؞   جامعہ ملیہ اسلامیہ میں دارالمصنفین پر پروگرام
۲۵ اکتوبر/۲۰۱۷ کو پوسٹ کیا گیا
دہلی ؍ اعظم گڑھ (ابوالفیض ؍حوصلہ نیوز) ملک کی مشہور یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں’’ دارالمصنفین ،معارف اور غالب ‘‘ کے عنوان سےایک پروگرام کا انعقاد۲۵ اکتوبر بروز بدھ کوہوا ۔اس پروگرام کی صدارت کررہے ڈین فیکلٹی آف ہیومنٹیز اینڈ لینگویجزپر فیسر وہاج الدین علوی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ شبلی نے ۱۸۹۵ میں معارف کو سب سے پہلے علی گڑ ھ سے نکالنا شروع کیا ۔اس کے بعد یہ رسالہ لاہور پہنچا آخر میں اعظم گڑھ سے نکلنا شروع ہوا جو اب تک مسلسل شائع ہورہا ہے ۔انہوں مزید کہا کہ جس وقت یہ رسالہ نکلتا تھا اس وقت ملک بہت مشہور مشہور رسالے نکلتے تھے مگر ان سب کے بادجو د معارف کی ایک خاص اہمیت تھی ۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ واحد رسالہ تھا جس میں مذہب ،ادب تاریخ ،تنقید اور سیاست ان تمام عنوان پر ایک ساتھ مضامین شائع ہوتے تھے ۔
اس پروگرام کے خصوصی مقررپروفیسر خالد محمود سابق صدر شعبہ اردو جنہوں نے ’’ دارالمصنفین ،معارف اور غالب ‘‘ کے عنوان سے تقریر کی انہوں معارف کے تعلق سے کہا کہ ہندوستان میں کوئی بھی رسالہ نہیں ہے جس نے معارف کی طرح اپنے سوسال مکمل کئے ہوں ۔انہوں نے مزید کہا کہ رسالہ معارف میں ۳۰ سے ۳۵ مضامین ایسے ہیں جن میں غالب کے تعلق سے نئے نئے انکشافات ہوئے ہیں اور یہ چیزیں معارف کے علاوہ کہیں نہیں ملتی ۔دارامصنفین کے تعلق سے کہا کہ یہ ایسا ادارہ ہے جس نے بغیر کسی بڑےتعاون کے اردو ادب کی خدمت کی ہے جسے بھلایا نہیں جاسکتا ۔یہاں سے ۲سو سے زائد کتابیں شایع ہوئی ہیں جو اپنے موضوع ،مواد اور افادیت کی وجہ سے کافی اہم ہیں ۔ انہوں علامہ اقبال کے جملے ’’ جب تک دارالمصنفین کی تصانیف باقی ہیں تب تک اسلام باقی ہے ‘‘ کو دہراتے ہوئے کہا کہ واقعی اقبال نے یہ جملہ غلط نہیں کہا تھا مجھے اس وقت اندازہ ہوا جب میں نے دارالمصنفین کو قریب سے دیکھا ۔
دارالمصنفین اور وہاں سے نکلنے والے رسالےمعارف کے سو سال مکمل ہوچکے ہیں ۔اسی مناسبت سے گزشتہ سال ہندوستان کےعلاوہ دوسرے ممالک میں بھی دارلمصنفین کے سو سال مکمل ہونے پر تقاریب بھی ہوئی تھیں ،جس میں ملک اور بیرون ملک کے اسکالروں نے شبلی ،دارالمصنفین اور رسالہ معارف پر مقالات بھی پڑھے تھے ۔
واضح رہے کہ یہ پروگرام شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلا میہ کی طرف سے منعقد کیا گیا تھا ۔

2 لائك

6 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2017.