؞   کیا بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر میں مارے گئے عاطف امین اور محمد ساجد دہشت گرد تھے ؟
۱۹ ستمبر/۲۰۱۷ کو پوسٹ کیا گیا
(تحریر: ذاکر حسین (سیدھا سلطان پور
بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی نویں برسی پر اس سانحہ کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ ایک بار پھر زور پکڑنے لگا ہے، لیکن حکومت کا عدالتی تحقیقات سے راہِ فرار نہ صرف ملک کے مسلمانوں بلکہ ملک کے انصاف پسند طبقوں کیلئے بھی باعث تشویش ہے۔ بٹلہ ہاؤس انکاؤ نٹر کو ملک کے مسلمانوں کے علاوہ دیگر طبقات کے انصاف پسند افراد غلط مانتے ہیں اور ان کی جانب سے مسلسل اس پولیس آپریشن کی جوڈیشیل انکوائری کا مطالبہ ہوتا آرہاہے۔لیکن ابھی تک حکومت کی جانب سے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی جوڈیشیل انکوائری کا کوئی واضح موقف پیش نہیں کیاجا سکا ہے، جس کی وجہ سے مسلمانوں اور انصاف پسند طبقوں میں غم و غصے کا احساس پایا جا رہاہے ۔
واضح رہے کہ 19 ستمبر2008میں دہلی کے جامعہ نگرمیں دہلی پولس نے سنجرپور کے دو مسلم نوجوان عاطف امین اور محمد ساجد کو مبینہ تنظیم سیمی کا رکن بتا کر ہلاک کر دیاتھا۔اس کے بعد سے حقوق علمبردار کی تنظیموں کی جانب سے اس پولس آپریشن کو لیکر مسلسل شک وشبہ کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔انکاؤنٹر میں ہلاک محمد ساجد کی انکاؤنٹرکے وقت عمر تقریباً14,15کے آس پاس تھی۔ مرحوم ساجد کی عمر کو دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ساجد نے اتنی کم عمر میں دہشت گردی کی دنیا سے کتنا واسطہ رہاہوگا۔
انکاؤنٹر سے متعلق ایسے بہت سے سوال ہیں ، جن کے جواب تلاش کرنے کی کوشش میں اس انکاؤنٹر کو لیکر ذہن میں بہت سے سوال گردش کرنے لگتے ہیں ۔ جیسے دہلی پولس کا کہنا تھا کہ جامعہ نگر کے L-18میں مقیم دہشت گردوں نے دروازہ کھولتے ہی پولس اہلکاروں پر گولیاں برسانے لگے ۔ اب سوال یہ ہے کہ اگردروازہ کھولتے ہی فلیٹ کے اندر سے گولیاں چلائی گیں تو آپریشن کی رہنمائی کر رہے موہن چند شرما کے پیچھے کیوں گولی لگی ؟ ہمارا ماننا ہے کہ موہن چند شرما کو عاطف امین اور محمد ساجد نے نہیں مارا ، بلکہ بھیڑ میں شامل پولس اہلکاروں میں سے ہی کسی نے موہن چند شرما پر گولی چلائی ۔
محمد ساجد مرحوم کے والد محترم اپنے نوجوان بیٹے کی موت پر رنج وغم کی چادر سے ایسا لپٹے کہ موت کے بعد بھی ان کے چہرے سے رنج و غم کااحساس ان کے عزیز اقارب کو مسلسل پریشان کرتارہا۔ان کے چہرے پر چھائی درد کی پرچھائیں جیسے ہر وقت یہی سوال پوچھتی ہو ں کہ ہمیں کب انصاف ملے گا؟ لیکن ان کاانتظارانتظار ہی رہا اور وہ بھی درد کے سایے میں جیتے جیتے زندگی سے ہار بیٹھے ۔شاید اپنے بیٹے کی اچانک موت سے وہ دنیا سے بیزار ہو گئے تھے یا پھر شاید انہیں اپنے بیٹے سے ملنے کی جلدی تھی ۔
بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر میں ہلاک عاطف امین کے والد محترم کے چہرے پر بھی اپنے جوان بیٹے کی موت کے درد کے سائے ہر وقت منڈلاتے نظر آتے ہیں ۔محترم امین مسلسل اپنے بیٹے کو انصاف دلانے کیلئے جدوجہد کی راہوں میں سرگرداں ہیں۔محترم امین کی دردناک کہانی کچھ یوں ہے کہ ان کا ایک بیٹابٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر میں میں زندگی کی دہلیز عبور کر موت کی وادیوں میں کہیں کھو گیا تو دوسرا بیٹابھی امسال دنیائے فانی سے کوچ کر گیاعاطف امین مرحوم اور محمد ساجد مرحوم کے اہل خانہ انکاؤنٹر کے بعد سے ہی احساسِ محرومی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
اب سوال یہ ہیکہ جناب امین صاحب محمد ساجد کے اہلِ خانہ کی احساسِ محرومی کا صلہ کون دے گا۔؟حکومت یاپھر دہلی پولس۔خیال رہے کہ آئین ہندکی مروجہ کرمنل پروسیجر کوڈ(ضابطہ مجموعہ فوجداری )کی دفعہ 176کے مطابق کسی بھی پولس ٹکراؤ کی مجسٹریٹ جانچ کروانا لازمی ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکوت مسلمانوں اور انصاف کا احترام نہ صحیح آئین ہند کا احترام کرتے ہوئے اس پولس آپریشن کی جانچ کرواتے ہوئے انکاؤنٹر سے جڑے شکوک و شبہات کو دور کرے ۔ اربابِ اقتدار کاکہنا ہے کہ بٹلہ ہاؤس انکاؤ نٹر کی جوڈیشیل انکوائری سے دہلی پولس کا مورل ڈاؤن ہوگا ۔
جنابِ عالی گستاخی معاف ہو مٹھی بھر پولس کے مورل ڈاؤن کے چکرمیں ملک کے کروڑوں مسلمانوں اور لاکھوں انصاف کے متلاشی لوگوں کے مورل کو آپ کچل رہے ہیں۔بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی جوڈیشیل انکوائری کی مانگ اور اس معاملے میں انصاف کی مانگ کر رہے انصاف پسند لیڈران اور کارکنان قابلِ مبارکباد ہیں کہ مسلسل ان کی جانب سے بلا خوف حکومت سے جوڈیشیل انکوائری کا مطالبہ کیا جا رہاہے ۔
بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر نہ صرف ایک انکاؤنٹر نہیں تھا بلکہ یہ حادثہ آزاد ہندوستان کی تاریخ کا سب سے بد ترین دن تھا جب دہلی پولس نے اعظم گڑھ کے د ونوجوانوں کو آئین اور حقوق انسانی کی تمام حدود کو عبور کرتے ہوئے قتل کر دیاتھا۔انکاؤنٹر میں ہلاک محمد ساجد کے بارے میں کہاکہ جاتا ہے کہ وہ ایک نا بالغ لڑکا تھا اورانکاؤنٹر سے قبل وہ اعظم گڑھ کے اپنے آبائی وطن سنجر پور میں رسوئی گیس بھرنے کی دوکان چلایا کرتا تھااور میڈیانے اسی سے جوڑ کر اسے بغیر کسی تحقیق کے بم بنانے کا ماہر بتا دیاتھا۔حالانکہ انکاؤنٹر میں ہلاکت کے وقت ساجد کی عمر 13،14تھی ۔اب اس بات پرر ٖغور کرنے کی ضروت ہے کہ ایک تیرہ ، چودہ سال کے بچے کو بم بنانے کی اتنی مہارت کہاں سے حاصل ہوئی ہوگی ؟
انکاؤنٹر کے بعد گرفتاریوں کا لامتناہی سلسلہ چلا، جس میں سنجر پورکے محمد سیف ، اعظم گڑھ کے محمد شہزاد ، موضع بینا پارہ سے مفتی ابوالبشر سمیت انگنت تعلیم یافتہ مسلم نوجوان جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دئیے گیا ۔بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے بعد پولس کی گرفت میں آئے خالص پور کے شہزاد احمد کو دہلی کی نچلی عدالت ساکیت کورٹ نے عمر قید کی سزا سنا ئی ہے ۔ حالانکہ شہزاد احمد کے معاملے میں ایسے بہت سے شواہد ہیں ، جو شہزاد احمد کی عمر قید کی سزا پر بہت سے سوال اٹھاتے ہیں ۔
جس دن ساکیت کورٹ میں شہزاد کی مقدمے کی سماعت ہورہی تھی تو شہزاد احمد نے ساکیت کورٹ سے مانگ کرتے ہوئے کہا تھا کہ فاضل جج ایک بار L-18 کادورہ کر کے وہاں کا جائز لے لیں کہ کیا اس عمارت کی ا وپری منزل سے کوئی چلانگ لگا کر زندہ بچ سکتا ہے ؟ لیکن ساکیت کورٹ نے شہزادا حمد کی مانگ کو رد کرتے ہوئے اسے عمر قید کی سزا سنا دی تھی ۔
واضح رہے کہ جامعہ نگر میں واقع L-18چار منزلہ عمارت ہے اور جس فلیٹ سے کود کر بھاگنے کا الزام ہے وہ عمارت کی چوتھی منزل ہے ۔ اب غو کرنے والی بات ہے کہ اگر کوئی شخص چار منزلہ عمارت سے کودتا ہے تو وہ کیسے زندہ بچ سکتا ہے ؟ حکومت کو چاہئے کہ اس انکاؤنٹر کی عدالتی تحقیقات کروائے ، تاکہ اس انکاؤنٹر کو لے کر ملک کے مسلمانوں اور انصاف پسند طبقوں میں جو شکوک و شبہات پائے جا رہے ہیں ۔ اس کا خاتمہ کیا جاسکے اور انصاف مل سکے۔

9 لائك

0 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

6 افسوس

0 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2017.