؞   گر لوگ سلجھے ھوں تو الجھے مسائل بھی آسانی سے حل ھوجاتے ھیں.........
۴ اکتوبر/۲۰۱۷ کو پوسٹ کیا گیا
تحریر : مولانا طاہر مدنی ، ناظم جامعۃ الفلاح بلریا گنج
ازدواجی زندگی اگرچہ دوام کی متقاضی ھے، لیکن اگر نباہ مشکل ھوجائے اور عائلی زندگی کا سکون درہم برہم ھوجائے تو شریعت نے اس کو خوب صورتی کے ساتھ ختم کرنے کا راستہ بھی کھلا رکھا ھے، کیونکہ گھر محبت اور باھمی اعتماد کی فضا ھی میں پرسکون طریقے سے چل سکتا ھے. مرد اگر مطمئن نھیں ھے تو اسے طلاق دینے کا حق ھے اور عورت اگر رشتہ باقی نھیں رکھنا چاہتی تو اسے خلع لینے کا اختیار ھے۔
عام طور سے یہ دیکھنے میں آتا ھے کہ مرد تو اپنا حق طلاق بآسانی استعمال کرکے رشتہ ختم کر دیتا ھے لیکن اگر عورت خلع کی خواستگار ھو تو اسے بھت پاپڑ بیلنا پڑتا ھے اور بسا اوقات اسے معلق بنا کر چھوڑ دیا جاتا ھے، جبکہ یہ صریح زیادتی اور صنف نازک کے ساتھ جور و ستم ھے، اگر بااختیار قاضی ھو تو ایسے شوھروں کی تعزیر کا مناسب بندوبست کرے، خاص طور سے مسلم اقلیتوں کو اس طرح کے معاملات میں بھت دقتوں کا سامنا ھے۔
چند روز قبل میرے پاس خلع کا ایک معاملہ آیا، لڑکی رشتہ باقی نھیں رکھنا چاہتی تھی اور اس نے خلع کی درخواست دی. لڑکا شروع میں آنا کانی کر رھا تھا لیکن گھر کے لوگ تعلیم یافتہ، مہذب اور بھت سلجھے ھوئے تھے، انھوں نے لڑکے کو سمجھایا اور سرزنش بھی کی کہ جب تمھاری بیوی نھیں رھنا چاہتی ھے تو اس کے ساتھ زبردستی نہیں کی جا سکتی، چنانچہ وہ بھی تیار ھوگیا اور خلع نامہ تیار ھوا اور تمام معاملات طے ھوگئے، بدل خلع کے طور پر مھر کی واپسی اور عدت کے خرچ سے دست برداری طے کی گئی۔
جب لوگ سلجھے ھوئے نھیں ھوتے ھیں تو بڑی دشواری ھوتی ھے، میرے علم میں کئی ایسے معاملات ھیں، جن میں لڑکیاں خلع چاہتی ھیں اور انھیں معلق بنا کر چھوڑ دیا گیا ھے. دار القضاء کے لوگ بھی کوئی موثر رول نھیں ادا کر پارھے ھیں، ایسی پریشان حال خواتین جب عدالتی چارہ جوئی کرتی ھیں تو عدالتوں کو ھمارے عائلی قوانین میں دخل دینے کا موقع مل جاتا ہے، اس لیے آج اصلاح معاشرہ اور شریعت کے تعلق سے بیداری پیدا کرنے کی شدید ضرورت ھے۔


6 لائك

1 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2017.