؞   وہ پہلا کش
۶ نومبر/۲۰۱۷ کو پوسٹ کیا گیا

تحرير:اخترسلطان اصلاحی (حوصلہ نیوز)
تین سال کے بعد میں سعودی عرب سے واپس آیا تھا، رات میں کھانے کے بعد اماں گاؤں، خاندان اور رشتے داریوں کی باتیں اور خبریں سنا رہی تھیں، اماں جان نے نانی، خالہ، خالہ زاد بہنیں اور تمام رشتے داروں کی ہر قابل ذکر بات بتا دی تھی. چار ماہ کے ہر سفر میں اماں کا یہ روز کا معمول ہوتا ہے، میں بھی جب تک اماں سے دنیا جہان کی خبریں نہ سن لوں سکون نہیں پاتا.
آج اچانک اماں نے پوچھا
"بیٹا التمش سے ملے وہ تین ماہ سے شدید بیمار ہے، شائد اسے کینسر ہے ڈاکٹروں نے نا امیدی ظاہر کی ہے،،
اماں کی بات سن کر جیسے مجھے ایک عجیب طرح کا شاک سا لگا، التمش سے میری آخری ملاقات آج سے پندرہ سال پہلے ہوئی تھی، میں جب بھی سعودی عرب سے وطن آتا اس کے گھر ضرور جاتا، اس کی امی سے ملاقات کرتا، وہ میرا بہت ہی قریبی دوست تھا، جماعت پنجم سے دہم تک تو ہم دونوں ہم جماعت تھے مگر گیارہویں کے لیے میں پونہ چلا گیا تھا اور اس نے رتناگیری سے ہی کالج کی تعلیم حاصل کی. بعد میں اس نے الیکٹرانکس میں ڈپلومہ کر کے بحرین کی ایک کمپنی میں ملازمت کر لی تھی. اتفاق ایسا کہ جب بھی میں وطن آتا وہ بحرین میں ہوتا، اس بار وہ گھر پر موجود تھا مگر اس خطرناک بیماری کے ساتھ.
امی کہنے لگیں چند روز پہلے میں اسے دیکھنی گئ تھی وہ بہت دبلا ہو گیا ہے، بالکل ہڈیوں کا ڈھانچہ، تم تو اسے شائد پہچان بھی نہ سکو. امی تو نہ جانے اور کیا کیا کہتی رہیں مگر میں تو دور بہت دور ماضی کی وادیوں میں کھو گیا.
التمش ہمارے ہائی اسکول کا بہت ہی ہونہار بچہ تھا، پڑھائی میں تو درمیانہ مگر کھیل کود میں سب سے آگے، اللہ نے اسے ایک بہت ہی توانا اور پھرتیلے جسم سے نوازا تھا، وہ کھیلوں کے تمام مقابلوں کرکٹ، کھو کھو، کبڈی، فٹبال اورریسننگ میں پیش پیش رہتا، عام طور سے وہ اپنی ٹیم کا کیپٹن ہوتا. اسکول میں جب بھی تقسیم انعامات کا پروگرام ہوتا ڈھیروں ٹرافیاں ، میڈل اور سرٹیفیکیٹ التمش کے نام ہوتے. وہ مزاج کا بھی بہت اچھا تھا، اپنے استادوں کی عزت اور ساتھیوں کے ساتھ میل محبت رکھتا. تمام ساتھی اور استاذ اس سے خوش رہتے، میں بھی کبھی کبھار فون سے اس کی خیریت لے لیتا تھا مگر آج اماں سے یہ دردناک خبر سن کر بہت افسوس ہوا.
رات بہت دیر تک میں التمش ہی کے بارے میں سوچتا رہا، کسی طرح رات گزری صبح فجر کے بعد میں التمش کے گھر پہنچ گیا، اس کی امی نے میرا استقبال کیا، غم اور دکھ ان کے چہرے سے ہی نمایاں تھا، دیکھنے ہی کہنے لگیں کل میں نے التمش کو تمہارے سعودی سے آنے کی خبر دی بہت خوش تھا کہنے لگا پورے بیس سال بعد دوست سے ملاقات ہو گی.
بیٹا ابھی وہ تھوڑی دیر پہلے ہی سویا ہے، زیادہ دیر سو نہیں پاتا، تکلیف کی وجہ سے اس کی بار بار نیند کھل جاتی ہے، بیٹا علاج و معالجہ میں کوئی کمی نہیں کی گئی مگر کینسر پھیپھڑے میں ہے، ڈاکٹر کہتے ہیں کہ کینسر کی وجہ سے پھیپھڑے بالکل ختم ہو گئے ہیں، بیٹا تمہارا دوست بس چند دن کا مہمان ہے.
التمش کی والدہ اس کے بعد کچھ اور نہ کہہ سکیں، آنسوؤں اور سسکیوں کے طوفان میں انھیں بولنے کا یارا نہ تھا. خود میں بھی کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں تھا.
تھوڑی دیر بعد ہی التمش کا چھوٹا لڑکا آیا اس نے خبر دی کہ ابو جاگ گئے ہیں اور آپ کو اندر بلا رہے ہیں.
بھاری طبیعت سے میں گھر کے اندر داخل ہوا، اب واقعی التمش کے اندر کچھ باقی نہیں بچا تھا،اس کا جسم ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا تھا. کینسر کی موذی بیماری نے اس کے جسم کو پوری طرح چاٹ لیا تھا، وہ مشکل سے تکیے کے سہارے بیٹھا تھا مجھے دیکھتے ہی اس کے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا.
میں نے بڑی مشکل سے اسے تسلی دی خود میں بھی بے قابو ہورہا تھا، جذبات پر بڑی مشکل سے قابو ملا، وہ خود اپنی حالت سے اچھی طرح واقف تھا. کہنے لگا عزیز دوست چار سال پہلے اچانک کھانسی شروع ہوئی، ڈاکٹروں نے کھانسی کا علاج شروع کیا، کئی ماہ کے بعد پتہ چلا کہ پھیپھڑے میں کینسر ہے، بدقسمتی کہ جب پتہ چلا مرض تیسرے اسٹیج میں داخل ہو چکا تھا، کیموتھراپی ہوئی، لاکھوں روپے کے انجکشن لگے، وقتی طور سے کچھ فائدہ ضرور ہوا مگر
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
پیارے دوست اب تو کوئی دوا بھی نہیں ہے بس درد کش دوائیں ہیں جن سے ایک ایک دن گزر رہا ہے. پیارے دوست میرے لیے دعا کرو. میں تو بس چند دن کا مہمان ہوں، اچھا ہوا تم سے ملاقات ہوگئی، اس نے اپنا سر میرے ہاتھ پر رکھا اور بیہوش ہوگیا.
گھر کے لوگوں نے بتایا کہ وہ کئ دن سے اسی طرح رہ رہ کر بیہوش ہو جاتا ہے.
زندگی موت، صحت بیماری،راحت اور دکھ سب اللہ ہی کی جانب سے ہوتا ہے، اللہ جو بھی دے بندے کو اسے اللہ کی مرضی سمجھ کر قبول کرنا چاہیے ایک سچے مومن کا رویہ یہی ہوتا ہے.
لیکن بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جنھیں اللہ کی مرضی کہہ کر ٹالا نہیں جاسکتا، انسان کے اچھے برے میں کبھی کبھی خود انسان کا کردار بھی بہت اہم ہوتا ہے.
باتوں باتوں میں التمش کی امی کہنے لگیں.
بیٹا التمش بچپن ہی سے سگریٹ کا عادی تھا، ہم لوگ بہت سمجھاتے مگر وہ سگریٹ پینے سے باز نہیں آیا، اللہ کی شائد یہی مرضی تھی وہ سگریٹ پیتا رہا یہاں تک کہ سگریٹ اس کی صحت کو کھا گیا. دو سال پہلے ڈاکٹر نے جب بہت سختی سے منع کیا تو اس نے بڑی مشکل سے سگریٹ چھوڑا مگر اب کوئی فائدہ نہیں تھا، سگریٹ اس کی صحت کو پورے طور پر تباہ کر چکا تھا،،
التمش کی امی خاموش ہو گئیں، ایک فرمانبردار لائق فرمانبردار بیٹے کی پل پل نزدیک ہوتی موت ان کے لیے سوہان روح بنی ہوئی تھی. وہ خاموش تھیں مگر میرا ذہن پچیس، تیس سال پہلے کے ماضی میں چلا گیا تھا.
جماعت ہفتم میں میرا داخلہ سرگروہ ہائی اسکول میں ہوا، اس سے پہلے میں ششم تک ضلع پریشد اردو اسکول میں پڑھتا تھا وہ اسکول میرے گھر سے بہت قریب تھا جب کہ سرگروہ ہائی اسکول گھر سے دو کیلو میٹر دور تھا.
ہمارے گاؤں سے تقریباً بارہ پندرہ بچے سرگروہ اسکول میں پڑھتے تھے، دس بجے اسکول شروع ہوتا تھا ہم لوگ نو بجے گھر سے نکلتے تھے، عام طور سے میرے ساتھ خالد، زبیر، ناصر اور التمش ہوتے تھے، التمش اس زمانے میں بھی سگریٹ پیتا تھا. اس کے ابو کی کرانہ کی ایک چھوٹی سی دوکان تھی وہ چپکے سے وہاں سے سگریٹ لے لیتا تھا، راستے میں وہ خود تو سگریٹ پیتا ہی تھا دوستوں کو بھی پلانے کی کوشش کرتا. وہ اکثر سگریٹ کے فوائد بتاتے ہوے کہتا یہ میری چستی، پھرتی سب سگریٹ کی دین ہے، سگریٹ سے آدمی کا موڈ فریش رہتا ہے اور جب آدمی چار لوگوں کے بیچ میں لمبے کش لیتا ہے تو وہ لذت اور سرور ملتا ہے کہ کیا بتاؤں، غرض کہ سگریٹ کے حق میں اس کے پاس بے شمار باتیں اور دلائل تھے، کچھ بچے اس کی باتوں میں آکر سگریٹ پینے لگے تھے اس طرح سگریٹ پینے والوں کا ایک چھوٹا سا گروپ بن گیا تھا.
ایک دن میں بھی اس کی باتوں میں آ گیا، سگریٹ کا پہلا کش لیتے ہی مجھے ایک زوردار کھانسی آئی اور میں کچھ پریشان ہوگیا، التمش اور اس کے ساتھیوں نے فورا تسلی دی اور کہنا شروع ایک دو بار ایسا ہوتا ہے پھر بہت اچھا لگنے لگے گا، کئی روز تک ان لوگوں نے مجھ سگریٹ پلانے کی کوشش کی مگر ہر بار زوردار کھانسی مجھے پریشان کر دیتی.
ایک دن زبیر کہنے لگا
'' لگتا ہے عبید کا پھیپھڑا بہت کمزور ہے جو معمولی دھواں بھی برداشت نہیں کر سکتا، ہم لوگوں کو دیکھو ٹرک کے انجن کی طرح دھوئیں اڑاتے ہیں مگر ایک بار بھی کھانسی نہیں آتی،،
سب ساتھی ہنسنے لگے، میں تھوڑا شرمندہ ہوا مگر خاموش رہا، ظاہر ہے دوستوں کو کیا کہتا.
التمش کو ایک بار پھر ہوش آ گیا تھا، اس نے آنکھیں کھول دی تھیں، وہ میرے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا، اس کا چہرہ دنیا جہان کے غم میں ڈوبا ہوا تھا، کہنے لگا.
"عبید تم کو یقین نہیں آے گا، تین مہینے سے بستر پر پڑے پڑے مجھے ماضی کی ساری باتیں یاد آتی ہیں، وہ باتیں بھی جو اس سے پہلی کبھی یاد نہ آئی تھیں، تم کو حیرت ہو گی مجھ کو پرائمری اور ہائی اسکول کے زمانے کی بھی چھوٹی چھوٹی باتیں یاد آ رہی ہیں. اسکول کے زمانے کی شرارتیں میرے دل کو گدگداتی ہیں، ساتھیوں کے ہنسی مذاق اور محفلیں بھی یاد آتی ہیں. اکثر تو میں اپنے کو کھیل کے میدان میں پاتا ہوں.دوستوں کے ساتھ کھیلتا ہوں اور شور مچاتا ہوں.
پیارے دوست اب رہ رہ کر مجھے اپنی کوتاہی سستی اور غلطیوں کی یاد آتی ہے مگر سب سب سے زیادہ افسوس اپنی سگریٹ نوشی پر ہوتا ہے، افسوس اس پہلے کش پر جو جلیب درانی نے مجھے کرکٹ کھیلتے ہوے پلایا اور کہا کبھی کبھی پی لیا کرو اس سے سستی اور کاہلی دور ہوگی اور تم پھرتیلے ہو جاؤ گے، جلیب مجھ سے سینیر تھا اور بہت اچھا کھلاڑی میں اس کی بات ٹال نہ سکا، شروع میں تو کبھی کبھی سگریٹ پیتا تھا مگر دھیرے دھیرے اس کا عادی ہوتا گیا، دینیات کے استاذ رفیع اللہ سر نے، گھر پر ابو اور امی نے بہت سمجھایا، سگریٹ نوشی کے نقصانات بتائے مگر میں نے کوئی توجہ دی، اب اپنے عمل پر افسوس ہوتا ہے.
سگریٹ نوشی کی وجہ سے میں نے اپنی قیمتی دولت بھی برباد کی اور صحت بھی، کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ میں خود اپنا قاتل ہوں، اپنے بچوں کو میں نے یتیم کیا ہے، اپنی بیوی کو میں نے بیوگی کی چادر اڑھائی ہے، اپنی ماں کو میں نے جان بوجھ کر ناقابل برداشت تکلیف دی ہے،.
اللہ مجھے معاف کرے، کاش کہ میں سگریٹ کو منہہ نہ لگایا ہوتا، کاش کہ میں نے اپنے اساتذہ کی باتیں مان لی ہوتیں، کاش میں ابو امی کے مشورے کو نظر انداز نہ کرتا.
افسوس اس پہلے کش پر جو جلیب کے کہنے پر میں نے لیا، مجھ سے بڑھ کر بے وقوف کون ہوگا جو پیسے دے کر اپنی تباہی کا سامان خریدتا رہا. ،،

التمش پر پھر غشی طاری ہو رہی تھی. اس کی امی نے بتایا ہوش میں آنے کے بعد وہ ہر دن اسی طرح کی باتیں کرتا ہے مگر بیٹا اب اس کا کوئی فائدہ ہے، کاش بچے اپنے بڑوں کی باتوں اور نصیحتوں پر توجہ دیتے.
تین روز کے بعد ہی التمش موت سے جنگ ہار گیا، میں اس کے جنازے میں شریک تھا. اس کی ماں،بیوی بیٹی، بیٹے اور دوسرے رشتے داروں کا غم سے برا حال تھا، آج بھی مجھے التمش کے آخری کلمات بار بار یاد آتے ہیں، کاش ہمارے بچے بیڑی، سگریٹ، گٹکھا اور دوسری نشہ آور چیزوں سے دور رہتے، اپنے ہاتھوں اپنی صحت کو برباد نہ کرتے، بعد میں افسوس اور پچھتاوا بہت ہوتا ہے مگر اس سے کیا ملنے والا ہے؟




2 لائك

2 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

5 افسوس

0 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2017.