہنگامہ ہو جاتا تھا اور یہاں تو نصیبن کے گھر میں تین تین واقعات پیش آ چکے تھے.
صبح میں پھر میں نے اماں کو چھیڑا.
اماں یہ مروارید چچا کے تینوں بیٹوں نے کیسے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی، کیا ان کی بیویاں اچھی نہیں تھیں؟؛؛
"بیٹا تم کو کیا بتاؤں، مروارید کی بیوی نصیبن پورے گھر کی مالک ہے، مروارید تو شروع سے اس کا بندہ بے دام تھا، اس کے اشارے کے بغیر ہلتا بھی نہیں تھا،اور ہلتا بھی کیسے سدا کا نکما اور کام چور تھا، دو چار سال ادھر ادھر کام کیا اور پھر گھر آکر پلنگ توڑنے لگا، نصیبن ادھر ادھر سے مانگ جانچ کر لاتی اور گھر کا خرچ چلاتی، بچوں کی پرورش اور تعلیم وتربیت بھی نصیبن نے ہی کی ہے، بچے ماں کو بہت مانتے ہیں. بڑے لڑکے مفید کی شادی ہوئی تو نصیبن کو بہو پسند نہ آئی، صرف اس لیے کہ دلہن کا رنگ کچھ سانولا تھا، نصیبن پہلے دن سے ہی بیٹے کا کان بھرنے لگی، بات بات میں بہو کی شکایت، اس کے اوپر جھوٹے الزامات، وہ بے چاری بے زبان کچھ بولتی بھی نہیں تھی. وہ نصیبن کے ڈر سے بالکل خاموش رہنے لگی، نصیبن نے کچھ دنوں کے بعد گھر اور محلے میں ہر ایک سے کہنا شروع کیا کہ بہو عقل کی کمزور ہے، ناسمجھ ہے،دیکھو کیسے ٹکر ٹکر دیکھتی ہے.کچھ بولتی بھی نہیں ہے،،
بیٹے نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح معاملہ سدھرے اور گزر بسر ہو جاے مگر نصیبن نے ایک دن بھی بہو کو چین سے نہ رہنے دیا، اچھی خاصی صحت مند لڑکی دو تین ماہ ہی میں سوکھ کر کانٹا ہو گئی،ماں کے دباؤ کی وجہ سے مجبوراً مفید نے ایک دن بیوی کو طلاق دے ہی دی،،
کچھ دن بعد اس نے دوسرے لڑکے شھید کا نکاح اپنے ایک رشتے میں کیا، اس رشتے میں پہلے نصیبن کا آے دن آنا جانا ہوتا تھا، ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب نصیبن بہت غریب تھی یہ لوگ نصیبن کی ہر طرح سے مدد کرتے، عید اور دوسرے تیوہاروں میں اس کے پورے گھر کے کپڑے بنواتے، دوا علاج کے لیے پیسے دیتے،غلہ اور اناج دیتے.
مگر اب تو ماشاء اللہ نصیبن کے دن بدل چکے تھے اس کے تین تین لڑکے بیرون ملک کمانے لگے تھے، نصیبن جب وہاں اپنے بیٹے کے رشتے کے لیے گئ تو وہ لوگ تھوڑا سوچ و فکر میں پڑ گئے، نصیبن کا ماضی ان کے سامنے تھا، ایک غریب لاچار جو چند سال پہلے ان کی امداد پر پلتا تھا اب اس کے یہاں رشتہ کیسے کریں، مگر پھر انھوں نے سوچا امیری اور غریبی تو اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، نصیبن تو اپنے خاندان کی بیٹی ہے اگر ہم نصیبن کے یہاں بیٹی بیاہ دیں تو بیٹی کا گزر بسر اچھا ہوگا، نصیبن تو ہمارے احسانات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے وہ بہو کے ساتھ ضرور اچھا برتاؤ کرے گی.
مگر نصیبن نے تو شادی جہیز کے لالچ میں کی تھی، لڑکی والوں نے اپنی حیثیت کے مطابق اچھا خاصا جہیز دیا تھا، مگر نصیبن نے چند روز کے بعد ہی لڑکی کو جہیز کے لیے تنگ کرنا شروع کر دیا اسے مفلس اور فقیر ہونے کا طعنہ دیا اور ایک روز تو اس نے حد ہی کر دی بہو کا ہاتھ پکڑا اسے گھر سے باہر نکالا اور کہنے لگی اس وقت تک گھر میں دوبارہ واپس نہ آنا جب تک تمہارے گھر والے داماد کو کار اور مجھے دو لاکھ روپے نقد نہیں دیتے.
بہو روتی پیٹتی اپنے گھر گئی، جس نے نصیبن کی اس کریہہ حرکت کے بارے میں سنا تھو تھو کرنے لگا، مگر نصیبن پر کوئی اثر نہیں، لڑکی والے چند روز کے بعد آے اور جہیز دینے کے بجاے طلاق لے کر واپس گئے،،
اماں نے ایک گلاس پانی پیا، گلا کھنکھار کر صاف کیا اور پھر گویا ہوئیں.
"بیٹا کیا بتاؤں لڑکیاں بہت مجبور ہوتی ہیں، بے چارے لڑکی کے گھر والے رشتے کے لیے پریشان رہتے ہیں، دو دو واقعات کے بعد تو اب مروارید کے گھر کسی کو رشتہ نہیں کرنا چاہیے تھا مگر چھ ماہ پہلے نصیبن اپنے تیسرے بیٹے کریم کا رشتہ کرنے میں بھی کامیاب ہو گئی، یہ رشتہ اس نے بہت دور کی ایک بستی میں کیا تھا، لڑکی والوں کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ پورے گاؤں والے میرے دشمن ہیں، میرے لڑکوں کا رشتہ ہونے نہیں دیتے اس لیے کسی کو خبر نہیں ہونی چاہیے.
مروارید اپنے بیٹے، سالے اور ایک دو بہت قریبی رشتے داروں کو لے کر بارات گئے اور شام میں بہو لے کر آ گئے ، گاؤں والوں کو اس نکاح کی خبر اس وقت ملی جب دلہن دروازے پر آگئی.
چند روز تو خیریت سے گزرے اور پھر معلوم ہوا کہ کریم اچانک سعودی عرب چلا گیا ہے اور وہاں سے اس نے اپنی بیوی کو طلاق بھیج دی ہے، نصیبن نے اس بہو کے پورے جہیز پر بھی قبضہ کر لیا ہے، اس کی لائی ہوئی موٹر سائیکل اس نے ستر ہزار میں بیچ دی، سنا ہے کہ اس کو بھیجتے ہوے اس کے تمام زیورات بھی اتروا لیے، اب اگر کوئی کچھ پوچھتا ہے تو نصیبن کہتی ہے کہ لڑکی والوں نے مجھے پھنسا دیا، یہ لڑکی تو بچپن ہی سے مریض تھی،دبلی پتلی، بدن پر گوشت تو تھا ہی نہیں، کیا میں اپنے پھول جیسے بیٹے کی زندگی تباہ کرتی. میں اپنے بیٹے کا دوسرا بیاہ رچاوں گی اور اس کے لیے چاند جیسی بہو لاؤں گی.
اس بار ایک بات الگ انداز کی ہوئی چھوٹی بہو کے گھر والے نصیبن کی دوسری دونوں بہوؤں کی طرح خاموش نہیں رہے انھوں نے نصیبن اس کے شوہر، تینوں بیٹوں اور دو بیٹیوں پر مقدمات قائم کر دیے ہیں، کئی روز پولیس آ چکی ہے ہو سکتا ہے چند روز میں مروارید کا پورا خاندان جیل جاے،،
اماں نے تینوں واقعات بیان کرتے ہوے کئی بار نصیبن کو ڈائن اور چڑیل کہا، میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ ڈائن اور چڑیل تو خیالی دنیا کے کردار ہیں جن کی حقیقت کا کسی کو پتہ نہیں ہے مگر نصیبن جیسوں کی شکل میں تو نہ جانے کتنی ڈائنیں اور چڑیلیں ہمارے سماج میں موجود ہیں.جو لاکھوں معصوم بیٹیوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کرتی ہیں.
گاؤں میں میرا قیام تقریباً ایک ماہ رہا، آے دن کوئی نہ کوئی مروارید چچا اور اس کی بیوی نصیبن کا ذکر چھیڑ دیتا.
ہر ایک کی زبان پر مروارید، نصیبن، اس کے بیٹوں اور بہوؤں کی ایک الگ داستان ہوتی، ہر آدمی مروارید اور اس کی بیوی کی برائی بیان کرتا.
بیسویں صدی میں اس طرح کے واقعات حیرت زدہ کر دیتے ہیں، مگر گاؤں میں اب بھی اس طرح کے واقعات اور وہ بھی مسلم گھرانوں میں بہت افسوس ناک ہیں.
گاؤں میں سماجی اعتبار سے جب تک کوئی اجتماعی ادارہ قائم نہیں کیا جاتا عدل و انصاف کا قیام ممکن نہیں ہوگا.نصیبن جیسے کردار مستقل پیدا ہوتے رہیں گے نہ جانے کتنی بہوئیں اور بیٹیاں ان کی ہوس اور لالچ کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی.پورے سماج کو اس طرح کے کرداروں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے. ورنہ نصیبن اور مروارید جیسے لوگ مستقل پیدا ہوتے رہیں گے۔

٭ سرپرست انجمن اساتذہ کوکن


1 لائك

1 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ


 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2018.