؞    جب مدرسہ کی چھٹی ہوئ۔۔۔۔۔
۲۵ ستمبر/۲۰۱۷ کو پوسٹ کیا گیا
(محمد صابر (متعلم مدرسۃ الاصلاح
آج بادل پہ چھائی گھنگھور گھٹا کو دیکھتے ہوئے سلطان ( گیٹ کیپر ) نے عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دس منٹ پہلے ہی گھنٹہ بجا دیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گھنٹہ لگتے ہی سارے بچے حیرت بھری خوشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیزی سے باہر نکلے کہ اس گھنگھور گھٹا کا مزہ لیں،اور اسکی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہوں۔
بچوں کے ساتھ ان کی خوشی میں شریک ہوتے ہوئے میں بھی انکے ساتھ باہر کھڑی اپنی اس محبوبہ کے پاس گیا کہ جو میري خاطر سردی گرمی، میرے راستے میں حائل سارے نشیب و فراز کو جھیلتی ہے۔ مجھے اپنے شانے پہ بٹھا کے کبھی اس گلی تو کبھی اس گلی ڈھنکتی پھرتی ہے۔
میں نے اس کی پست کو سہلایا تاکہ اس پر لگے بارش کے قطرے صاف ہوجائیں۔ سوار ہوتے ہی تیزی سے پینڈل مارنے لگا کہ بارش ہونے سے پہلے پہلے گھر پہنچ جاؤں۔ ابھی چند ہی پہیا چلے تھے کہ بارش زوردار جھوکے کے ساتھ تیزی سے آپہنچی، اور کرتے کا اوپری حصہ بھیگا دیا۔
بڑھتی بارش کو دیکھتے ہوئے بلآخر مجھے الٹے پاؤں درسگاہ میں بھاگنا پڑا، دیکھتے دیکھتے دروازے پر بچوں کا پورا جمگھٹا لگ گیا، کسی طرح بچ بچا کے اندر گھسا تو درجہ سوم میں بیٹھے استاد محترم مولانا عرفان صاحب ندوی نے اشارہ کیا کہ آؤ بیٹھو۔
میں بیٹھ تو گیا مولانا کے پاس، لیکن دل لگا ہوا تھا بارش کے ان رم جھم قطروں پر جو تیزی سے روشندان کے راستے موٹی موٹی بوندوں کے ساتھ دعوتِ نظارہ دیتے ہوئے کلاس کو گیلا کر رہے تھے۔
تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد میں وہاں سے یہ کہہ کر اٹھا کہ "مولانا میں تو نہاتے ہوئے ہی جاؤنگا، کیونکہ اب مجھ سے رکا نہیں جاتا، اتنی اچھی بارش پتہ نہیں پھر کب ہوگی ؟؟؟"۔
یہ کہتے ہوئے جب کلاس سے باہر نکلا تو ان لڑکوں کو دیکھ کر رک گیا جو بارش کے تھمنے کا انتظار کر رہے تھے۔
ان کو دیکھ کر میں تو رک گیا لیکن اندر اندر بہت تکلیف ہو رہی تھی کہ اگر میں انکی طرح بچہ ہوتا تو نہاتے کھیلتے چلا جاتا۔ جیسے پہلے جایا کرتا تھا۔ اور ابھی کچھ بچے گئے بھی ہیں نہاتے نہاتے۔ لیکن میری یہ خواہش دھیرے دھیرے میری نظروں کے سامنے چشمے سے آگے دم توڑتی نظر آ رہی تھی۔
بارش کے کم ہونے کے ساتھ ساتھ میری کھجلاہٹ بڑھ رہی تھی، بلآخر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بغیر کسی پرواہ کے ہلکی ہورہی بارش میں نکل گیا تاکہ کچھ ہی مزہ ہاتھ لگ جائے۔
مجھے دیکھ کر میرے پیچھے چار پانچ لڑکے بھی چلنے کے لیے تیار ہوگئے
میں آگے آگے چل رہا تھا کہ اچانک روز سے " خچیییییکککککک" کی آواز آئی۔ پیچھے مڑکر دیکھا تو ایک لڑکا مزید دو لڑکوں کے ساتھ زمین پر گرا مسکرا رہا تھا، ایک لڑکا جلدی جلدی کپڑے پر لگے کیچڑ کو صاف کر رہا تھا، تو دوسرا لڑکا بائک کو دوبارہ کھڑا کرنے میں جٹا ہوا تھا۔
ان کے گرنے پر درسگاہ کے گیٹ پر کھڑے بچوں کی ہنسی نکل گئی، اور تو اور میں نے دیکھا یہ گرنے والے بھی زوروں کا قہقہہ لگا رہے تھے۔
خیر میں نے انہیں اٹھایا اور زمین پر لگی کائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان ننھے پودوں کو کبھی کمزور مت سمجھنا، انہوں نے کئی ماڑی پوش کی ماڑی کو بھی ملیامیٹ کر دیا ہے۔
میں نے یہ جملہ اپنے آپ کو سامنے رکھتے ہوئے کہا تھا کیوں کہ گذشتہ سے پیوستہ ہفتے جب میں مدرسہ سے واپس گھر جارہا تھا تو راستے میں ایک گڈھا ملا۔ میں نے سوچا کہ پتہ نہیں گڈھا کتنا گہرا ہے اسلئے کھڑنجے کے کنارے سے جانے لگا۔
ابھی دو قدم ہی چلا تھا کہ پیچھے کا چکا ( پہیہ ) سلیپ کرکے اسی گڈھے میں چلا گیا اور میں خود كو سنبھالتے سنبھالتے " چپااااااااک " کرکے گڈھے کی نذر ہو گیا۔
گڈھے میں جمع ریت دار پانی کا کچھ حصہ میرے منہ میں بھی چلا گیا جس کی وجہ سے میرا موڈ کرکرا ہوگیا۔
کھڑنجے اور گڈھے کو کیا کہتا زبان سنبھال کر گھر لے گیا، دل کہہ رہا تھا کہ کوئی سامنے آجائے تو ساری نمکینیت اسی پر اتار دوں۔

8 لائك

0 پسندیدہ

6 مزہ آگیا

0 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2017.