؞   جب بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹرہوا تھا۔۔۔
۱۷ ستمبر/۲۰۱۷ کو پوسٹ کیا گیا
(محمد اشرف (سرائے میر اعظم گڑھ
19 ستمبر 2008 کو دہلی کے جامعہ نگر علاقہ کے بٹلہ ہاؤس L 18 میں دہلی پولس نے اعلی تعلیم حاصل کر رہے سنجرپور کے دو نوجوانوں کو گولی مار کرشہید کر دیا تھا۔جس کو ہر ذی عقل فرضی جانتا ہے اور ہمیشہ فرضی مانتا رہے گا۔رمضان کا مہینہ تھا۔عید قریب تھی بازاروں میں عد کی خریداریاں زوروں پر ہو رہی تھیں۔ مگر کسی کو کیا پتا تھا کہ جس چیز کی ہم تیاری کر رہے ہیں کچھ ہی پلوں میں سب دھری کے دھری رہ جائیگی۔
میڈیا کے زریعہ خبر ملتی ہے کہ دہلی میں سنجر پور کے دو نوجوان دہشت گردی کے الزام میں شہید کر دیئے گئے ۔پھر کیا تھا ہر طرف ماتم ہی ماتم نظر آنے لگا۔ سنجر پور اور آس پاس کے علاقوں میں خفیہ ایجنسیوں و پولس کی گاڑیاں نظر آنیں لگیں،الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا ہجوم نظر آتا اور تسلی دینے والوں کا جم غفیربھی نظر آتا۔لوگوں کے دلوں میں ایک عجیب ڈر و خوف کا عالم ایسا پیدا ہوا تھا کہ بیان کر پانا مشکل ہے۔ہر طرف خاموشی ہی خاموشی۔عصر سے پہلے بازاریں سڑکیں و گاؤں ویران ہو جاتے۔ ہر کوئی سنجر پور کو اپنا کہنے سے ڈرتا تھا۔تمام مسلم لیڈران،ملی جماعتیں و مسیحائی کا دم بھرنے والے خاموش تھے،کسی نے بھی مدد کرنے اسکے خلاف آواز بلند کرنے یااعظم گڑہ کے دکھ درد کو اعلی لیڈران و حکومت تک پہونچانے کی ہمت نہیں کی۔
اسی بیچ پورے اعظم گڑھ کو دہشت گردی کی نرسری و آتنک گڑھ سے مشہور کردیا گیا۔اعظم گڑھ کے شہری ہونے کی وجہ سے دوسری جگہ تعلیم حاصل کر رہے طلبہ اور سروس کر رہے لوگوں کوکرائے کا مکان ملنا دور رشتہ دار بھی پناہ دینے سے گریز کرنے لگے۔ یہاں کے درجنوں نوجوانوں کی لسٹ بنا کر گرفتار کیا جانے لگا۔اس کے پیچھے حکومت و خفیہ ایجینسیوں کا اصل مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو علمی، سماجی اور معاشی ہر سطح پر کمزور کیا جائے۔مگر اعظم گڑھ کے باحوصلہ لوگوں نے حکومت کے اس منصوبہ کو پوری طرح سے ناکام بنانے کی کوشش کی اور لوگوں کے باہمی اتحاد سے 'علماء کونسل' نامی ایک تنظیم کابھی وجود ہوا ۔ سب نے ایک آواز میں لبیک کہتے ہوئے انصاف کی آواز بلند کی ا ور کہا کہ یہ انکاؤنٹر فرضی ہے ، ہمارے بچے آتنک وادی نہیں۔ضلع اعظم گڑھ علماء کرام،دانشوروں،ادیبوں،شاعروں اور انصاف پسندوں کا ضلع ہے نہ کہ دہشت گردوں کا۔
مگر افسوس آج تک انصاف نہ مل سکا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ انکاؤنٹر فرضی ہے۔گولی سر کے اوپری حصہ میں لگی ہے جب کی انکاؤنٹر میں گولی سامنے لگے گی۔ آخر ہمیں انصاف ملے گا کب؟ کب ہوگی اس فرضی انکاؤنٹر کی جانچ؟
آج اس سانحہ کو ہوئے 9 سال ہو رہے ہیں۔اہل خانہ کے آنسوں خشک ہو چکے ہیں۔لوگوں نے انصاف کی امیدوں سے منھ موڑ لیا ہے ۔مگر یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ جیت حق و سچائی کی ہی ہوتی ہے۔ہمیں ناامید ہوکر بیٹھنا نہیں چاہئے۔قران کی ایک آیت ہے جس کا ترجمہ ہے کہ "نا امیدی کفر ہے"۔اس لئے اس کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کرتے رہنا چائے جو ہمارا آئینی حق بھی ہے۔
19 ستمبر کو فرضی انکاؤنٹر کی نویں برسی ہے۔راشٹریہ علماء کونسل ہر سال احتجاج کرتی ہے اور اس دفعہ بھی ہندوستان کے مختلف حصوں میں احتجاج کا اعلان کیا ہے اس موقعہ پر ہمیں چاہیئے کہ ہم اس فرضی انکاؤنٹر کے خلاف مل کر احتجاج کریں۔اور یہ احتجاج اس وقت تک جاری رکھںس جب تک ہمیں انصاف نہ مل جائے،ہم پر اور ہمارے اوپر لگے دہشت گردی کا داغ مٹ نا جائے۔
آج مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہے۔"سب کا ساتھ سب کا وکاس" کے نعرہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے موجودہ جج کی نگرانی میں اس انکاؤنٹر کی جانچ ہو جس میں اعظم گڑھ کے دو نوجوان عاطف امین اور محمد ساجد کے ساتھ پولس انسپکٹر ایم سی شرما بھی شہید ہوئے ہیں اور درجنوں گرفتار کئے گئے ہیں۔تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہواور ہمیں انصاف ملے۔

5 لائك

0 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

1 افسوس

0 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2017.